ہندوستانی آئین کا کشمیری ترجمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پہلی مرتبہ ملکی آئین کا کشمیری زبان میں ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔ ستاون سال پہلے مرتب کیے گئے اس سیکولر آئین کو کشمیری زبان میں ڈھالنے کا کام انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سابق جج، معروف زبان دان اور ادیب غلام نبی گوہر نے سات سال میں مکمل کیا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کے دوران مسٹر گوہر نےبتایا کہ ’کشمیری زبان میں چھپنے والا یہ ترجمہ چھ سو صفحات پر مشتمل ہوگا۔ اس میں پچاس صفحات کی فرہنگ بھی شامل ہے، جس میں پیچیدہ قانونی اصطلاحات کے معنی اور توضیحات ہونگی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مسودہ حکومت ہند کی وزارت قانون کے سپرد کر چکا ہوں، مجھے خدشہ ہے کہ یہ مسودہ دفتری طوالت میں لٹک جائے گا۔ میں مسودہ حکومت ہند کی وزارت قانون کے سپرد کر چکا ہوں لیکن وہ مختلف حیلوں اور بہانوں میں اس کی اشاعت ٹال رہے ہیں‘۔
مسٹر گوہر نے بتایا کہ اُنیس سو باسٹھ میں اُس وقت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے ’آفیشل لینگویجز ایکٹ‘ پاس کروایا، جس کی رو سے ملک کے آئین اور قوانین کا تمام علاقائی زبانوں میں ترجمہ کروانا لازمی ہوگیا تھا۔ کشمیر سے متعلق ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اُنیس سو سینتالیس سے جاری تنازعہ کے پیش نظر کشمیری زبان میں ہندوستانی آئین کا ترجممہ اہمیت کا حامل ہے۔ ترجمے میں اس قدر تاخیر کے بارے میں مسٹر گوہر کہتے ہیں کہ حکومت ہند کی کشمیر پالیسی ہمیشہ سے بقول ان کے ایڈہاک رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ’حکومت ہند نے تو سرکاری درجہ رکھنے والی اُردو زبان کو بھی نہیں بخشا اور اس کے خاتمہ کے لیے جس سے جو بن پڑا اس نے کیا ہے‘۔ غلام نبی گوہر کہتے ہیں کہ اُنیس سو ستاون میں کشمیر ہائی کورٹ کا دوتہائی کام اُردو میں ہوتا تھا، جبکہ نچلی عدالتوں کا سو فی صد کام کاج اُردو پر ہی منحصر تھا۔ اُنیس سو چھیانوے میں ایک سرکولر کے ذریعہ عدالتوں میں اُردو کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی۔
ان کا خیال ہے کہ ریاست کی مادری زبان یعنی کشمیری سے اُردو کی پختگی میں مدد ملتی ہے، لہٰذا کشمیری زبان کی ترویج و اشاعت ضروری ہے۔ ہندوستانی آئین کے کشمیری ترجمہ کو مسٹر گوہر ایک سبق آموز تجربہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا تھری لینگویج فارمولہ ہونا چاہیے۔ کشمیری ہماری بُنیادی اور مادری زبان ہے، انگریزی ہماری لائبریری زبان ہے جبکہ اُردو ہماری رابطہ کی زبان ہے‘۔ مسٹر گوہر کہتے ہیں کہ فی الوقت سرکاری سطح پر مادری اور رابطہ کی زبانوں کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’تمام تر منفی پہلوؤں کے باوجود ہمیں ڈوگرہ مہاراجوں کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو اپنے فرقہ پرست مشیروں نے مشورہ بھی دیا تھا کہ کشمیر میں ہندی کو سرکاری زبان کے طور متعارف کروایا جائے لیکن وہ دور اندیش تھے اور اُردو کی ترویج و اشاعت کی‘۔ |
اسی بارے میں بات چیت آئین کے باہر: گیلانی07 December, 2006 | انڈیا دلی: 25 کروڑ روپے کی ممنوعہ دواضبط20 August, 2006 | انڈیا مذاکرات: آئین نہ ماننے والوں سے21 May, 2006 | انڈیا خودمختاری آئین کے اندر ہی: منموہن 25 February, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||