BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جو دل میں ہو بول دیتا ہوں‘

لالو پرساد یادو
’جو دل کے اندر بات ہوتی ہے وہ بول دیتا ہوں‘
بھارتی وزیرِ ریلوے لالو پرساد یادو کا کہنا ہے کہ وہ خود کو عام لوگوں سے الگ نہیں سمجھتے اور ان کی مقبولیت کا راز بھی یہی ہے۔

بی بی سی دلی کے سنجیو شری واستو سے ایک ملاقات کے دوران بھارتی سیاست کی اس مقبولِ عام شخصیت نے اپنی زندگی کے کچھ گوشوں سے یوں پردہ اٹھایا۔

س: سب سے پہلے آپ یہ بتائیے کہ اس قدر مقبولیت اور وہ بھی ہر طبقہ میں! یہ مہارت کہاں سے حاصل کی؟

ج: دیکھیے شبیہ بنانے سے نہیں بنتی، ملک ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں لوگ مجھے مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ کوئی مجھے مزاحیہ کہتا ہے تو کوئی جوکر اور کوئی غریب کا مسیحا کہتا ہے۔ لوگوں کا اپنا اپنا نظریہ ہے۔ میں خود کو عام لوگوں سے الگ نہیں رکھتا۔ جو دل کے اندر بات ہوتی ہے وہ بول دیتا ہوں۔ اس میں کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔

س: لیکن کیا ایسا نہیں لگتا کہ آپ جیسے سیدھے سادھے لگتے ہیں اصل زندگی میں ویسے سیدھے نہیں ہیں بلکہ اس کے برخلاف بہت تیز، چالاک اور سمجھ بوجھ والے ہیں، اس میں اصلی لالو کون ہے؟

ج: ہندوستان دیہی ملک ہے۔ میں گاؤں میں پیدا ہوا اور وہیں پرورش پائی۔ وہاں سے جو تہذیب ملی اسی کے طور طریقے اپناتا ہوں اور بات کرتا ہوں۔ خاص کر جو ناخواندہ ہوتے ہیں ان کے درد اور تکلیفیں مختلف ہوتی ہیں، ان کا بولنا ہنسنا اور طور طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ کیونکہ میں ان لوگوں کے درمیان سے آیا ہوں اس لیے میں نقلی نہیں بلکہ دو ٹوک بات کرتا ہوں۔ لوگوں سےگفتگو کا یہ انداز مجھے وراثت میں ملا ہے۔

 کم خاندان سے فرق کیا پڑے گا۔ جب آبادی کم تھی تب لوگوں کو کھانے کو نہیں ملتا تھا لیکن آج آبادی زیادہ ہے پر سب کو کھانا تو ملتا ہے۔
لالو پرساد

س: لیکن مثال تو آپ نے ایسی دی تھی کہ میں بہار کی سڑکوں کو ہیما مالینی کے رخسار جیسا چکنا بنا دوں گا۔

ج: نا نا نا۔۔۔ دیکھیے یہ بات میرے منہ میں ڈال کر میری شبیہ کو نقصان پہنچانے کے لیے شائع کی گئی تھی۔ لکھنؤ میں انتخاب کے دوران ہندوستان کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے لطف اٹھانے کے لیے کہا تھا کہ لالو ایسا بو لتا ہے۔ کسی کو اگر ’ہلکی‘ بات کہنی ہے اور مذاق اڑانا ہے تو لوگ وہ بات ہم سے کہلوا دیتے ہیں۔

س: آپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلے پچیس سال لالو نے خود کو بیوقوف دکھاتے ہوئے لوگوں کو بیوقوف بنایا اور اگلے پچیس سال کا منصوبہ عقلمند بن کر ملک کو بیوقوف بنانے کا ہے۔

ج: ایسے نادان کو میں چیلنج کرتا ہوں کہ بتائے کہ کیسے میں نے لوگوں کو بیوقوف بنایا۔ میں کھلی کتاب ہوں اور اب ہارورڈ، آئی آئی ایم احمد آباد اور تمام جگہوں سے لوگ یہ جاننے آ رہے ہیں کہ چمتکار کیسے ہوگیا۔ دنیا میں جب کبھی بہتری کی بات ہوتی ہے تو ملازموں کی کمی کی جاتی ہے لیکن میں نے بغیر ملازمتوں کی کٹوتی کیے ہی ریلوے کو منافع دلایا ہے۔

’میں نے بنا کٹوتیاں کیے ریلوے کو منافع بخش بنا دیا‘

س: آپ کا پسندیدہ گانا؟

ج:میں آج کل خود کو کسی فلم سے کافی دور رکھتا ہوں۔ میں نے پٹنہ کے سنیما ہال میں ایک فلم دیکھی تھی۔ دلیپ کمار اور وجنتی مالا کی، وہ بھی چار آنے میں۔ ملک کی سب سے اچھی گلوکارہ لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے کے گانے پسند ہیں۔ اس کے علاوہ ’دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی‘، ’جانے والے ذرا مڑ کے دیکھ مجھے‘ اور ’میں بھی انسان ہوں‘ بھی پسند ہیں۔ مجھے’مکایا رے تور گولو نہ جلا‘ جیسے لوک گیت بھی بہت پسند ہیں۔

س: لالو جی آپ آٹھ بہن بھائی تھے اور آپ کے بھی نو بچے ہیں۔ آپ نے یہ نہیں سوچا آپ کے کم بچے ہونے چاہیے تھے؟

ج: پہلے کے زمانے میں جہاں زیادہ بہن بھائی ہوتے تھے اسے خوش قسمت گھر سمجھا جاتا تھا۔ اب ملک میں آبادی زیادہ بڑھنے سے لوگ کم بچوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔

 جب ہم پاکستان گئے تو پتا چلا کہ انٹرنیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے وہاں کے لوگ مجھے پہلے سے ہی جانتے ہیں۔ وہ لوگ چرچا کر رہے تھے کہ کس طرح لالو یادو اور رابڑی دیوی غریبی اور پیسے کی کمی کے باوجود سیاست میں عروج پر پہنچے

س: آپ نے اپنے بچوں کو ہدایت دی ہے کہ ان کے کم بچے ہوں؟

ج: بچے یہ خود طے کریں۔ آج کل دیکھتے ہیں کہ کسی کا ایک بیٹا ہوتا ہے اگر وہ کسی حادثے میں مارا جائے تو پورا خاندان تباہ ہوجاتا ہے۔ کم خاندان سے فرق کیا پڑے گا۔ جب آبادی کم تھی تب لوگوں کو کھانے کو نہیں ملتا تھا لیکن آج آبادی زیادہ ہے پر سب کو کھانا تو ملتا ہے۔

س: رابڑی دیوی سے پہلا عشق تھا یا پہلے بھی کسی پر دل آیا تھا؟

ج: ہم دل دینے والے آدمی نہیں ہیں۔ یہ کام ہم نے کبھی نہیں کیا۔ رابڑی دیوی سے جب ہماری منگنی کی بات ہوئی تو میں نے تو انہیں دیکھا بھی نہیں تھا ۔ آج کل تو لڑکا لڑکی ملتے ہیں، سوال جواب ہوتے ہیں۔ ہم نے تو رابڑی کو سندور بھی لگایا تھا تو پتا نہیں تھا کہ کہاں سندور لگا رہے ہیں۔ یہ ہماری تہذیب تھی۔

ویسے بھی کوئی ہم سے پیار کیوں کیسے کرتا، ہم تو گاؤں کے گنوار تھے اور فقیر کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ اب تو ہم پرانی پیڑھی کے دیہاتی ہوگئے ہیں۔ آ ج تو انٹرنیٹ آگیا ہے۔ ایس ایم ایس آگیا ہے ۔ سچ کہوں تو مجھے تو ایس ایم ایس کرنا بھی نہیں آتا ۔ موبائل فون سن لیتا ہوں اسے بند کرنا بھی نہیں آتا۔

س: رابڑی دیوی آپ کا اور بچوں کا پورا خیال رکھتی ہیں۔ وزیراعلٰی بننے کے بعد بھی انہوں نےگھر کی ذمہ داری نہیں چھوڑی؟

ج: واقعی یہ پورے سیاسی کیرئر کے لیے بہت اچھا رہا کہ ہماری شادی رابڑی دیوی سے ہوئی۔ آج کل تو عورتیں اپنے شوہر کو منٹ منٹ پر فون کر کے پوچھتی ہیں کہ کہاں ہو؟ کیا کررہے ہو؟

’رابڑی دیوی مقبول ہو رہی ہیں تو بھی میرا ہی نام ہو رہا ہے‘

س: کبھی آپ کو لگا کہ رابڑی دیوی آپ سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں؟

ج: اگر رابڑی دیوی مقبول ہو رہی ہیں اس میں بھی تو میرا ہی نام ہو رہا ہے۔ میں بالکل نہیں جلتا ہوں اور نہ ہی وہ کبھی کوئی خواہش کرتی ہیں۔ اگر میں پانچ سو روپے کی ساڑھی لاکر دس ہزار کی بتاتا ہوں تو خوش ہو جاتی ہیں۔

س: کبھی آپ دونوں نے ساتھ فلمیں دیکھی ہیں؟

ج: نہیں! کبھی نہیں! وہ ساتھ میں فلمیں دیکھنے نہیں جاتیں۔ ٹی وی پر ہی فلمیں دیکھتی ہیں اور ٹی وی دیکھتے دیکھتے سو جاتی ہیں۔ ویسے بھی آج کل جس طرح کی فلمیں بن رہی ہیں وہ ایک ساتھ بیٹھ کرگھر والوں کے ساتھ نہیں دیکھی جا سکتیں۔

 اب تو ہم پرانی پیڑھی کے دیہاتی ہوگئے ہیں۔ آ ج تو انٹرنیٹ آگیا ہے۔ ایس ایم ایس آگیا ہے ۔ سچ کہوں تو مجھے تو ایس ایم ایس کرنا بھی نہیں آتا۔ موبائل فون سن لیتا ہوں اسے بند کرنا بھی نہیں آتا۔

س: سنا ہے کہ آپ کو کھانا بنانے کا خاص شوق ہے۔ کچن میں بیٹھ کر سبزی کاٹتے ہیں اور کئی سیاستدانوں سے بھی سبزی کٹواتے ہیں؟

ج: نہیں سیاستدانوں سے تو سبزی نہیں کٹواتے! ہم صرف سبزی کھاتے ہیں۔ پہلے مختلف طرح کا مرغ،گوشت اور مچھلی پکاتے تھے۔ ایک دن ہم سے بھگوان شیو نےگوشت چھوڑنے کے لیے کہا۔ ہم نے ان کی مورتی کے سامنے کان پکڑ کر قسم کھائی کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے۔

س: آپ کے پسندیدہ فلم اداکار کون ہیں؟

ج: شاہ رخ اور وہ لڑکی جس کی شادی ہونے والی ہے۔۔ایشوریہ رائے۔ پرانوں میں امیتابھ پسند ہیں۔

س: لوگ آپ کی شخصیت میں جو رنگینی دیکھتے ہیں اس کا راز کیا ہے؟

ج: اب لوکلائزیشن گئی۔گلوبلائزیشن کے دور میں دنیا گاؤں کے روپ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ الیکٹرونک میڈیا، انٹرنیٹ اور ایک سے بڑھ کر ایک تکنیک سے دنیا سمٹ گئی ہے۔ ہر آدمی ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہے۔ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ کون انسان کیا کررہا ہے۔ جب ہم پاکستان گئے تو پتا چلا کہ انٹرنیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے وہاں کے لوگ مجھے پہلے سے ہی جانتے ہیں۔ وہ لوگ چرچا کر رہے تھے کہ کس طرح لالو یادو اور رابڑی دیوی غریبی اور پیسے کی کمی کے باوجود سیاست میں عروج پرپہنچے۔

اسی بارے میں
لالو، بہار کا راجہ
07 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد