BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 August, 2007, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انحراف کی صورت میں سزا بحال‘

شریف برادران
حکومت کے پاس نوازشریف کو روکنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے: وکیل
اٹارنی جنرل آف پاکستان جسٹس (ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے کہا ہے کہ حکومت سے معاہدہ کر کے سزا میں معافی لینے والا شخص اگر معاہدے سے منحرف ہوجائے تو اس کی سزا بحال ہوجائے گی۔

جسٹس(ر) ملک قیوم نے لاہور ہائی کورٹ میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پر جب کسی معاہدے کے تحت کسی کو کوئی رعایت ملتی ہے تو معاہدہ کرنے والا شخص اگر اس سے انحراف کر جائے تو معاہدے کے تحت ملنی والی رعایت ختم ہوجائے گی۔


واضح رہے کہ جمعہ کو راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے چند دیگر افراد کے خلاف قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کیے جانے والے تین مقدمات پر کارروائی از سرِ نو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے معاہدے کے بعد سزا معاف کی تھی: ملک قیوم

اس بارے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل اور سابق ایڈوو کیٹ جنرل پنجاب اشتراوصاف علی کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف بارہ اکتوبر ننانوے کے بعد قائم کیےگئے جن مقدمات میں ان کو سزا ہوئی تھی اس سزا کو صدر مملکت نے چیف ایگزیکٹیو کے حکم پر معاف کردیا تھا۔

ملک قیوم سنہ دو ہزار چار میں شہباز شریف کے وکیل کی حیثیت سے ان کی وطن واپسی کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست کی پیروی کرچکے ہیں اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے حیثیت سے ان کا یہ موقف رہا ہے کہ جلاوطن قیادت کو ملک میں واپس آنا چاہیے۔

ملک قیوم کے بقول اگر معاہدے کا ایک فریق اس معاہدے کو مانے سے انکاری ہو تو دوسرے فریق کو بھی یہ حق ہے کہ اس کو تسلم نہ کرے، اس طرح معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد ان کی سزا معاف کی تھی جس کے بعد ان کو سعودی عرب بھجوایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص حکومت کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنی سزا میں معافی حاصل کرتا ہے اور بعدازاں اس معاہدے سے منحرف ہوجاتا ہے تو اس کو ملنے والی رعایت ختم ہوجائے گی اور سزا بحال ہوجائےگی۔

ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون کے تحت سزا یافتہ شخص انتخاب نہیں لڑسکتا۔

اس سے قبل نواز شریف کے وکیل اشتر اوصاف علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں سزا ہوئی تھی جس کو اس وقت کے صدر مملکت رفیق تارڑ نے چیف ایگزیکٹیو جنرل پرویز مشرف کےکہنے پر معاف کردیا تھا، تاہم جرمانہ کی حد سزا برقرار ہے۔ ان کے بقول جب ایک مرتبہ سزا کو معاف کردیا جائے تواسے کسی طور بھی بحال نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد