’برقعہ‘ کا مذاق، ڈرامے پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیرِ ثقافت غازی گلاب جمال نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ حکومت نے لاہور میں ایک ایسے سٹیج ڈرامے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے جس میں ’برقعہ‘ کا مبینہ طور پر مذاق اڑایا گیا تھا۔ ’برقعہ ویگنزا‘ نامی یہ ڈرامہ اٹھارہ اپریل کو الحمراء تھیٹر میں اجوکا تھیٹر گروپ نے پیش کیا تھا۔ جمعرات کو مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی سمیعہ راحیل قاضی اور دیگر ممبران کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ لاہور میں پیش کیے جانے والے ایک سٹیج ڈرامے میں برقعہ کا مذاق اڑایا گیا اور کہاگیا کہ اس کا اسلام سے تعلق نہیں۔ نوٹس کے جواب میں وزیر نے کہا کہ متعلقہ ڈرامے کی سی ڈی منگوائی گئی ہے اور حکومت جائزہ لے گی کہ اس میں پاکستانی ثقافت و اقدار کا کوئی مذاق اڑایا گیا ہے کہ نہیں۔ عائشہ منور اور رضیہ عزیز کے سوالات کے جواب میں وزیر نے کہا کہ لاہور میں اٹھارہ اپریل کو دکھائے گئے ڈرامے میں اگر کوئی چیز غلط ہوئی تو اس پر مکمل پابندی لگائی جائے گی اور متعلقہ تھیٹرگروپ کا لائسنس بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فریدہ احمد صدیقی نے جب کہا کہ برقعہ ثقافتی نہیں اسلامی معاملہ ہے تو اس پر حکمران مسلم لیگ کی رکن مہناز رفیع نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ برقعہ اسلامی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق برقعے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر دونوں میں تلخی بھی پیدا ہوگئی۔ وزیرِ ثقافت نے کہا کہ پاکستان میں سب کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق ہے لیکن جب کوئی بے حیائی والا لباس پہنے گا تو لوگ اُسے روکیں گے۔وزیر نے کہا کہ حکومت نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور وہ ڈرامہ دیکھنے کے بعد ہی اس بارے میں تفصیل سے کچھ کہہ سکیں گے۔ ڈاکٹر فریدہ نے بتایا کہ وہ حال ہی میں یورپ کے بعض ممالک کا دورہ کرکے آئیں ہیں اور وہاں مسلمان لڑکیاں سوئمنگ کے لیے بھی پردے والا لباس پہنتی ہیں اور وہ مسلمان خواتین میں مقبول ہورہا ہے لیکن ان کے مطابق اسلام کے قلعہ پاکستان میں اسلامی روایات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں لپ سٹک بریگیڈ بمقابلہ سٹک بریگیڈ10 April, 2007 | پاکستان تعلیمی اداروں میں پردہ ضروری22 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||