سیپ کی سو سال پرانی صنعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار کے مشرقی چمپارن ضلع کا ایک چھوٹا سا قصبہ مہسی پورے ملک میں سیپ کی صنعت میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ پہلے یہاں صرف سیپ کے بٹن بنائے جاتے تھے تاہم اب یہاں بٹنوں کے علاوہ ہار، چوڑی، کلپ اور تزئین و آرائش کا دیگر سامان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں بہار میں نہ معلوم کتنی چھوٹی چھوٹی صنعتوں نے دم توڑ دیا لیکن مہسی میں سیپ کی صنعت سو سال سے بھی پرانی ہے اور اب بھی ہزاروں لوگوں کا ذریعۂ معاش ہے۔ مشرقی ضلع کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق سنہ انیس سو پانچ میں ایک اسکول سب انسپکٹر بھولاون لال نے مہسی میں سیپ کی صنعت کی بنیاد ڈالی تھی اور بھولاون لال کی کوششوں سے مہسی میں پہلی فیکٹری سنہ انیس سو آٹھ میں قائم کی گئی تھی۔ مہسی میں داخل ہوتے ہی ہر جگہ سیپ کے ڈھیر مل جاتے ہیں۔ بزرگ خواتین ہوں یا کم عمر بچے سب کسی نہ کسی شکل میں اس صنعت سے منسلک مل جاتے ہیں۔
دراصل سیپ کو پلائرز کی مدد سے دو حصوں میں الگ کرنے کے لیے کسی مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ اسے مشین اور ہاتھ کی مدد سے گھس کر مطلوبہ شکل دینے کے لیے ہنرمندی لازمی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں سیپ کے بنے سامان کی نمائش کرنے والے محمد طیب بتاتے ہیں کہ ممبئی، دلی اور کولکتہ میں مہسی کے سیپ بٹن کافی مقبول ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض دوسرے شہروں میں بھی مہسی کے سیپ بٹن اور دوسری آرائشی چیزیں مثلاً کف لنکس وغیرہ خریدے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ بین الاقوامی بازار میں برآمد کیے جانے والے ملبوسات میں بھی مہسی کی سیپ کا سامان کا استعمال ہوتا ہے۔ مہسی سیپ ترقیاتی ادارے کے سربراہ علاؤالدین انصاری کا کہنا ہے کہ اس صنعت میں تین طبقے کے لوگ منسلک ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو سکرہنا اور دوسری قریبی ندیوں سے زندہ سیپ چنتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ہندوؤں کی نچلی ذات مسہر برادی کے لوگ ہوتے ہیں۔ دوسرا طبقہ ان سیپیوں کی گھسائی اور ان کو توڑ کر سامان تیار کرنے کا کام کرتا جن میں بیشتر مسلمان ہیں جبکہ تیسرا طبقہ کاروباریوں کا ہے جو یہ تیار شدہ
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کا بچہ جب سو کر اٹھتا ہے تو اس کی پہلی نظر یہاں کے سیپ پر جاتی ہے۔ علاؤالدین کا کہنا ہے کہ کسی زمانے میں مہسی اور قریبی دیہات کے قریباً دس ہزار لوگ اس صنعت سے اپنا پیٹ پال رہے تھے لیکن آج ان کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ اس وقت مہسی میں سیپ کی صنعت کی پندرہ بڑی فیکٹریاں قائم ہیں جبکہ اس کے علاوہ قریباً پانچ سوگھروں میں یہ کام چھوٹے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ سیپ سے تیار ہونے والے سامان کے کارخانے اگرچہ زیادہ تر مسلمانوں کے ہیں جبکہ ان کارخانوں میں تیار ہونے والے سامان کی تجارت زیادہ تر غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہے۔ علاؤالدین انصاری نے بتایا کہ انیس سو ستر کے عشرے میں نائلون کے بٹنوں کے فیشن کے بعد سیپ کے بٹن کی طلب کم ہوگئی اور پھر بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے بھی اس صنعت کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے مقامی لوگوں نے بٹنوں کے علاوہ دیگر سامان بھی تیار کرنا شروع کیا اور عام کپڑوں کے علاوہ جوتوں، نقاب اور پرس وغیرہ میں بھی سیپ سے بنے سامان کا استعمال شروع ہوا۔ یہاں کام کرنے والوں کے لیے وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ جتنا کام کرو اتنی اجرت ملتی ہے۔ کوئی گھنٹے بھر کی محنت سے بیس روپے کماتا ہے تو کوئی دن بھر میں سو سے سوا سو روپے بھی کما لیتا ہے۔ سو سال پرانی صنعت میں ان لوگوں کی محنت سے دوسروں کے چہرے اور لباس تو خوبصورت بن رہے ہیں لیکن خود کاریگروں اور صنعت کاروں کی زندگی میں بہت زیادہ چمک نہیں۔ علاؤالدین انصاری کہتے ہیں کہ اس کی وجہ دلالی ہے۔ ان کے مطابق مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کے خریدار اس صنعت کی وجہ سے مالا مال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’جو سامان وہ یہاں کے لوگوں سے دس روپے میں خریدتے ہیں اسے وہ بڑے شہروں میں پچاس روپے میں بیچتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ سیپ کی صنعت سے متعلق افراد میں بہت زیادہ دولت و ثروت دیکھنے کو بھلے ہی نہ ملے تاہم کم سے کم یہاں کے لوگ اپنے گھروں میں مل جاتے ہیں۔ اگر یہ صنعت نہ ہوتی تو زیادہ تر لوگ پنجاب، ہریانہ اور آسام میں مزدوری کر رہے ہوتے۔ | اسی بارے میں بہار نجکاری کے راستے پر01 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||