کیااخبار صرف بالغوں کیلیے ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نےاخبارات میں نیم عریاں تصاویر اور ہیجان انگیز مواد شائع کرنے پرمرکزی حکومت، خبر رساں ایجینسیز اور کچھ اخبارت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ مفاد عامہ کی ایک عذر داری میں عدالت سے ایسے اصول وضوابط وضع کرنے کی گزارش کی گئی تھی جس سے بچوں کو فحش مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اجےگو سوامی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اخبارات کا مواد اور اس کی تصاویر بچوں کے لیے بھی درست ہیں یا انہیں صرف بالغ ہی پڑھ سکتے ہیں اور اس کی درجہ بندی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبارت اپنا دائرہ بڑھانے کے لیے ایسا مواد شائع کرتے ہیں جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ مسٹر گو سوامی نے کہا تھا کہ’ مزاحیہ ایس ایم ایس، جنسی موضوعات، سیکس ایجوکیشن، فلم اور جنسی میگزین کے حوالے سے بعض اخبارات میں ہیجان انگیز باتیں لکھی جاتی ہیں اور نیم عریاں تصویریں شائع ہوتی ہیں‘۔ درخواست گزار نے کہا تھا کہ حکومت اور پریس کونسل آف انڈیا اس سلسلے میں کوئی اصول وضع کرنے سے قاصر رہی ہے جبکہ بچوں کو فوری طور پر ان کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں حکومت، نیوز ایجنسی پی ٹی آئی، یو این آئي اور اخبار ہندوستان ٹائمز اور ٹائمز آف انڈیا کو نوٹس جاری کیا ہے۔ بعض اخبارات نے زیادہ سرکولیشن کے حصول کے لیے فلم اور دیگر ثقافتی پروگراموں کے نام پر ایک الگ ایڈیشن شروع کیا تھا جس میں زیادہ تر مغربی ممالک کے ادکاراؤں کی نیم برہنہ تصویریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ جنسیات کے حوالے سے ہیجان انگیز تحریریں ہوتی ہیں۔ ان میں فلمی پارٹیوں اور فیشن کا ہی زیادہ ذکر ہوتا ہے۔ حالات حاضرہ پر مضامین و بحث ومباحثے لکھنے کے بجائے یہ ایک نئی طرز کی کوشش ہے۔ ابتداء میں ان اخبارات نے لوگوں کی توجہ بھی اپنی طرف کھینچی تھی لیکن ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے طبقے کو معلوم ہے کہ یہ رجحان زیاد مقبول نہیں ہے اور نہ ہی زیادہ چلنے والا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||