لالو، بہار کا راجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لالو پرساد جب پہلی بار وزیر اعلی بنے تھے تو انہوں نے اپنی والدہ سے بھوجپوری میں جو کہا تھا اسکا خلاصہ یہ ہے کہ ’انکا بیٹا بہار کا راجا بن گیا ہے‘ اب اسی راجا کو اپنی ریاست میں عدم تحفظ کا احساس ہو رہا ہے۔ پتہ نہیں لالو اس صورتحال کو بتانے کے لیے اپنی ماں سے کن الفاظ کا استعمال کرتے۔ شاید قسمت کا کھیل کہہ کر کام چلاتے ہونگے۔ حکومت سے بے دخل ہونے کے چند دنوں بعد ہی لالو پرساد کا عدم تحفظ کا احساس منظر عام ہوا ۔ یہ احساس جسمانی لحاظ سے بھی ہے، قانونی لحاظ سے بھی۔ اور اس احساس کی وجوہات بھی ہیں۔ پہلے لالو خاندان کو اس بنگلے سے بےدخل ہونے کا نوٹس ملا جہاں سے وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے راج چلا رہے تھے۔ راجہ ابھی ’محل‘ سے نکلے بھی نہیں تھے کہ نئی حکومت کا یہ فرمان سامنے آیا کہ سرکاری سکولوں کے نصاب سے لالو کی سوانح عمری ہٹائی جائے گی۔ اس سے پہلے لالو کے حوالے سے یہ خبر آئی کہ وہ اپنے خاندان کے لیے ’ زیڈ‘ درجہ کا حفاظتی انتظام چاہتے ہیں۔ اب لالو پرساد کے وکیل مشہور قانون داں رام جیٹھ ملانی کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے کہ انکے مؤکل کو بہار اور جھارکھنڈ میں انصاف ملنے کی امید نہیں۔ ان دونوں ریاستوں میں لالو پرساد پر مویشی پروری گھوٹالے کے مقدمات چل رہے ہیں۔ لالو پرساد پر جنتا دل یونائٹیڈ کے لیڈر راجیو رنجن سنگھ اور بی جے پی رہنما سشیل کمار مودی نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر کے یہ الزام لگایا تھا کہ وہ اپنی پارٹی آر جے ڈی کی حکومت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے لالو گھپلے کے مقدمہ کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکومت بدلنے کے بعد سشیل کمار مودی اب ریاست بہار کے نائب وزیر اعلی ہیں اور راجیو رنجن جنتا دل یونائٹیڈ کے ریاستی صدر بن چکے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ سشیل کمار مودی کو مویشی پروری کی وزارت بھی ملی ہوئی ہے اور جھارکھنڈ میں پہلے سے ہی بی جے پی کی حکومت ہے۔ سشیل کمار مودی سے لالو پرساد کو کس قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگ سکتا ہے کہ سب سے پہلے مسٹر مودی نے ہی یہ بیان دیا کہ لالو خاندان کو ’زیڈ‘ درجہ کی سیکوریٹی کی ضرورت نہیں۔ نئ حکومت میں وزیر تعلیم وریشن پٹیل نے اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ لالو کی سوانح عمری کو سکول کے نصاب میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟ مسٹر پٹیل کہتے ہیں کہ لالو بچوں کو لۓ رول ماڈل نہیں ہو سکتے۔ دوسری جانب لالو کی پارٹی آر جے ڈی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر شکیل احمد خاں کہتے ہیں کہ وریشن جب ہماری پارٹی میں تھے تو وہ لالو کی تعریف کرتے نہیں تھکتےتھے۔ اب حکومت بدل گئ تو انہیں لالو میں ساری خرابی نظر آنے لگی ہے۔ لالو کو ابھی اور کن حلقوں سے پریشانی کا سامنا پڑ سکتا ہے؟ یہ تو وقت گزرنے کا ساتھ ہی معلوم ہوسکے گا۔ | اسی بارے میں لالو کی گائیں، نٹور پریشان، اُما کاغُصّہ04 December, 2005 | انڈیا بہار: لالو کا زوال کس کا کمال؟ 23 November, 2005 | انڈیا ’ِبہار اسمبلی کی تحلیل غلط تھی‘07 October, 2005 | انڈیا بہار -- ایک دور کا خاتمہ23 November, 2005 | انڈیا ’لالوخاندان بنگلہ خالی کر دے‘25 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||