تعلیمی اداروں میں پردہ ضروری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکومت نے لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کے پرنسپلز اور ہیڈ مسٹرسز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سکولوں اور کالجوں میں لڑکیوں کے لیے پردے کا خصوصی اہتمام کریں ۔ یہ احکامات بظاہر درہ آدم خیل میں مقامی طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر لڑکیوں کے سکولوں پر حالیہ بم حملوں کے پیش نظر جاری کیے گئے ہیں ۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اسلحے کے لیے پوری دنیا میں ایک بڑی مارکیٹ کے طورپر مشہور درہ آدم خیل میں لڑکیوں کے سرکاری اور نجی سکولوں اور کالجوں پر تین بم حملے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں مقامی طالبان کے جنگجو ملوث ہوسکتے ہیں۔ درہ آدم خیل کے پولیٹکل تحصیلدار عبد الغفور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دو دن قبل انہوں نے علاقے میں قائم سرکاری اور نجی خواتین تعلیمی اداروں کے پرنسپلز اور ہیڈ مسٹرسز سے ملاقات میں ان کو سختی سے ہدایات کی کہ وہ اپنے اپنے تعلیمی اداراوں کی طالبات کے لیے پردے کا خصوصی اہتمام کو یقینی بنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات علاقے میں شدت پسندوں کی جانب سے تعلیمی اداروں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ سے مقامی طالبان کی طرف سے علاقے میں وقتاً فوقتاً دھمکی آمیز پمفلٹس بھی جاری کیے جاتے رہے جس میں دھمکیاں دی گئی کہ طالبات ’فیشن ایبل ’ یا کالا برقعہ پہننے سے گریز کریں بلکہ شٹل کاک برقعہ پہنیں تاہم سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ واضع رہے کہ درہ آدم خیل پشاور کے جنوب میں تقریباً تیس کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔ | اسی بارے میں ’بیٹا مارا گیا، انہوں نے بس بہت ظلم کیا‘20 January, 2007 | پاکستان بارودی سرنگوں کی تجویز پر تنقید28 December, 2006 | پاکستان فوجی کارروائیاں، ہلاکتیں اور امن معاہدے24 December, 2006 | پاکستان وزیرستان امن معاہدہ،جائزہ کاحکم23 December, 2006 | پاکستان خیبر ایجنسی تصادم میں چھ ہلاک16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||