جے یو آئی نے چار اراکین کو نکال دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں حکمراں جماعت جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کی ہدایت پر حالیہ سینٹ انتخابات میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزام میں چار ممبران کو پارٹی اور اسمبلی سے نکال دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان پشاور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سربراہ مولانا امان اللہ اور رکن قومی اسمبلی قاری فیاض الرحمان نے کیا۔ مستعفی ہونے والے اراکین جے یو آئی میں کوہستان سے تعلق رکھنے والے مولانا دلدار احمد، خواتین اراکین یاسمین خالد، رخسانہ راز اور اقلیتی رکن گور سرن لعل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جے یو آئی نے اپنے ایک اہم رہنما مفتی کفایت اللہ پر بھی جماعت میں تین برس کے لیئے کوئی عہدہ استعمال کرنے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ مفتی کفایت اب تک جماعت کے ترجمان کی حیثیت سے بھی کام کر رہے تھے۔ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ ان چاروں پر الزامات ثابت ہوگئے تھے۔ اس سے قبل جمعیت علما اسلام (سمیع الحق گروپ) کے ڈپٹی سپیکر اکرام اللہ شاہد بھی گزشتہ دنوں سینٹ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کے الزام میں مستعفی ہوچکے ہیں۔ اس موقعہ پر وزیر اعلٰی سرحد اکرم خان درانی نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس مقصد کے لیئے قائم تحقیقاتی ٹیم کے سامنے سب اراکین پیش ہو کر بیان دیں گے۔ ویسے تو حکمراں اتحاد کے سولہ افراد بتائے جاتے ہیں جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی تاہم ایم ایم اے کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اتنی نہیں ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے اس طرح کے مزید فیصلے بھی شاید سامنے آئیں۔ | اسی بارے میں سرحد میں مسلم لیگ (ق) کو برتری07 October, 2005 | پاکستان مولانا فضل الرحمٰن کی مشکلات20 August, 2005 | پاکستان ضمنی انتخاب: جے یو آئی کا بائیکاٹ10 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||