ایم ایس احمد پٹنہ |  |
بہار کے سابق وزیراعلیٰ اور ریلوے کےموجود وزیر لالو پرساد نے لکچرر بننے کے لیئیے ضروری اہلیت کا امتحان پاس نہیں کیا، نہ ہی انہیں کسی یونیورسٹی میں نوکری ملی ہے۔ لالو پرساد کو جب سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمینٹ، احمد آباد سے لیکچر دینے کی دعوت ملی ہے لالو ’سنجیدہ‘ قسم کے چرچے میں رہنے لگے ہیں۔ ایسے ہی تذکروں کے بعد لالو خود کو ’ویزیٹنگ پروفیسر‘ کہنے لگے ہیں۔ گزشتہ پندرہ سال کے دوران لالو پرساد کو ان کے مداح اور مخالف مختلف القاب سے نوازتے رہے ہیں۔ کسی نے انہیں ’کرشن‘ قرار دیا تو کسی نے ان پر ’چارہ چور‘ کا الزام عائد کیا۔ آج بھی انہیں’للّو‘ اور ’للُوا‘ کہنے والے مل جائیں گے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب وہ ’راجہ‘ کہلاتے تھے۔ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار آج کل لالو پرساد کو ’پوسٹر بوائے‘ کہہ رہے ہیں۔
 | کرشن اور چارہ چور  گزشتہ پندرہ سال کے دوران لالو پرساد کو ان کے مداح اور مخالف مختلف القاب سے نوازتے رہے ہیں۔ کسی نے انہیں ’کرشن‘ قرار دیا تو کسی نے ان پر ’چارہ چور‘ کا الزام عائد کیا  |
لالو پرساد نے جب امریکہ کے دورے کے لیئے انگریزی طرز کے سوٹ سلوائے تو ایک اخبار نے سرخی لگائی تھی ’لالو بن گیا جنٹل مین‘ فلم ’راجو بن گیا جینٹل مین‘ کی طرز پر لگائی گئی اس سرخی پر لالو نے شدید اعتراض کیا تھا۔احمد آباد کے علاوہ لالو پرساد مسوری جاکر لال بہادر انسٹیٹیوٹ میں آئی اے ایس کے پروبیشنرز کے درمیان لیکچر دینے والے ہیں۔ بیرون ملک بھی مختلف اداروں نے لالو کے تجربات سے مستفید ہونے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ اگلے ماہ دلی میں لالو کو ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں خطاب کرنے کی دعوت ملی ہے۔ اس سے قبل لالو پرساد کی بطور ریلوے وزیر کامیابی کا راز جاننے کے لیئے فرانس کے ایک ادارہ نے مطالعہ کرانے کا اعلان کیا تھا۔ بیشتر اوقات  | ریلوے فائدے میں کیسے؟  اپنے مزاحیہ تبصروں کی وجہ سے چرچے میں رہنے والے لالو پرساد آخر کیا پڑھائیں گے؟ بقول لالو وہ یہ بتائیں گے کہ ریلوے کی وزارت وہ کس طرح چلا رہے ہیں اور بھارتی ریلوے کرایوں میں اضافے کے بغیر کیسے فائدے میں چل رہی ہے  |
اپنے مزاحیہ تبصروں کی وجہ سے چرچے میں رہنے والے لالو پرساد آخر کیا پڑھائیں گے؟ بقول لالو وہ یہ بتائیں گے کہ ریلوے کی وزارت وہ کس طرح چلا رہے ہیں اور بھارتی ریلوے کرایوں میں اضافے کے بغیر کیسے فائدے میں چل رہی ہے۔انڈیا میں منیجمنٹ کے سرکردہ ادارے اور کئی بیرونی یونیورسٹیاں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ نج کاری کے اس دور میں کس طرح لالو نے سرکاری ملکیت کے محکمے کو ایک انتہائی فائدہ مند ’ کارپوریٹ‘ میں بدل دیا ہے۔ ہندوستان کا ریلوے محکمہ ان دنون جدیدکاری کے عمل میں سب سے آگے ہے اور کرائے اور مال بھاڑے سے ہونے والی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ریلوے کے محکمے کی طرف سے گزشتہ دنوں جاری کیے گئے سہ ماہی کے حساب میں کہا گیا ہے کہ ’ابھی تو یہ ٹریلر ہے‘۔ لالو کو بد انتظامی، بدامنی اور لا قانونیت جیسے مسائل پر بہار کے اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے اب وہی لالو ’بہتر انتظام‘ پر ماہرین کو لیکچر دیں گے۔ |