BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے یو آئی: صدارتی انتخاب کی مخالفت

مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان خود اپوزیشن کی تمام سیاسی پارٹیوں سے رابطے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ صدراتی انتخاب کی مخالفت کی ہے۔

جمعیت کے امیر اور قومی اسمبلی میں قائِد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حالات پر غور کے لیے اپنی پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے۔

جے یوآئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر جنرل پرویزمشرف نے ایسی کوشش کی تو مولانا فضل الرحمان خود اپوزیشن کی تمام سیاسی پارٹیوں سے رابطے کریں گے اور استعفوں کے حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی کوشش کریں گے۔

تاہم مولانا امجد خان نے کہا کہ اس مرحلے پر مجلس عمل کے اراکین یک طرفہ طور پر استعفے نہیں دیں گے بلکہ اس کے لیے شرط ہوگی کہ پہلے ایک گرینڈ الائنس بنایا جائے اور پھر اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں مستعفی ہونے کا مشترکہ فیصلہ کریں۔

مولانا امجد خان نے جے یوآئی کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پیر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی بحران میں مبتلا ہے اور موجودہ اسمبلیوں سے صدر کا انتخاب دوسری بار کروانے سے ملک ایک نئے بحران میں مبتلا ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں جے یو آئی کے اجلاس کے بعد مجلس عمل کے سربراہی اجلاس کے ساتھ سپریم کونسل کے اجلاس بھی ہونگے جن میں دیگر معاملات کے علاوہ صدراتی انتخاب پر بھی غور ہوگا۔

جے یوآئی کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس سے ایک روز پہلے ہی مجلس عمل کی ایک دوسری اتحادی جماعت جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ انس نورانی نے کہا تھا کہ اگر صدر مشرف نے انہی اسمبلیوں سے منتخب ہونے کی کوشش کی تو مجلس عمل گورنر کو سرحد حکومت توڑنے کا مشورہ دے گی۔

جے یوآئی کے ترجمان امجد خان نے کہا کہ ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سرحد حکومت ٹوٹنے سے صدارتی انتخاب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی آنے والے انتخابات کا کسی صورت بائیکاٹ نہیں کرے گی اور دوسری جماعتوں کو بھی مشورہ دے گی کہ وہ بھی الیکشن میں حصہ لیں۔

 سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہی اسمبلیوں سے دوبارہ صدارتی انتخاب کی کوشش کی گئی تو اس سارے عمل میں صدر مشرف کے بعد اہم ترین شخصیت جے یو آئی کےامیر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ پہلے حکومت مخالف تحریک چھوڑ کر بھاگی پھر اس نے گرینڈ الائنس نہیں بننے دیا اور اب وہ نواز شریف کی بلائی گئی کثیر جماعتی کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہی ہے۔

جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ لندن کانفرنس کا بلایا جانا خوش آئند ہے لیکن اس سلسلے میں جے یو آئی وقت اور جگہ کا تعین ہونے کے بعد فیصلہ کرے گی۔

پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کی دو بڑی پارٹیوں جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیان اس وقت اختلاف دیکھنے میں آیا تھا جب جماعت اسلامی خواتین بل کے خلاف قومی اسمبلی سے مجلس کے اراکین کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا لیکن جے یو آئی کی مخالفت کے بعد اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

اس وقت مستعفی نہ ہونے کے فیصلے کو مجلس عمل سے منوانے کے بعد قومی سیاست میں جے یوآئی کے کردار کو زیادہ اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہی اسمبلیوں سے دوبارہ صدارتی انتخاب کی کوشش کی گئی تو اس سارے عمل میں صدر مشرف کے بعد اہم ترین شخصیت جے یو آئی کےامیر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کی ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
اپوزیشن کا کچھ نکات پر اتفاق
02 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد