BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 August, 2007, 18:07 GMT 23:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ کا وردی مخالِف دھڑا

صدر جنرل مشرف
مشرف ان دنوں صدراتی مہم کے سلسلے میں قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ صدارتی انتخاب میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ حکمران مسلم لیگ کا وردی مخالِف دھڑا ہے۔

مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر کبیر واسطی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کا ایک بڑا دھڑا پرویز مشرف کے باوردی انتخاب کے خلاف ہے اور ان کے بقول یہ مخالفت صدر مشرف کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

صدر جنرل مشرف ان دنوں صدراتی انتخابی مہم کے سلسلے میں اپنے ووٹرز یعنی قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ تین روز انہوں نے پنجاب میں گزارے۔ وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی معیت میں فیصل آباد اور لاہور میں اراکین اسمبلی سے ان کی ملاقاتیں بظاہر ٹھیک رہیں لیکن سنیچر کے ملتان اور بہاولپور کے اجلاس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ڈیڑھ درجن سے زائد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی دعوت کے باوجود ان سے ملنے نہیں آئے تھے۔

حکومتی حلقوں میں سے ابھی تک صدر مشرف کی وردی کے خلاف سب سے زیادہ ردعمل بھی جنوبی پنجاب سے سامنے آیا ہے۔ بہاولپور میں ان سے ملاقات کے لیے تین مسلم لیگی اراکین قومی اسمبلی نہیں آئے تھے جن میں سے ایک رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مخدوم سید احمد عالم انور ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ دعوت ملنے کے باوجود وہ صدر مشرف سے ملنے نہیں گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال صدر سے نہ ملنے کی وجوہات نہیں بتانا چاہتے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ الگ سے صدر کو مل کر یہ وجہ بیان کریں گے۔

 صدر مشرف اپوزیشن رہنماؤں کو وطن واپسی کا راستہ دے کر بےنظیر اور نواز شریف کو خوش کریں، گریجویشن کی شرط ختم کر کے مجلس عمل کو راضی کریں اور بدلے میں اپنے لیے صدراتی امیدوار بننے کی راہ میں حائل آئینی رکاوٹ دور کرالیں
کبیر علی واسطی، سینئر نائب صدر مسلم لیگ

ملتان کی ملاقات میں صدر مشرف سے ملاقات سے انکار کرنے والے ایک رکن قومی اسمبلی اختر کانجو کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں سے ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ صدر مشرف کے وردی میں الیکشن لڑنے کے خلاف ہیں اور ووٹ بھی ان کے خلاف دیں گے۔

ایڈورٹائزمنٹ ڈیزائنگ میں پوسٹ گریجویشن کرنے والے اختر کانجو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کسی ایک فرد کی جاگیر نہیں ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس ملک میں جمہوری فیصلے کیے جائیں اور ملک و قوم کو وردی سے نجات دلائی جائے۔

ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے اضلاع سے حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سینتالیس اراکین پنجاب اسمبلی اور انتیس رکن قومی اسمبلی ہیں۔ ان کے علاوہ مقامی ناظمین ہیں۔

صدر مشرف نے مجموعی طور پر پچاسی افراد کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق صرف ستر افراد نے شرکت کی۔

صدر کے باوردی انتخاب پر حکمران مسلم لیگ میں اختلافات تو گزشتہ چند ہفتوں سے سننے میں آ رہے تھے اور مقامی ذرائع ابلاغ وزیر مملکت اسحاق خاکوانی، نیلوفر بختیار، خورشید قصوری، مجید ملک، ظفراللہ جمالی، منظور وٹو، حامد ناصر چٹھہ کے حوالے سے اختلافی خبریں بھی شائع کرتا رہا ہے لیکن حکمران مسلم لیگ کا یہ اختلاف صدر کے انتخابی مہم کے چلنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ادھر اپوزیشن پارٹیاں عدالتی چارہ جوئی، احتجاجی تحریک اور مشترکہ استعفوں کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔

مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر کبیر علی واسطی کہتے ہیں کہ صدر مشرف کی تمام مشکلات کا حل بے نظیر بھٹو سے ڈیل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ صدر مشرف اپوزیشن رہنماؤں کو وطن واپسی کا راستہ دے کر بےنظیر اور نواز شریف کو خوش کریں، گریجوایشن کی شرط ختم کر کے مجلس عمل کو راضی کریں اور بدلے میں اپنے لیے صدراتی امیدوار بننے کی راہ میں حائل آئینی رکاوٹ دور کرالیں۔ تاہم کبیر واسطی کے بقول چودھری شجاعت کی سربراہی میں مسلم لیگ کا ایک دھڑا مشرف بے نظیر ڈیل کی راہ میں حائل ہے۔

انہوں نے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا نام لیکر کہا کہ ’وہ واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ بے نظیر سے ڈیل کو نہیں مانیں گے‘۔

چودھری شجاعت
باوردی انتخاب کے سب سے بڑے حامی چودھری صاحبان ہیں: تجزیہ نگار

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے باوردی انتخاب کے سب سے بڑے حامی چودھری صاحبان ہیں کیونکہ ناقدین کے بقول انہیں اپنی سیاسی بقاء مشرف کی وردی میں نظر آتی ہے۔

کبیر واسطی نے کہا کہ صدر مشرف کے ساتھیوں نے ہمیشہ ان کے باوردی اقتدار کی طوالت کی ہی منصوبہ بندی کی ہے۔ کبھی بغیر وردی انتخاب کے بارے میں سوچا ہی نہیں اور اسی وجہ سے صدر مشرف آج مشکل میں ہیں۔

کبیر واسطی کا کہنا ہے کہ صدر کے باوردی انتخاب میں آئینی، عدالتی، قانونی، سیاسی، اخلاقی ہر طرح کی رکاوٹ حائل ہے اور قوم کو خوامخواہ تقسیم کیا جا رہا ہے۔ جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا فوج میں بھی چیف آف آرمی سٹاف کے بطور صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر اختلاف پایا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کا چیف آف آرمی کا عہدہ چھوڑ دینا خود فوج کے حق میں بھی ہے۔

اتوار کو لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ایک تقریب میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگی اراکین اسمبلی کا صدر مشرف سے ملاقات کے لیے نہ آنا پارٹی سے بغاوت نہیں بلکہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صدارتی انتخاب کے بارے میں سب کو پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ ماننا ہوگا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے لیے اپنے تمام اراکین کو صدر کے باروردی انتخاب پر راضی کرنا موجودہ حالات میں بظاہر ایک مشکل کام لگ رہا ہے۔

پرویز مشرفجنرل مشرف کی جیت
مقامی انتخابات سیاسی بساط پر حکومتی چال
صدر جنرل پرویز مشرف’با وردی انتخاب‘
وزیر قانون کے مطابق صدر با وردی رہیں گے
مشرف اور آئین
کیا کوئی3 مرتبہ صدر کا حلف اٹھا سکتا ہے؟
مشرف’مشرف کا سایہ‘
مسلم لیگ میں اختلافات لیکن ٹوٹنے کا امکان کم
اسی بارے میں
پہلے انتخاب پھر وردی: مشرف
06 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد