خیبر ایجنسی: جھڑپیں، تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو مذہبی تنظیموں کے مابین ایک مرتبہ پھرمسلح لڑائی چھڑ گئی ہے جس میں ’تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں‘۔ زخمیوں میں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ علاقے سے ملنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق یہ لڑائی منگل کی رات اس وقت شروع ہوئی جب انصار الاسلام نامی ایک تنظیم کے سینکڑوں مسلح حامیوں نے خیبر ایجنسی کے دورافتادہ علاقے ملک دین خیل میں ستر غر کے مقام پر مخالف تنظیم لشکر اسلامی کے پہاڑوں میں واقع واحد مورچے پر بھاری ہتھیاروں سے رات کے تاریکی میں حملہ کردیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے حملے کے وقت مورچے میں لشکر اسلامی کے دو سو کے قریب رضاکار موجود تھے جنھوں نے حملہ آوروں پر بھاری ہتھیاروں سے جوابی فائرنگ شروع کر دی جس سے ان دو مذہبی تنظیموں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور فریقین نے قریبی علاقوں سے ایک دوسرے پر مارٹر گنوں اور راکٹ لانچروں سے حملے کئےجس سے کئی افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ تاہم خیبر کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق لڑائی میں اب تک لشکر اسلامی کے تین حامی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے دو کو شدید زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں داخل کرادیا گیا ہے۔ ادھر لشکر اسلامی نے مخالف تنظیم کے پانچ افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ حکام کے مطابق لڑائی میں انصار الاسلام کے بھی پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واضع رہے لشکر اسلامی اور انصار الاسلام خیبر ایجنسی میں دو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی مخالف اسلامی تنظیمیں ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف مختلف قسم کے فتوے لگاتی رہی ہیں۔ ان دونوں تنظیموں کے مابین گزشتہ چند مہنیوں سے کئی مرتبہ خون ریز لڑائیاں ہوچکی ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں مزار پر لڑائی، مزید تیرہ افراد ہلاک06 October, 2006 | پاکستان اورکزئی کشیدگی:دو مزید ہلاک07 October, 2006 | پاکستان اورکزئی ایجنسی، جرگہ ناکام 08 October, 2006 | پاکستان 23 افراد ہلاک: اورکزئی لڑائی بند10 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||