مسلم لیگ کا وردی مخالِف دھڑا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ صدارتی انتخاب میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ حکمران مسلم لیگ کا وردی مخالِف دھڑا ہے۔ مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر کبیر واسطی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کا ایک بڑا دھڑا پرویز مشرف کے باوردی انتخاب کے خلاف ہے اور ان کے بقول یہ مخالفت صدر مشرف کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ صدر جنرل مشرف ان دنوں صدراتی انتخابی مہم کے سلسلے میں اپنے ووٹرز یعنی قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ تین روز انہوں نے پنجاب میں گزارے۔ وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی معیت میں فیصل آباد اور لاہور میں اراکین اسمبلی سے ان کی ملاقاتیں بظاہر ٹھیک رہیں لیکن سنیچر کے ملتان اور بہاولپور کے اجلاس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ڈیڑھ درجن سے زائد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی دعوت کے باوجود ان سے ملنے نہیں آئے تھے۔ حکومتی حلقوں میں سے ابھی تک صدر مشرف کی وردی کے خلاف سب سے زیادہ ردعمل بھی جنوبی پنجاب سے سامنے آیا ہے۔ بہاولپور میں ان سے ملاقات کے لیے تین مسلم لیگی اراکین قومی اسمبلی نہیں آئے تھے جن میں سے ایک رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مخدوم سید احمد عالم انور ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ دعوت ملنے کے باوجود وہ صدر مشرف سے ملنے نہیں گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال صدر سے نہ ملنے کی وجوہات نہیں بتانا چاہتے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ الگ سے صدر کو مل کر یہ وجہ بیان کریں گے۔ ملتان کی ملاقات میں صدر مشرف سے ملاقات سے انکار کرنے والے ایک رکن قومی اسمبلی اختر کانجو کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں سے ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ صدر مشرف کے وردی میں الیکشن لڑنے کے خلاف ہیں اور ووٹ بھی ان کے خلاف دیں گے۔ ایڈورٹائزمنٹ ڈیزائنگ میں پوسٹ گریجویشن کرنے والے اختر کانجو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کسی ایک فرد کی جاگیر نہیں ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس ملک میں جمہوری فیصلے کیے جائیں اور ملک و قوم کو وردی سے نجات دلائی جائے۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے اضلاع سے حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سینتالیس اراکین پنجاب اسمبلی اور انتیس رکن قومی اسمبلی ہیں۔ ان کے علاوہ مقامی ناظمین ہیں۔ صدر مشرف نے مجموعی طور پر پچاسی افراد کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق صرف ستر افراد نے شرکت کی۔ صدر کے باوردی انتخاب پر حکمران مسلم لیگ میں اختلافات تو گزشتہ چند ہفتوں سے سننے میں آ رہے تھے اور مقامی ذرائع ابلاغ وزیر مملکت اسحاق خاکوانی، نیلوفر بختیار، خورشید قصوری، مجید ملک، ظفراللہ جمالی، منظور وٹو، حامد ناصر چٹھہ کے حوالے سے اختلافی خبریں بھی شائع کرتا رہا ہے لیکن حکمران مسلم لیگ کا یہ اختلاف صدر کے انتخابی مہم کے چلنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ادھر اپوزیشن پارٹیاں عدالتی چارہ جوئی، احتجاجی تحریک اور مشترکہ استعفوں کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر کبیر علی واسطی کہتے ہیں کہ صدر مشرف کی تمام مشکلات کا حل بے نظیر بھٹو سے ڈیل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر مشرف اپوزیشن رہنماؤں کو وطن واپسی کا راستہ دے کر بےنظیر اور نواز شریف کو خوش کریں، گریجوایشن کی شرط ختم کر کے مجلس عمل کو راضی کریں اور بدلے میں اپنے لیے صدراتی امیدوار بننے کی راہ میں حائل آئینی رکاوٹ دور کرالیں۔ تاہم کبیر واسطی کے بقول چودھری شجاعت کی سربراہی میں مسلم لیگ کا ایک دھڑا مشرف بے نظیر ڈیل کی راہ میں حائل ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا نام لیکر کہا کہ ’وہ واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ بے نظیر سے ڈیل کو نہیں مانیں گے‘۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے باوردی انتخاب کے سب سے بڑے حامی چودھری صاحبان ہیں کیونکہ ناقدین کے بقول انہیں اپنی سیاسی بقاء مشرف کی وردی میں نظر آتی ہے۔ کبیر واسطی نے کہا کہ صدر مشرف کے ساتھیوں نے ہمیشہ ان کے باوردی اقتدار کی طوالت کی ہی منصوبہ بندی کی ہے۔ کبھی بغیر وردی انتخاب کے بارے میں سوچا ہی نہیں اور اسی وجہ سے صدر مشرف آج مشکل میں ہیں۔ کبیر واسطی کا کہنا ہے کہ صدر کے باوردی انتخاب میں آئینی، عدالتی، قانونی، سیاسی، اخلاقی ہر طرح کی رکاوٹ حائل ہے اور قوم کو خوامخواہ تقسیم کیا جا رہا ہے۔ جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا فوج میں بھی چیف آف آرمی سٹاف کے بطور صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر اختلاف پایا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کا چیف آف آرمی کا عہدہ چھوڑ دینا خود فوج کے حق میں بھی ہے۔ اتوار کو لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ایک تقریب میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگی اراکین اسمبلی کا صدر مشرف سے ملاقات کے لیے نہ آنا پارٹی سے بغاوت نہیں بلکہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صدارتی انتخاب کے بارے میں سب کو پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ ماننا ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے لیے اپنے تمام اراکین کو صدر کے باروردی انتخاب پر راضی کرنا موجودہ حالات میں بظاہر ایک مشکل کام لگ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’بینظیر مشرف ڈیل ملک کے خلاف‘ 28 July, 2007 | پاکستان بینظیر کی مبینہ ڈیل اور سندھ30 July, 2007 | پاکستان مشرف صدر نہیں رہ سکتے: مجلس30 July, 2007 | پاکستان ’ڈیل جمہوریت پر خودکش حملہ‘01 August, 2007 | پاکستان وردی کو خیرباد کہنا پڑے گا: بینظیر05 August, 2007 | پاکستان پہلے انتخاب پھر وردی: مشرف06 August, 2007 | پاکستان ’پرویز مشرف آئے گا پھر دوبارہ‘18 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||