’پرویز مشرف آئے گا پھر دوبارہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران جماعت مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب لڑنے اور موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ منتخب ہونے کے اعلان کے ساتھ جنرل مشرف کی انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔ صدارتی انتخاب کی مہم کے لیے خواتین ارکان اسمبلی نے لاہور کی معروف اور مصروف شاہراہ مال روڈ پر بینرز لگائے ہیں جن پر صدر مشرف کی باوردی تصویر اور ان کے حق میں نعرے درج ہیں۔ حکومتی ارکان کی طرف سے یہ اشارے دیے جا رہے ہیں کہ ملک میں صدارتی انتخاب اس سال پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر کے درمیان منعقد ہونگے جبکہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت بھی اس سال ختم ہو رہی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی الیکشن شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے ارکان پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلٰی پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں صدر جنرل مشرف کی صدارتی مہم چلانے کا اعلان کیا تھا اور اس ضمن میں ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی تھی۔ صدارتی انتخاب کے لیے جنرل پرویز مشرف سرگرم عمل ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے لیے فیصل آباد اور لاہور میں ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔ رکن قومی اسمبلی مہناز رفیع کی طرف سے لگائے جانے والے بینر پر درج ہے جمعہ کے روز جس وقت صدر جنرل پرویز مشرف اپنی صدارتی مہم کے حوالے سے لاہور میں ارکان اسمبلی سے ملاقات کر رہے تھے اس وقت سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفٰی کھر نے پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ تمام اپوزیشن متحد ہو کر صدارتی انتخاب کے خلاف فوری حکمت عملی اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ارکان اسمبلی جنرل مشرف کو ووٹ دیں گے وہ غداری کے مرتکب ہونگے۔ صدر جنرل مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کے معاملے پر پہلے سے ایک آئینی اور قانونی بحث شروع ہوچکی ہے اور جنرل مشرف کے حامیوں کا یہ موقف ہے کہ جنرل مشرف موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہوسکتے ہیں۔ ان کے دوبارہ چناؤ میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ مشرف مخالف کیمپ کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت صدر مشرف دوبارہ صدر نہیں بن سکتے۔ صدر مشرف کے دو عہدے رکھنے کے بارے میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ صدر مشرف کے دوبارہ انتخاب کی صورت میں بعض سیاسی حلقے اور وکلاء تنظیمیں عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تہتر کے دستور کے تحت پاکستان کے صدر کا عہدہ نمائشی تھا لیکن فوجی مداخلت اور اس کے نتیجے میں آئین میں ہونی والی ترامیم نے صدر مملکت کا منصب اس قدر مضبوط بنا دیا ہے کہ آج نہ صرف صدر کا منصب وزیر اعظم کے عہدے پر حاوی ہوگیا ہے بلکہ ملک میں صدارتی انتخاب کے لیے انتخابی مہم بھی لاہور کی مشہور اور مصروف سڑک مال روڈ پر ارکان اسمبلی کی جانب سے بینرز لگا کر کی جا رہی ہے۔ |
اسی بارے میں مشرف کی آئینی مشکلات01 January, 2007 | پاکستان جے یو آئی: صدارتی انتخاب کی مخالفت 22 January, 2007 | پاکستان ’صدارتی انتخاب الیکشن سے پہلے‘27 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||