BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 September, 2005, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تامل ناڈو میں اردو زبان

روزنامہ مسلمان
روزنامہ مسلمان مسلسل سن انیس سو ستائیس سے بلا ناغہ آج تک شائع ہوتا رہا ہے۔
بھارت کی ریاست تامل ناڈو ہندو مذہب اور اپنی مخصوص علاقائی ثقافت کا ایک بہت اہم مرکز ہے۔ یہاں کی بیشتر مسلم آبادی بھی مقامی ثقافت اور کلچر کا حصہ ہے لیکن ریاست کے مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کی مادری زبان اردو ہے اور جو اردو کو ہی اپنی تہذیب اور مذہبی شناخت کا ذریعہ مانتا ہے۔

مدراس جسے اب چینئی کہتے ہیں اردو کا ایک باقاعدہ اخبار ’روزنامہ مسلمان‘ سن انیس سو ستائیس سے شائع ہورہا ہے۔

اخبار کے ناشر سید فضل اللہ کہتے ہیں کہ یہ ملک کا سب سے پرانا اخبار ہے
جو سن انیس سو ستائیس سے بلا ناغہ آج تک شائع ہوتا رہا ہے۔

یہ اخبار چینئی اور اس کے اطراف میں اردو بولنے والے تامل مسلمانوں کی ضرورت پورا کرتا ہے۔

اخبار کے ایڈیٹر
اخبار کےمدیر عثمان غنی کہتے ہیں کہ چینئی اور اسکے اطراف میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی گھروں میں اردو ہی بولتی ہے

اخبار کے مدیر عثمان غنی کہتے ہیں کہ چینئی اور اسکے اطراف میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی گھروں میں اردو ہی بولتی ہے چونکہ تعلیم کا ذریعہ تامل ہے اس لیے تامل تو سب ہی جانتے ہیں لیکن اردو مادری زبان ہے اور تہذیبی و ثقافتی اظہار کا ذریعہ بھی۔

لیکن ریاست کے اندرونی اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کا اردو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بہت سے تجزیہ نگار اور دانشور اردو بولنے والوں کو’سیاسی یتیم‘ قرار دیتے
ہیں جو بقول انکے پسماندگی کا شکار ہیں۔

اردو کا حال
 بہت سے تجزیہ نگار اور دانشور اردو بولنے والوں کو’سیاسی یتیم‘ قرار دیتے ہیں

تجـزیہ نگار پیرمحمد بتاتے ہیں کہ اردو کے ابتدائی نقوش مغل بادشاہ اورنگ زیب کے زمانےمیں اس وقت یہاں آئے جب مغل جنرل ملک کافور نے اس پورے خطے پر قبضہ کیا۔ اس وقت سے ہی اردو کے اثرات مدراس سے مدروائی تک پھیل گئے اور ارکاٹ کے نوابوں کے دور میں اسے فروغ ملا۔

اردو بولنے والے مسلمان تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے عموما پسماندگی کا شکار ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا ذریعہ معاش تجارت اور چوٹا موٹا کاروبار ہے۔

تامل بولنے والے مسلمان اور اردو بولنے والے مسلمانوں کے درمیان سماجی روابط برائے نام ہیں اور ایک دوسرے سےشادی بیاہ بھی نہیں ہوتا۔

اردو بولنے والے مسلمان اپنی زبان کو اکثر مذہبی شناخت سے تعبیر کرتے ہیں۔

اردو زبان
 تامل بولنے والے مسلمان اور اردو بولنے والے مسلمانوں کے درمیان سماجی روابط برائے نام ہیں اور ایک دوسرے سے شادی بیاہ بھی نہیں ہوتا۔

پیرمحمد بتاتے ہیں کہ ’اردو بولنے والے مسلمان، تامل بولنے والے مسلمانوں کو اچھا اور پورا مسلم نہیں مانتے‘۔

اس کے جواب میں تامل بولنے والے مسلمان ان سے پوچھتے ہیں کہ ’ کیا پیغمبر اسلام اردو بولتے تھے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد