مزار پر لڑائی، مزید تیرہ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پانچ دن سے ایک مزار کی ملکیت کے تنازعے پر مسلسل جاری فرقہ وارانہ فسادات میں مارٹر گولہ پھٹنے کے ایک واقعہ میں 13 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ اس طرح لڑائی میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس سے تجاوز کرگئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ پانچ دن سے مسلسل مزار پر راکٹ حملے ہورہے ہیں جس کی وجہ سے مزار تباہ ہوگئی ہے۔ اور جمعہ کے روز بھی وہاں مسلح لڑائی جاری ہے۔ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تازہ واقعہ جمعرات جمعہ کی رات اس وقت پیش آیا جب ایک فریق کی جانب سے متنازعہ مزار ’میاں زیارت‘ پر مارٹر گنوں سے حملہ کیا گیا جس سے تیرہ افراد موقع پر ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔ حملے میں مزار بھی تباہ ہوگئی ہے۔ اورکزئی ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ شیر عالم محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ تازہ واقعہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب لوئر اورکزئی کے صدر مقام کلایہ میں لیڑی کے مقام پر دو مذہبی فرقوں کے درمیان گزشتہ چار دنوں سے جھڑپیں جاری تھیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق فسادات میں اب تک دونوں طرف سے بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ غیرسرکاری ذرائع یہ تعداد چالیس سے زائد بتا رہے ہیں۔ ادھر جمعے کے روز پانچویں دن بھی لڑائی جاری رہی اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ لڑائی پیر کے روز اس وقت چھڑ گئی جب ایک فرقے کے پچاس کے قریب مسلح افراد نے لیڑی میں واقع متنازعہ مزار ’میاں زیارت‘ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر مخالف فرقے کے حامیوں نے مزار پر فائرنگ شروع کردی ۔ علاقے میں سخت خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، تمام سکول اور بازار بند ہیں جبکہ دوسری طرف لڑائی کے شدت کے باعث بعض لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کردی ہے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہورہے ہیں۔ جدید ہتھیاروں کی آزادانہ فائرنگ اور گرج کی وجہ سے زیادہ تر لوگ گھروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ ان کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرانے کے لئے لویہ جرگہ تشکیل دیا ہے تاہم پولیٹکل حکام اب تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور لڑائی روکنے میں مکمل طور پر ناکام اور بے بس نظر آرہی ہے۔ واضح رہے کہ لیڑی میں واقع ’میاں زیارت‘ کا مزار دونوں مذہبی فرقوں کے مابین ایک متازعہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس پر کئی سالوں سے ملکیت کا تنازعہ چلا آرہا ہے۔ ماضی میں اس مزار پر دونوں فرقوں کے مابین کئی مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں خیبر: مذہبی تصادم میں 9 افرادہلاک13 August, 2006 | پاکستان پشاور: مذہبی ہم آہنگی پر کانفرنس 18 August, 2006 | پاکستان خیبر ایجنسی تشدد میں تین ہلاک12 August, 2006 | پاکستان درگاہ بم دھماکے کے ملزمان گرفتار16 April, 2005 | پاکستان اورکزئی ایجنسی شیعہ سنی فسادات 03 October, 2006 | پاکستان باڑہ جھڑپوں میں تین ہلاک21 July, 2006 | پاکستان ’مزاروں پر بھی فوج کا قبضہ ہے‘02 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||