بہار میں ڈاک ٹکٹوں کی قلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں آج کل ڈاکخانوں میں ڈاک ٹکٹوں کے لیئے لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ پٹنہ میں ٹکٹ کی فراہمی کے لیے زائد کاؤنٹر لگائے گئے ہیں۔ ڈاک ٹکٹوں کی زبردست مانگ کی وجہ ریاستی حکومت کا تقریباً سوا دو لاکھ اساتذہ کو نوکری دینے کا اعلان ہے۔ ریاستی حکومت پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں پانچ سے سات ہزار روپے کی تنخواہ پر اساتذہ کا تقرر کر رہی ہے۔ تنخواہ کی رقم قدرے کم ہونے کے باوجود بہار کے علاوہ یوپی سے بھی بے روزگار نوجوان نوکری کے حصول کے لیئے کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ تمام امیدواروں کو جوابی پوسٹ کے لیئے درخواست کے ساتھ ڈاک ٹکٹ لگے دو لفافے جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ امیدوار دونوں لفافوں پر پانچ روپے کے ٹکٹ لگا رہے ہیں جہاں پانچ روپے کے ٹکٹ نہیں مل رہے وہاں چھ روپے کے ٹکٹ بھی چسپاں کیے جارہے ہیں۔
مظفر پور کے ہیڈ پوسٹ آفس سے صرف جمعہ کو آٹھ لاکھ روپے کے ڈاک ٹکٹ خریدے گئے۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے ڈاک ٹکٹوں کے لیئے ہنگامہ آرائی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ بعض مقامات سے ڈاک ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کی شکایت بھی ملی ہے۔ بہار پوسٹل سرکل کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل کملیشور پرساد کا کہنا ہے کہ درخواست دینے والوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے کچھ اضلاع اور شہری علاقوں کے چھوٹے ڈاک خانوں میں ڈاک ٹکٹوں کی قلت ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پیر سے ایسی شکایت نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ذریعہ مشتہر خالی عہدوں کے لیئے درخواست دہندگان کئی جگہوں سے درخواست جمع کروا رہے ہیں اس لیئے بھی ڈاک ٹکٹوں کی طلب میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ان کے دفتر نے مختلف اضلاع کے ڈاک خانوں کو ڈاک ٹکٹوں کی فراہمی کو آسان بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ | اسی بارے میں بہار: ڈاک خانوں میں چائے اور کنڈوم01 April, 2006 | انڈیا انڈیا: سیاسی کردار کے متلاشی نوجوان24 April, 2004 | انڈیا فربہ ملازموں کی نوکری خطرے میں15 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||