کنڈوم سےشرم مٹاؤ مہم کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کنڈوم کےخرید و فروخت میں حائل حجاب کو دور کرنےکی خاطر بہار کے بعض شہروں میں ایک مہم کا آغاز کیا جارہا ہے۔ اس مہم کے تحت کنڈوم کو دوکانوں کے پوشیدہ کونوں سے نکال کر بہتر ڈسپلے دینے والے دوکانداروں اور بلا جھجک اس مانع حمل سامان کو طلب کرنے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر پارٹنرشپ ون ( پی ایس پی ون) کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم کا نام ’کنڈوم بنداس بول‘ رکھا گیا ہے۔ یہ مہم ریاست کے مظفرپور، دربھنگہ، پورنیہ اور پانچ دیگر شہروں میں تین نومبر سے شروع ہوگی۔مظفرپور میں پی اسی پی ون کے نمائندہ کمار ویریش کے مطابق یہ مہم تین نومبر سے شروع ہوکر ایک ماہ تک چلے گی۔ پی ایس پی ون کے کنٹری ڈائریکٹر آنند وردھن سنہا کے مطابق مرد اب بھی کنڈوم کے بارے میں کھل کر اور بلا تکلف بات نہیں کرتے۔ ان کے مطابق کئی مطالعوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کنڈوم کے خریدار ہی نہیں، اسے بیچنے والے دوکاندار بھی شرماتے ہیں۔ پی ایس پی ون کے اعلانیہ کے مطابق اس مہم کا نشانہ بیس سے انتیس سال کے شادی شدہ مرد ہیں۔اس کے علاوہ اس مہم کا مقصد حمل اور ایڈز سے حفاظت بھی بتا یا گیا ہے۔یہ مہم بہار کے علاوہ جھارکھنڈ، یو پی اور بعض دوسری شمالی ریاستوں میں بھی شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت چند شہروں میں کنڈوم کا سب سے بہتر ڈسپلے کرنے والے دوکاندار کو موٹر سائیکل اور رنگین ٹیلویژن دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس طرح اس مہم کے دوران بلا تامل کنڈوم طلب کرنے والے چیدہ چیدہ خریداروں کو بھی انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ مہم صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کے علاوہ بین الاقوامی امداد کی امریکی ایجنسی یواسی ایڈ کی مدد سے شروع کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں برطانوی سپاہیوں کی مانگ09.04.2003 | صفحۂ اول بنارسی دریافت، کنڈوم کانیااستعمال30 July, 2004 | انڈیا بنارسی دریافت، کنڈوم کانیااستعمال30 July, 2004 | انڈیا بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ27 April, 2006 | انڈیا بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ27 April, 2006 | انڈیا کنڈومز کے استعمال کا رجحان04 December, 2004 | پاکستان کنڈومز کے استعمال کا رجحان04 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||