تامل ناڈو میں اردو زبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست تامل ناڈو ہندو مذہب اور اپنی مخصوص علاقائی ثقافت کا ایک بہت اہم مرکز ہے۔ یہاں کی بیشتر مسلم آبادی بھی مقامی ثقافت اور کلچر کا حصہ ہے لیکن ریاست کے مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کی مادری زبان اردو ہے اور جو اردو کو ہی اپنی تہذیب اور مذہبی شناخت کا ذریعہ مانتا ہے۔ مدراس جسے اب چینئی کہتے ہیں اردو کا ایک باقاعدہ اخبار ’روزنامہ مسلمان‘ سن انیس سو ستائیس سے شائع ہورہا ہے۔ اخبار کے ناشر سید فضل اللہ کہتے ہیں کہ یہ ملک کا سب سے پرانا اخبار ہے یہ اخبار چینئی اور اس کے اطراف میں اردو بولنے والے تامل مسلمانوں کی ضرورت پورا کرتا ہے۔
اخبار کے مدیر عثمان غنی کہتے ہیں کہ چینئی اور اسکے اطراف میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی گھروں میں اردو ہی بولتی ہے چونکہ تعلیم کا ذریعہ تامل ہے اس لیے تامل تو سب ہی جانتے ہیں لیکن اردو مادری زبان ہے اور تہذیبی و ثقافتی اظہار کا ذریعہ بھی۔ لیکن ریاست کے اندرونی اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کا اردو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بہت سے تجزیہ نگار اور دانشور اردو بولنے والوں کو’سیاسی یتیم‘ قرار دیتے
تجـزیہ نگار پیرمحمد بتاتے ہیں کہ اردو کے ابتدائی نقوش مغل بادشاہ اورنگ زیب کے زمانےمیں اس وقت یہاں آئے جب مغل جنرل ملک کافور نے اس پورے خطے پر قبضہ کیا۔ اس وقت سے ہی اردو کے اثرات مدراس سے مدروائی تک پھیل گئے اور ارکاٹ کے نوابوں کے دور میں اسے فروغ ملا۔ اردو بولنے والے مسلمان تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے عموما پسماندگی کا شکار ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا ذریعہ معاش تجارت اور چوٹا موٹا کاروبار ہے۔ تامل بولنے والے مسلمان اور اردو بولنے والے مسلمانوں کے درمیان سماجی روابط برائے نام ہیں اور ایک دوسرے سےشادی بیاہ بھی نہیں ہوتا۔ اردو بولنے والے مسلمان اپنی زبان کو اکثر مذہبی شناخت سے تعبیر کرتے ہیں۔
پیرمحمد بتاتے ہیں کہ ’اردو بولنے والے مسلمان، تامل بولنے والے مسلمانوں کو اچھا اور پورا مسلم نہیں مانتے‘۔ اس کے جواب میں تامل بولنے والے مسلمان ان سے پوچھتے ہیں کہ ’ کیا پیغمبر اسلام اردو بولتے تھے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||