BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 June, 2007, 23:06 GMT 04:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پردہ داری کے خلاف ’امتیاز‘ پر بِل

پردہ دار خاتون
بل ایم ایم اے سے تعلق رکھنے والی چھ خواتین ارکان صوبائی اسمبلی نے جمع کرایا ہے
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان اسمبلی نے ایک ایسا بل جمع کرایا ہے جو ان کے بقول کام کرنے والی خواتین کے ساتھ پردے کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتنے کے خلاف ہے۔

سرحد اسمبلی کے سپیکر سیکرٹریٹ میں جمع کرائے گئے اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگرصوبے کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خاتون ملازمین کو عہدے میں ترقی، ملازمت یا داخلہ دینے میں پردے کی بنیاد پرامتیازی رویہ روا رکھا گیا تو یہ ایک قابل سزا عمل ہوگا۔

پردہ داری کے حقوق
 بل میں پردے کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانےکی سزا پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور ایک ماہ تک قید (یا پھر دونوں) تجویز کی گئی ہے

اس بل میں پردے کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانےکی سزا پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور ایک ماہ تک قید (یا پھر دونوں) تجویز کی گئی ہے۔

بل متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی چھ خواتین ارکان صوبائی اسمبلی شگفتہ ناز، زبیدہ خاتون، فوزیہ فرخ، نرگس زین، آفتاب شبیر اور صابرہ شاکر کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ بل پر جمعرات کے روز بحث کی جائے گی۔

’برقعہ کا مذاق‘
’برقعہ‘ کا مذاق اڑانے پر ڈرامے پر پابندی
خاتونسیاسی مصلحت
عورتوں کے حقوق میں رکاوٹ، ملا ملٹری اتحاد
شیری’حقوق نسواں‘
بل ایک ترمیم سے منظور ہوا: شیری رحمان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد