عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | بل ایم ایم اے سے تعلق رکھنے والی چھ خواتین ارکان صوبائی اسمبلی نے جمع کرایا ہے |
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان اسمبلی نے ایک ایسا بل جمع کرایا ہے جو ان کے بقول کام کرنے والی خواتین کے ساتھ پردے کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتنے کے خلاف ہے۔ سرحد اسمبلی کے سپیکر سیکرٹریٹ میں جمع کرائے گئے اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگرصوبے کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خاتون ملازمین کو عہدے میں ترقی، ملازمت یا داخلہ دینے میں پردے کی بنیاد پرامتیازی رویہ روا رکھا گیا تو یہ ایک قابل سزا عمل ہوگا۔  | پردہ داری کے حقوق  بل میں پردے کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانےکی سزا پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور ایک ماہ تک قید (یا پھر دونوں) تجویز کی گئی ہے  |
اس بل میں پردے کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانےکی سزا پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور ایک ماہ تک قید (یا پھر دونوں) تجویز کی گئی ہے۔ بل متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی چھ خواتین ارکان صوبائی اسمبلی شگفتہ ناز، زبیدہ خاتون، فوزیہ فرخ، نرگس زین، آفتاب شبیر اور صابرہ شاکر کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ بل پر جمعرات کے روز بحث کی جائے گی۔ |