BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 April, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لپ سٹک بریگیڈ بمقابلہ سٹک بریگیڈ

جامعہ حفصہ کی خواتین کا بچوں کی لائبریری پر ابھی تک قبضہ جاری ہے
اسلام آباد میں قائم جامعہ حفصہ میں صرف لباس اور پردے کا ہی نہیں بلکہ ذہنوں کا رنگ بھی یکساں لگتاہے۔ آپ کسی سے کچھ بھی پوچھ لیں جواب پروگرامڈ ہی آئے گا۔ اسی لیے جامعہ حفصہ کی طالبات میڈیا کا سامنا کرنے سے بالکل نہیں گھبراتیں۔

پچھلی جنوری میں بچوں کی لائبریری پر قبضے سے لے کر تین خواتین کو یرغمال بنانے تک اور پھر شرعی عدالت کے قیام تک اس مدرسے کی پر اعتماد لڑکیوں نے کامیابی کے کئی پھل دیکھے اور سمیٹے ہیں۔اور یہ اعتماد ان لڑکیوں میں مزید کچھ کرنے کا جذبہ ابھار رھا ہے۔

اس ماحول میں صدر پرویز مشرف کا معاشرے کو اعتدال پسند بنانے کا سرکاری پروگرام ٹھوس کم اور لیپا پوتی زیادہ لگتا ہے۔

مثلاً آپ کو صدر صاحب کبھی کبھار پاپ بینڈ گروپس کے ساتھ تھرکتے دکھائی دیں گے۔ ٹی وی چینلز پر آپ طرح طرح کے لباس میں ملبوس مہانوں کی رسیلی گفتگو سے بھی لطف حاصل کر سکتے ہیں۔ موبائل فون کمپنیوں کے اشتہارات میں آپ جلد سے چپکے لباسوں کی ایسی ایسی ماڈلنگ پریڈ دیکھ سکتے ہیں جس کا مشرف دور سے قبل سرکاری ٹیلی ویژن تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

پاکستان میں ایک فیشن شو میں شامل ماڈل

لیکن یہی جنابِ صدر دو برس پہلے یہ فرما کر بھی عورتوں کو ملک گیر سطح پر مشتعل کرچکے ہیں کہ کئی خواتین اس لیے بھی ریپ ہوجاتی ہیں تاکہ کینیڈا کا امگریشن ویزا آسانی سے مل جائے۔انہیں حدود آرڈیننس میں ترمیم کرنے کا خیال بھی چھ برس گزرنے کے بعد آیا کہ ریپ ہونے کے بعد چار گواہ پیش کئے بغیر بھی مظلوم عورت کی شنوائی ممکن ہے۔

لیکن جامعہ حفصہ کی لڑکیوں کے نزدیک ایسے قوانین کی خواتین کے حق میں ترمیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایک لڑکی نے مجھے کہا کہ ’مشرف کا بس چلے تو وہ تمام باپردہ عورتوں کو ملک سے باہر پھینک دے۔‘

سب لڑکیاں اس بات پر متفق دکھائی دیں کہ بے راہ روی کا پانی سر سے اتناگزر چکا ہے کہ اب معاشرے کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔

ایک اور لڑکی نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جب حکومت انصاف کی فراہمی اور نفاذِ شریعت میں ناکام ہوجائے تو پھر علما کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ یہ ذمہ داریاں پوری کریں۔آخر پاکستان اسلام کے نام پر ہی توحاصل کیا گیا تھا۔

 کوئی صدر مشرف کے دل سے پوچھے کہ چیف جسٹس کو معطل کرنے کے نتائج کا سامنا کرنا، قبائلی علاقے میں طالبان سے گتھم گھتا ہونا اور اب ناک کے عین نیچے لال مسجد اور اس کی جامعہ حفصہ کا بے قابو ہونا قیامت کی نشانی ہے کہ نہیں۔

ایک اور لڑکی نے لقمہ دیا کہ ہم بے راہروی کے خلاف جہاد کے سپاہی ہیں۔اگر صہبا مشرف بھی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئیں تو ہم انہیں پکڑنے سے بھی نہیں چوکیں گے۔

اس وقت ملک واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک جانب ذرائع ابلاغ میں سیکسی پاکستانی ماڈلز اور نیم عریاں ہندوستانی اداکاراؤں کی تصاویر، اشتہارات اور فلمیں ہر ایک کی دسترس میں ہیں تو دوسری جانب غریب اور متوسط طبقے کی ایسی ہزاروں سرتاپا برقعہ پوش خواتین ہیں جنہوں نے اپنی شناخت کو نقابوں کے پیچھے تحلیل کردیا ہے اور وہ اس بات پر پوری طرح قائل ہیں کہ طبلِ جنگ بج چکا ہے۔ جامعہ حفصہ کی سات ہزار خواتین اس طبقہ فکر کی واضح ترین تصویر ہیں۔

ویسے تو پاکستانی سماج بہت پہلے سے ان دو طبقہ خیالات میں بٹا ہوا ہے لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ یہ تقسیم روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ایک جانب سٹک بردار بریگیڈ ہے تو دوسری جانب لپ سٹک بردار بریگیڈ۔ فرق ہے تو صرف یہ کہ سٹک بردار خواتین نہ صرف یقین بلکہ ہتھیار سے بھی مسلح ہیں۔

لیکن اس خلیج سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ حکومت بڑہتی ہوئی طالبانئیت کے مقابلے میں مفلوج ہونے کا تاثر دے رہی ہے۔ بقول صدر مشرف اگر کچھ نہ کریں تو مصیبت ،کریں تو مصیبت۔ کوئی نہیں جانتا کہ پردہ دار لڑکیوں کے خلاف کارروائی کا سیاسی نتیجہ کیا نکلے گا۔

دوسری جانب مدرسے کی انتظامیہ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ کسی پولیس ایکشن کا مقابلہ خودکش حملوں سے کیا جائے گا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ شہادت سے زیادہ شیریں اور کیا نعمت ہو سکتی ہے۔ مدرسے کی ایک استانی نے کہا کہ میں جب بھی بازار جاتی ہوں اور بے راہ روی دیکھتی ہوں تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے مجھ پر قیامت نازل ہونے والی ہے۔

لیکن کوئی صدر مشرف کے دل سے پوچھے کہ چیف جسٹس کو معطل کرنے کے نتائج کا سامنا کرنا، قبائلی علاقے میں طالبان سے گتھم گھتا ہونا اور اب ناک کے عین نیچے لال مسجد اور اس کی جامعہ حفصہ کا بے قابو ہونا قیامت کی نشانی ہے کہ نہیں۔

(عنبر رحیم شمسی نے یہ مضمون جامعہ حفصہ کی طالبات اور اساتذہ سے ملاقات کے بعد لکھا ہے)

اسی بارے میں
خودکش حملوں کی دھمکی
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد