شہد بیچنے والی بہار کی سٹار گرل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار کے شمالی ضلع مظفرپور سے متصل ایک چھوٹے سے گاؤں پٹیاسا جالان بوچہاں کی ایک اٹھارہ سالہ لڑکی انیتا کشواہا کو اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے ’سٹار گرل‘ منتخب کیا ہے۔ درمیانے قد کی اس لڑکی پر ’گوئنگ ٹو سکول‘ نامی ایک تنظیم نے دستاویزی فلم بھی بنائی ہے اور اس کی زندگی کی کہانی پر ایک کتاب بھی لکھی گئی ہے۔ انیتا گریجویشن کی طالبہ ہیں اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے شہد کی مکھیاں پالی ہوئی ہیں، جن سے حاصل ہونے والے شہد کو وہ بازار میں فروخت کرتی ہیں۔ یونیسیف کے نمائندہ انوپم شریواستو نے بتایا کہ انیتا کا تعلق بے حد غریب گھر سے ہے۔انوپم کے مطابق گاؤں میں رہ کر تعلیم اور کاوربار میں انیتا کی کامیابی ان کے ادارے کی نظر میں ایک مثالی کارنامہ ہے۔ اسی لیے یونیسیف کے کیلنڈر پر انیتا کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انیتا کی کہانی پر مبنی فلم کو زیر تعلیم لڑکیوں میں تعلیمی اور کاروباری رجحانات کو بیک وقت پروان چھڑھانے کے لیے استعمال کیا جاۓ گا۔ انیتا نے تعلیم حاصل کرنے کی شروعات بکریاں چرانے کے دوارن اپنے طور پر کی اور کافی محنت کر کے میٹرک تک تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد مظفر پور کے مہنت درشن داس مہیلا کالج میں داخلہ لیا۔ کالج جانے کے لیے چودہ کلومیٹر کی مسافت انیتا سائیکل کے ذریعے طے کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھائی۔ انیتا کو درخت، پھولوں اور چڑیوں سے بہت پیار ہے۔ | اسی بارے میں بہار: کھادی کی صنعت بچانے کی کوششیں25 January, 2007 | انڈیا بہار، سردی سے سو لوگ ہلاک06 January, 2007 | انڈیا ’سرمایہ کاری کے لیئے ہرممکن اقدام‘27 September, 2006 | انڈیا بچے پھینکنے کے 20 روپے25 August, 2006 | انڈیا یونیسف کا پوسٹر تنازعے کا شکار24 November, 2006 | انڈیا بہار کی گڑیا لندن جارہی ہے12 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||