بہار: مدرسہ جدیدکاری پروگرام ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار میں مدرسہ تعلیم کو جدید تعلیم سے منسلک کرنے والا مدرسہ جدید کاری پروگرام اب تک ناکام ثا بت ہوا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس پروگرام کے تحت تمام مدرسوں میں کمپیوٹر اور سائنس کی تعلیم کو یقینی بنایا جانا تھا لیکن ریاست کے 1119 سرکاری مدرسوں میں سے ایک درجن مدرسوں میں بھی کمپیوٹر اور دیگر سائنسی آلات فراہم نہیں کیئے جا سکے۔ ریاست کے وزیر تعلیم ورشن پٹیل بھی اس پروگرام کے ناکام ہونے کی بات قبول کرتے ہیں لیکن اسکے لیئے وہ ریاست کی سابقہ حکومت اور مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان مدرسوں کے سینکڑوں سائنس ٹیچروں کو گزشتہ کئی برسوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ حکومت نے ’مدرسہ جدیدکاری پروگرام کے تحت سینکڑوں سائنس ٹیچروں کی تعیناتی کی تھی۔ اسکے علاوہ اس پروگرام کے تحت تمام سرکاری مدرسوں میں کمپیوٹر فراہم کر نا تھے۔لیکن لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس سمت میں بمشکل ہی کوئی کارروائی ہو سکی ہے۔ مدرسہ جدیدکاری پروگرام اقلیتوں کے بہبود کے لیئے چلائے جانے والے اس پندرہ نکاتی پروگرام کا حصہ ہے جسے 1983 میں مرکزی حکومت نے شروع کیا تھااور اسکے بعد 1985 میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسے ملک گیر پیمانے پر لاگو کرنےکا عزم کیا تھا۔ گزشتہ جون کے آخری ہفتہ میں مرکزی حکومت کے ذریعہ پندرہ نکاتی پروگرام کے لیئے کل 15 فی صد رقم مختص کرنے اور اسکے دائرہ کار کواور بہار ریاستی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین واحد انصاری کا کہنا ہے کہ اعلی افسران کی لا پرواہی کے سبب گزشتہ کئی برسوں سے مدرسہ جدیدکاری پروگرام موثر طور پر لاگو نہیں کیا جا سکا۔ واحد انصاری کے مطابق مر کزی حکومت اس پروگرام کے لیئے رو پے فراہم کرتی ہے لیکن اسکا استعمال نہیں کیا جاتا۔ ا س پروگرام کے تحت سرکاری مدرسوں کے لیئے ایک ایک سائنس ٹیچر کی تعیناتی بھی کی گئی تھی لیکن وہ بھی اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ آل بہار مدرسہ سائنس ٹیچر ایسوسی ایشن کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ریاست کی سابقہ حکومت نےمدرسہ ٹیچروں کے معاملے کو لٹکائے رکھا۔ جسکی وجہ سے سینکڑوںٹیچروں کی تنخواہیں ملنا بند ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ شروع کے کچھ مہینوں تک تنخواہیں ملنے کے بعد اچانک روک دئیے جانے سے ٹیچروں کوکافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آل بہار مدرسہ سائنس ٹیچر ایسوسی ایشن نےاسکے لیئے کئی بار مظاہرہ بھی کیا ہے۔ اس بار پھر ایسوسی ایشن کے ارکان نے وزیر تعلیم پرڈالناشروع کر دیا ہے۔ ریاست کے وزیر تعلیم ورشن پٹیل اس پروگرام کی نا کامی کے لیئے مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ مرکزی حکومت کو ان تنخواہوں کی ادائگی کرنی تھی لیکن اس نے پیسے دینے بند کر دیئے ۔ اس لیئے تنخواہیں نھیں دی جا سکیں‘ ۔ حالانکہ وہ اس کے لیئے ریاست کی سابقہ حکومت کو بھی ذمہ دار قرردیتے ہیں جس نے بقول ان کے اس پروگرام پر توجہ نہیں دی۔ مسٹر پٹیل نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے تاکہ مدرسہ ٹیچروں کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔ انھوں نے کہا ’ہم مرکزی حکومت کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘ | اسی بارے میں تامل ناڈو میں اردو زبان 22 September, 2005 | انڈیا طلباء میں جنسی تعلیم میں دلچسپی 18 May, 2006 | انڈیا بھارت: تعلیم غریب بچوں کی دسترس سے باہر08 May, 2006 | انڈیا بھارت: بچیوں کی تعلیم مفت 22 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||