مشرف صدر نہیں رہ سکتے: مجلس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلسِ عمل کی سپریم کونسل نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے اہل نہیں ہیں اور اگر آئین میں تبدیلی کے ذریعے انہوں نے آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو مجلسِ عمل اس کی بھر پور انداز میں مخالفت کرے گی۔ پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہونے والے متحدہ مجلسِ عمل کے سربراہ اجلاس کی تفصیلات صحافیوں کو بتاتے ہوئے مجلسِ عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ سپریم کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر آئین میں ترمیم کے ذریعے یہ کوشش کی گئی کہ سرکاری ملازمین پر انتخابات میں ملازمت کے بعد دو سال تک حصہ نہ لینے کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ نہ صرف ایک غلط قدم ہوگا بلکہ یہ ایک کالا قانون ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ سربراہ اجلاس کے خیال میں صدر جنرل مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات ملک میں جمہوریت ، سیاسی عمل اور عوامی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ کے مابین طے پانے والے میثاقِ جمہوریت کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس کے شرکاء کا، جن میں متحدہ مجلسِ عمل کی تمام چھ جماعتوں کے سربراہ اور نمائندے شامل تھے، کہنا تھا کہ جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان معاہدہ امریکی ایجنڈے کی تکمیل پر اور اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے گٹھ جوڑ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف حکومتِ پاکستان کے حالیہ تعاون کی پالیسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ، سربراہ اجلاس نے صدر جنرل پرویز مشرف سے کہا کہ وہ اپنی پالیسی کی ناکامی کے اعتراف میں اپنے منصب کو چھوڑ دیں۔ سربراہ اجلاس نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی ملکی سیاست میں شمولیت فساد کی جڑ ہے اور فوج کو آئین کے دائرے کار کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چا ہیے۔ اس موقع پر متحدہ مجلسِ عمل کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنرل مشرف امریکی مفادات کے تحفظ اور امریکی پالیسیوں کو تسلسل دینے کے بدلے میں اپنے اقتدار کو طول دینے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کی بے نظیر بھٹو سے ملاقات کا مقصد یہ ہے کہ امریکی پالیسیوں کو تسلسل دینے کے لیے وہ کس سیاسی قوت کی مدد لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی حیثیت تو اب چلے ہوئے کارتوس کے مترادف ہے لہذٰا جنرل مشرف کو اب ایک اور سیاسی قوت کی ضرورت ہے جس کے لیے پی پی پی تیار ہے اور اسے ایک آمر کا ساتھ دینے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی۔ سربراہ اجلاس نے انتہا پسندی، شدت پسندی، تشدد اور اسلحے کی بنیاد پر کسی بھی کارروائی کی مخالفت کی اور کہا کہ آئین کی عملداری ، شریعت کے نفاذ اور ملک میں پائیدار تبدیلی کے لیے آئین ، قانون اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ متحدہ مجلسِ عمل نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ لال مسجد، جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفصہ کا انتظام علماء اور وفاق المدارس کے مشورے سے طے کیا جائے اور یہ کہ تمام گرفتار طلباء اور اساتذہ کو رہا کیے جانے کے علاوہ جاں بحق افراد کی لاشیں ان کے ورثاء کے حوالے کی جائیں۔ حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ایک عدالتی کمیشن کے ذریعے لال مسجد کے فوجی آپریشن کی بارے میں تحقعقات کی جائیں۔ | اسی بارے میں پردہ داری کے خلاف ’امتیاز‘ پر بِل26 June, 2007 | پاکستان خواتین کے تحفظ کے لیے نئے بِل28 June, 2007 | پاکستان ایم ایم اے کا احتجاج کا اعلان 24 May, 2007 | پاکستان فوج تعیناتی،مجلس میں اختلافات14 July, 2007 | پاکستان ’عوام جمہوریت کے لیے باہر آئیں‘26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||