بہار: تفریح کے ذریعے ٹیکس اصولی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اجت جئے تو، سہرت جئے تو ہوبے تو بدنام دے دے ہمر ٹیکس نہ تا ہوتئی گھر نیلام‘ پٹنہ کے مختلف علاقوں میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ٹیکس جمع کرنے کے لیے آجکل اسی طرح کے نعرے لگائے جا رہے ہیں ۔ پیغام بالکل واضح ہے کہ عزت جائے گی، شہرت بھی جائے گی اس لیے ہمارا ٹیکس بھر دو ورنہ گھر نیلام کر دیا جائے گا۔ اب یہ پتہ نہیں کہ گاندھی جی کو یہ طریقہ کتنا پسند ہوتا یا یہ عمل نئے فیشن کے مطابق گاندھی گیری کے ذمرے میں آئے گا یا نہیں مگر پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے ٹیکس وصولی کے لیے مذکورہ نعروں کو بلند کرنے کے لیے ہیجڑوں کی مدد لی ہے۔ کارپوریشن کے ذرائع کے کہنا کہ یہ مہم بھی ’لگے رہو منا بھائی‘ سے متاثر ہوکر تیار کی گئی ہے۔ کارپوریشن کا عملہ ٹیکس وصولی کے لیے ڈگڈگی اور ڈھول تماشے کے ساتھ گھروں پرگانا بجانا کرکے ٹیکس ادا کرنے کی تاکید کر رہے ہیں۔ اس مہم میں اگزیکیوٹیو افسر روی کانت تواری بھی شامل ہیں۔ کارپوریشن کے ریوینیو افسر بھرت شرما کے مطابق اس مہم کا پہلے دن ہی کافی فائدہ نظر آیا اور قریب چھ لاکھ روپئے کے ٹیکس وصولے گئے۔ مہم میں شامل ہیجڑے جب کارپوریشن کی ٹیم کے ساتھ نکلتے ہیں تو راہگیروں کی بھیڑ بھی انکے ساتھ لگ جاتی ہے۔ٹیکس وصولی والی جگہ پہنچتے ہی گانا شروع کر دیتے ہیں’ٹیکس بھرل کرا نئی تو ہوئتو بوال‘۔ دکان دار اور مالک مکان اس سے نجات پانےکے لیے یا تو فوراً ٹیکس ادا کر دیتے ہیں یا کچھ عرصے کی مہلت مانگتے ہیں۔ بہت سے دوکانداروں کو شکایت ہے کہ اس مہم سے انکی دوکانداری متاثر ہو رہی ہے۔ مسٹر شرما کہتے ہیں کہ حالانکہ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اس مہم سے انہیں ذلت جھیلنی پڑ رہی ہے مگر بقول شرما اس مہم کی منشاء کسی کو ٹینشن دینا نہیں۔ انکے مطابق اس مہم کا مقصد تفریح کے ذریعہ ٹیکس وصول کرنا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||