BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 August, 2006, 03:14 GMT 08:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: مذہبی ہم آہنگی پر کانفرنس

پشاور (فائل فوٹو)
کانفرنس پشاور میں منعقد ہوئی
عالمی مجلس ادیان یا ’ورلڈ ریلیجنزز کونسل‘ کے زیر اہتمام بین المذاہب امن و ہم آہنگی کانفرنس کی طرف سے اعلانِ پشاور کے نام سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں ملکی و بین الااقوامی سطح پر تمام اہل مذاہب کے ما بین فلاح انسانی اور متفقہ امور پر مکالمے، تفاہم اور تعاون کے لیئے کام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

عالمی مجلس ادیان اور وزارت مذہبی امور صوبہ سرحد کے زیر اہتمام جمعرات کے روز پشاور میں منعقدہ بین المذاہب امن و ہم آہنگی کانفرنس میں مسلم ، ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے سات سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر جاری کی گئی سات نکاتی اعلامیہ میں ہر قسم کی انفرادی ، گروہی اور ریاستی دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس کے خلاف ملکی اور عالمی سطح پر صدائے احتجاج بلند کرنے کا عزم کیا گیا۔اعلامیہ میں عالمی سطح پر انسانیت کش طاقت کے استعمال کی بجائے مکالمے اور دلیل کی روایت کو پروان چڑھانے کی کوشش پر زور دیا گیا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم خان درانی نے کہا کہ مذاہب نفرت پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ محبت اور امن وآشتی پیدا کرنے کے لئے لائے گئے ہیں

اس سے قبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم خان درانی نے کہا کہ مذاہب نفرت پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ محبت اور امن وآشتی پیدا کرنے کے لئے لائے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج مغرب میں انسانی حقوق و مذہبی آزادی کے بہت سے نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن سب سے زیادہ مذہبی آزادی پغیمبر اسلام نے روشناس کرائی۔

وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت مذہبی رواداری کے اصولوں پر چل کر کام کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج جتنی آزادی اقلیتوں کو یہاں حاصل ہے اور کہیںنہیں۔

عالمی مجلس ادیان کے صدر مولانا حنیف جالندھری نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ دراصل یہ مکالمہ مذاہب کے مابین نہیں بلکہ اہل مذاہب کے درمیان ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ مل کر اپنے مسائل حل کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جیو اور جینے دو کی پالیسی ہے اور بقول ان کے آج ایسے فورم کی ضرورت ہے جس کے تحت مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو درپیش مسائل کو مکالمہ کے ذریعے سے حل کیا جاسکے۔

کانفرنس سے صوبائی وزیر مذہبی امور آمان اللہ حقانی، مولانا فخر الحسن کراری، سابق وزیر قاری روح اللہ مدنی، مولانا عبد المالک، بِشپ آف لاہور سموئیل عزریہ، آرن سرف دیال، سردار سردیپ سنگھ، بشپ آف پشاور منوررمل شاہ اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس میں ہندو، عیسائی، مسلم، سکھ اور دیگر مذاہب کے رہنماؤں کے علاوہ ان مذاہب کے پیروکاروں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اسی بارے میں
امریکی تنقید غلط ہے: مشرف
16 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد