’مشرف پیکج کا اعلان کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے صدر جنرل پرویز مشرف پر زور دیا ہے کہ وہ شراکت اقتدار کے پیکج کا اعلان اس ماہ کے آخر تک کر دیں کیونکہ ان کی پارٹی اس میں تاخیر سے پریشان ہو رہی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بات بینظیر بھٹو نے امریکی ٹیلیویژن ’پبلک براڈ کاسٹنگ سروس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا ’میں نے جنرل مشرف کو آگاہ کیا ہے کہ میری پارٹی پریشان ہو رہی ہے، کیونکہ انتخابات ہونے والے ہیں اور ہمیں اس ماہ کے آخر تک معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔ اگر ایک پیکج ہوتا ہے تو پھر انہیں (جنرل مشرف کو) ان معاملات پر عملدرآمد شروع کر دینا چاہیے جن پر ہمارا اتفاق ہوا ہے۔‘ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’اور اگر کوئی پیکج نہیں بھی ہوتا تو تب بھی میں پاکستان جانے کا ارادہ رکھتی ہوں تاکہ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلا سکوں اور ملک میں جمہوری تبدیلی کے لیے کام کر رہی دوسری اعتدال پسند سیاسی جماعتوں سے روابط بڑھا سکوں۔‘ ان کا کہنا تھا ’مجھے امید ہے کہ پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کے درمیان مذاکرات ناکام نہیں ہونگے ۔۔۔ لیکن ہم جنرل مشرف کی غیر مقبولیت سے خود کو آلودہ ہونے سے بچانے کی پوری کوشش کریں گے، کیونکہ یہ مذاکرات ہم جمہوریت کی قیمت ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔‘
بینظیر بھٹو نے ان خبروں کی تردید کی کہ جنرل مشرف کے ساتھ ان کی شراکت اقتدار کی ڈیل کا ’منصوبہ‘ امریکہ نے بنایا تھا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکہ کو اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ رکھا جا رہا تھا۔’ کچھ پاکستانی ذرائع ابلاغ کی یہ خبریں کہ امریکہ نے ایک بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی کو اکٹھا کیا ہے، درست نہیں ہیں، لیکن امریکہ کا مفاد ہے کہ پاکستان میں استحکام رہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کا ایک بڑا اتحادی ہے۔‘ بینظیر بھٹو نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جماعت اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنماؤں نے گزشتہ دنوں امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر سے ان کے دورہ پاکستان کے دوران ملاقاتیں کی ہیں۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کے لیے ضروری ہے کہ جنرل مشرف کچھ وعدے کریں جن میں ان کا فوجی وردی اتارنا، ان کے تیسرے مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی اٹھانا اور ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات ختم کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ اور ان سے زیادہ اہم ایک اور بات ہے اور وہ جنرل مشرف سے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ’منصفانہ انتخابات‘ کا انعقاد کریں گے۔ منصفانہ انتخابات کے لیے (ضروری اقدامات میں) یہ بھی شامل ہے کہ نگران حکومت کی ساخت کیا ہوگی اور اس میں کون کون شامل ہوگا۔‘ بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ سوائے ٹرانسپیرنٹ بیلٹ باکس کے مطالبے کے، مذکورہ بالا اقدامات میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ ’ اسی وجہ سے میری پارٹی میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ اگر یہ اقدامات ابھی تک نہیں اٹھائے گئے تو کب اٹھائے جائیں گے، انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔‘ جہاں تک اس تنقید کا تعلق ہے کہ انہوں نے ایک فوجی حکومت سے اتحاد کر لیا ہے، بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ ہم چاہتے ہیں کہ مفاہمت ایسی ہو کہ جس سے پاکستان میں ایک جمہوری اور سویلین استحکام آئے۔‘ | اسی بارے میں مشرف کے ہاتھ سے وقت نکل رہا ہے: بینظیر16 August, 2007 | پاکستان بلوچستان سرکشی کا حل: بینظیر بھٹو 12 August, 2007 | پاکستان ’وردی پر صدر سے خفیہ مفاہمت‘11 August, 2007 | پاکستان بینظیر کا ریڈ نوٹس کالعدم07 August, 2007 | پاکستان وردی کو خیرباد کہنا پڑے گا: بینظیر05 August, 2007 | پاکستان مذاکرات: بنیادی معاملات پر تعطل 31 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||