BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 November, 2006, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر ایجنسی تصادم میں چھ ہلاک

خیبر ایجنسی
لڑائی جمعرات کو خیبر ایجنسی کے علاقے تیرہ کے دور افتادہ مقام آکاخیل میں ہوئی
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو مخالف مذہبی تنظیموں کے حامیوں کے مابین جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ لڑائی جمعرات کو خیبر ایجنسی کے علاقے تیرہ کے دور افتادہ مقام آکاخیل میں اس وقت شروع ہوئی جب مذہبی تنظیم لشکر اسلامی نے مخالف تنظیم انصار الاسلام کے حامیوں گل مرعان گروپ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں لشکر اسلامی کے چار اور انصار الاسلام کے دو حامی ہلاک جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آکاخیل کے تین علاقوں خورمتنگ، ژوارہ اور ژراندوکلے میں دونوں تنظیموں کے مابین ابھی بھی لڑائی جاری ہے اور فریقین ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔

واضع رہے کہ لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ نے چند ماہ قبل خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سینکڑوں مسلح حامیوں کی موجودگی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے تحت علاقے میں مسلح گشت کرنے اور مختلف جرائم کےلیے اسلامی سزائیں دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ نے سینکڑوں حامیوں کی موجودگی میں ایک کمیٹی بنائی تھی جس کا مقصد اسلامی سزائیں دینا تھا

تاہم بعد میں پولیٹکل انتظامیہ نے منگل باغ گروپ پر دباؤ ڈالنے کےلیے باڑہ بازار ایک ماہ کےلیے بند کیا تھا اور اس کے قبیلے سے علاقے میں امن وامان کی صورتحال خراب نہ کرانے کی ضمانت لی گئی۔

اس دوران ایک اوراسلامی تنظیم انصارالاسلام کا وجود عمل میں لایا گیا جس نے علاقے میں منگل باغ گروپ کی کارروائیوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ان دونوں شدت پسند تنظیموں کے مابین تیرہ کے علاقے میں کئی بار خون ریز جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں درجنوں بےگناہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ان جھڑپوں میں بھاری ہتھیار استعمال ہوتے رہے جن سے بے گناہ لوگ نشانہ بنتے رہے ہیں تاہم مقامی انتظامیہ اب تک ان شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد