BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 July, 2007, 08:57 GMT 13:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کشمیر میں فوج،انڈین جمہوریت کو خطرہ‘

شبنم ہاشمی، سماجی رضاکار
شبنم گودھرا ٹرین آتشزنی کے بعد گجرات میں مسلم کش فسادات کے حوالے سے خاص طور پرسرگرم ہیں
ہندوستانی سماجی رضاکار شبنم ہاشمی نے کہا ہے کہ کشمیر میں فوجی جماؤ ہندوستان کے جمہوری نظام کو کمزور کرسکتا ہے۔

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں تین سال سے بحالیات اور سماجی بیداری کا کام کر رہیں سرگرم ہندوستانی رضاکار شبنم ہاشمی کوخدشہ ہے کہ کشمیر کے اندرونی حالات ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کرسکتے ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران شبنم نے بتایا کہ،’جموں کشمیر پورے ملک میں واحد خطہ ہے جہاں فوج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ ہماری جمہوریت کی خاص بات یہ ہے کہ آرمی ہمیشہ سیاسی قیادت کے تابع رہی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ وزیراعظم بھی کہتے ہیں کہ کشمیر میں لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے، لیکن فوجی زیادتیوں کے واقعات اکثر رونما ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ اس پر ملک کے دانشوروں کو غور کرنا ہوگا۔‘

شبنم گودھرا ٹرین آتشزنی کے بعد گجرات میں مسلم مخالف فسادات کے حوالے سے خاص طور پرسرگرم ہیں۔ ان کی انجمن ’انحد‘ نے گجرات میں ’جمہوریت، مساوات اور آزادی‘ پروگرام کے تحت اب تک چھ ہزار نوجوانوں کو تربیت دی ہے۔

جمہوریت کی خاصیت
 ہماری جمہوریت کی خاص بات یہ ہے کہ آرمی ہمیشہ سیاسی قیادت کے تابع رہی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ وزیراعظم بھی کہتے ہیں کہ کشمیر میں لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے، لیکن فوجی زیادتیوں کے واقعات اکثر رونما ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ اس پر ملک کے دانشوروں کو غور کرنا ہوگا۔
شبنم ہاشمی

فی الوقت شبنم کی انجمن کشمیر کے سرحدی اضلاع اوڑی اور کپوارہ میں دوہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے سے متاثر محتاج لوگوں کی باز آبادکاری میں مصروف ہے۔

ان کا کہنا ہے،’میں نے خود کپوارہ اور ٹنگڈار میں دیکھا کہ کس طرح لوگوں کی شہری آزادیاں سلب کی گئیں ہیں۔ مارشل لاء جیسے حالات ہیں۔ ہزاروں ایسے بچے ہیں جنہوں نے اپنے رشتے داروں کو قتل ہوتے دیکھا ہے۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ایسا شہری ہوگا جسے کسی نہ کسی مرحلے پر فوج اور سیکورٹی فورسز نےاذیت نہ پہنچائی ہو، یا ذلیل نہ کیا ہو۔‘

شبنم نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ فوج میں ہندوتوا نظریات اور ’آر ایس ایس سوچ‘ نے جگہ بنالی ہے اور جہاں کہیں بھی فوج کو تعینات کیا جاتا ہے، وہاں اقلیتی فرقہ زیادتیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے ملک کے جمہوری مزاج کے خلاف ہے۔ مجھے خدشہ ہے فوج کو بے پناہ اختیارات دینے سے ہم بھی پاکستان کی طرح ایک ملڑی سٹیٹ ہی نہ بن جائیں۔ انتہا پسند اور فسطائی سوچ والی قوتیں یہی چاہتی ہیں۔ افسوس ہے کہ اعلیٰ پایہ کے محقق ہونے کے باوجود صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام نے ملک میں دو جماعتی نظام کی وکالت کی ہے۔‘

شبنم کہتی ہیں کہ ہندوستان جیسےوسیع اور رنگا رنگ تہذیبوں والے ملک میں سیاسی نظام سے متعلق سوچ بدلنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ لیکن کشمیر کی صورتحال کو دیکھ کر وہ سمجھتی ہیں کہ فوج اب ملکی سیاست میں ایک طاقتور لابی کی طرح اُبھر رہی ہے جو بقول ان کے جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

شبنم ہاشمی کا خیال ہے کہ ہندوستانی سِول سوسائٹی کو ملک کی جمہورت کی حفاظت کے لیے کشمیر پر فوکس کرنا ہوگا۔ تاہم انہیں افسوس ہے کہ یہاں کے مقامی علیحدگی پسند گروپ انہیں ’انڈین‘ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’یہاں کے علیٰحدگی پسند گروپ کی سوچ سطحی ہے۔ وہ انڈین سٹیٹ اور انڈین سِول سوسائٹی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ خود ہندوستانی عوام کو اپنی بات سمجھانے کے لیے ہماری سِول سوسائٹی کے ساتھ رابطہ کرتے۔ لیکن وہ اس کے برعکس یہاں کام کرنے والوں کو ہی انڈین سمجھتے ہیں۔‘

لیکن نو عمر طلبا و طالبات سے متعلق شبنم نہایت پرامید ہیں۔ انہوں نے مقامی نوجوانوں کی فہم و فراست اور کشمیر کی تاریخ سے متعلق ان کی معلومات پر حیرانگی کا اظہار کیا۔

تنویر حسین
کشمیری نوجوان تنویر حسین نے شبنم کے نظریات سے متاثر ہو کر ’انحد‘ میں شمولیت کرلی ہے۔

شبنم کا کہنا ہے کہ ’یہاں کی نئی قیادت ان ہی قابل اور وسیع النظر نوجوانوں میں سے پروان چڑھے گی۔‘

کشمیر میں ’انحد‘ کے ذریعہ شبنم ’جمہوری مزاحمت‘ کا خیال متعارف کرا رہی ہیں۔ سرینگر میں قائم انحد دفتر میں وہ کالج اور یونیورسٹی طلباء و طالبات کو تبادلہ خیال کا پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہاں کشمیری طلباء کا ایک فلمی میلہ بھی منعقد کیا جس میں پینتالیس فلموں کی نمائش ہوئی۔
شبنم کہتی ہیں کہ وہ مخالفتوں کے باوجود اس مظلوم خطے میں جمہوریت، مساوات اور آزادی کا پیغام لوگوں تک پہنچاتی رہیں گی۔

کشمیری نوجوان تنویر حسین نے شبنم کی نظریات سے متاثر ہو کر ’انحد‘ میں شمولیت کرلی ہے۔ حسین نے بتایا کہ ’ کشمیر کا بڑا پرابلم یہ ہے کہ نوجوانوں کو بولنے کا مناسب فورم دستیاب نہیں۔ ہم ریڈنگ روم اور فلم میکنگ جیسے ذرائع استعمال کر کے یہاں کے نوجوانوں کی امنگوں کو آواز دینا چاہتے ہیں۔ ہم سب یہاں جمہوری حقوق کے لیے دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جدوجہد کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔‘

کشمیری مسلمان مسلم پرسنل لا بل
انڈیا کے زیر انتظام میں مسلمانوں کا الگ قانون
کشمیرجائیں تو جائیں کہاں
نوجوان جوڑوں کے خلاف پولیسں کی مہم
لالو پرساد یادولالو کی دوٹوک باتیں
’جو دل میں بات ہوتی ہے وہ بول دیتا ہوں‘
اسی بارے میں
سرینگر میں میوزک آڈیشن
21 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد