راولپنڈی: اخبار کے دفتر پر چھاپہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر راولپنڈی سے شروع ہونے والے ایک اردو روزنامہ’اسلام آباد ٹائمز‘ نامی اخبار کے پریس پر پولیس نے منگل کو چھاپہ مارکر اخبار کی اشاعت رکوادی اور پرنٹر کو حراست میں لے لیا۔ پولیس حکام چھاپے کی وجہ بتانے سے گریزاں ہیں جبکہ وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ اخبار کے ایڈیٹر مسعود ملک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ گزشتہ مئی میں انہوں نے راولپنڈی سے اس اخبار کی اشاعت کا اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ ان کے مطابق چند دن قبل انہیں راولپنڈی کے ضلعی رابطہ افسر نے خط لکھ کر کہا کہ اخبار شائع کریں ورنہ اجازت نامہ منسوخ کردیا جائے گا۔ ایڈیٹر نے کہا کہ ایسا خط موصول ہونے کے بعد انہوں نے چھ ستمبر سے اخبار مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اخبار کی مشقیہ کاپی یعنی ڈمی شائع کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے شام گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کی صبح گوالمنڈی میں واقع ’ٹی ایس پرنٹرز‘ میں جب ان کا اخبار شائع ہورہا تھا تو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار آئے اور اشاعت روکنےکا کہا۔ ایڈیٹر کے مطابق جب پرنٹر ملک عبدالعزیز نے ان سے وجہ پوچھی اور تحریری حکم طلب کیا تو اہلکار واپس چلے گئے اور کچھ دیر بعد تھانہ سٹی کے انچارج پولس افسر کے ہمراہ واپس آئے اور اشاعت رکوادی۔ پولیس حکام پرنٹر، ان کے بیٹے اور دو مزدوروں کو پکڑ کر اخبار کی اشاعت کا تمام سامان بھی اٹھا کر لے گئے۔ ایڈیٹر کے مطابق پولیس نے انہیں بتایا کہ ’اوپر‘ سے حکم ملنے پر یہ کاروائی ہوئی ہے۔ چھاپے کی وجہ کے متعلق مسعود ملک نے بتایا کہ ایک سخت سوال تھا جو انہوں نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف سے کیا تھا اور اس وقت سے زیر عتاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آگرہ سے واپسی پر اسلام آباد میں صدر نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور ان سے انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے منتخب حکمران بھارت مذاکرات کے لیے جاتے ہیں تو کچھ نہ کچھ حاصل کرتے ہیں لیکن فوجی حکمران ناکام لوٹتے ہیں؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||