گیلانی، بیرون ملک جانے کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے معمر علیحدگی پسند راہنما سید علی شاہ گیلانی کو ستائیس سال بعد بیرون ہند جانے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے۔ علی گیلانی گردے کے عارضے کی وجہ سے نئی دلّی کے اپولو ہسپتال میں پچھلے ہفتے زیر علاج تھے ۔ان کے بہتر علاج کے لیے ان کی بیٹے سید نسیم گیلانی، اہلیہ اور داماد محمد الطاف شاہ نے سفری دستاویز کے لیے درخواست دی تھی۔ نسیم گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ریجنل پاسپورٹ آفیسر مسٹر رام لو نے انہیں سید علی گیلانی اور ان کے پاسپورٹ جمعرات کی دوپہر کو دیے تاہم گیلانی کی اہلیہ کے پاسپورٹ سے متعلق کاغذی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاسپورٹ کسی مخصوص ملک کے لیے نہیں ہے تاہم علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کو دیکھتے ہوئے ان کے والد کو امریکہ ہی لے جایا جائے گا۔ نسیم گیلانی کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کشمیر امیرکن کونسل کے سربراہ ڈاکڑ غلام نبی فائی نے واشنگٹن میں اس حوالے سے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی نے اپولو ہسپتال سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ وہ صرف علاج کے لیے جا رہے ہیں اور ان کا فی الوقت کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ اس دوران پاکستان کے سابق کرکٹر اور سیاستدان عمران خان نے بھی انہیں اپنے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں علاج کی پیشکش کی تھی۔ حکومت ہند میں آبی وسائل کے وزیر سیف الدین سوز کے مطابق گزشتہ روز ہندوستان کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائن کو خصوصی ہدایات دی تھیں کہ وہ وزارت داخلہ کے ساتھ رابطہ کرکے مسٹرگیلانی کے سفری دستاویزات کی تیاری میں جلدی کریں۔ مسٹر گیلانی کے حریت کانفرنس کے دھڑے کے ترجمان ایاز اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ علی گیلانی کے ایک گردے کو پہلے تکلیف کی وجہ سے نکالا گیا ہے اور اب ان کے واحد گردے میں تکلیف کے پیش نظر ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ انہیں امریکہ منتقل کیا جائے۔ انیس سو اسّی میں جب علی گیلانی امریکہ میں ایک عالمی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس کشمیر لوٹے تو حکومت نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا تھا۔ تب سے انہیں کئی مرتبہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاسوں یا عرب دنیا میں تقاریب کے حوالے سے مدعو کیا جاتا رہا لیکن انہیں پاسپورٹ نہیں دیا گیا تھا۔ تاہم اس دوران انہیں اُنیس سو چوراسی، اُنیس سو پچانوے اوردوہزار پانچ میں تین بار حج پر جانے کی اجازت دی گئی۔ پانچ فروری کو بھی علی گیلانی نے پاکستان میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقعہ پر پاکستان جانے کے لیے پاسپورٹ کا مطالبہ کیا لیکن انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ | اسی بارے میں گیلانی، بیرون ملک علاج کی اپیل 05 March, 2007 | انڈیا دورۂ پاکستان’ایک دھوکہ‘: علی گیلانی13 January, 2007 | انڈیا بات چیت آئین کے باہر: گیلانی07 December, 2006 | انڈیا علی شاہ گیلانی دوبارہ منتخب13 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||