’عوام جمہوریت کے لیے باہر آئیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی سطح پر اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور قاضی حسین احمد کی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ کے بارے میں جماعت اسلامی سے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماءاسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ مکمل جمہوریت کی بحالی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نو اگست کو ہونے والے جلسے میں بھر پور انداز میں شرکت کر کے جمہوریت کے قیام کا آغاز کریں۔
حزب اختلاف کے قائد نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں نے 12اکتوبر1999ء سے قبل کے آئین کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ تمام جماعتوں نے جنر ل مشرف کی خارجہ پالیسی کو یکسر مسترد کر کے اسے ملکی مفادات کے منافی قرار دیا ہے اور ایک متوازن اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد کے واقعے کا پاکستان کی تاریخ پر منفی اثرات پڑیں گے اور یہ فوج کے سیاہ کارنامے کے طور پر یاد گار رہے گا۔انہوں نے کہا کہ 12مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے بھی حکومت تیار نہیں ہورہی جس میں اپنے ہی قوم کا خون بہایا گیا۔ ’ہمارے قبائلی علاقوں میں صورتحال انتہائی بگڑ چکی ہے‘۔ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں امن کی بحالی کےلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی تشویشناک صورتحال کا بنیادی عنصر وہاں فوج کی موجودگی ہے اورقبائلی عوام فوج کی موجودگی کو انگریز کے ساتھ معاہدات کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں جن کو پاکستان نے بھی برقرار رکھا ہے۔ لال مسجد کے مسئلے میں اہم کردار ادا نہ کرنے کے سوال پر مولانا
موجودہ صورتحال میں تمام مدارس اور علماءکرام نے لا ل مسجد انتظامیہ کے طرز عمل سے اختلاف کیا اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ ’ہم نے ان کے طرز عمل سے ضرور اختلاف کیا مگر ان کے مطالبات درست تھے، لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں بچوں اور بچیوں کو بھون ڈالا‘۔ ہم نے مسئلے کے حل کے لیے آخری وقت تک کوششیں کیں۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن اور ایم ایم اے کے کردار سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قرارداد ایم ایم اے کی حمایت سے پاس ہوئی اگر ایم ایم اے نہ ہوتی تو وہ قرارداد پاس نہیں ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے فیصلے کے بارے میں کابینہ میں جو فیصلے ہوئے تھے اس میٹنگ کے منٹس موجود ہیں۔ ایم ایم اے نے آپریشن کی مخالفت کی تھی یا حمایت؟ انہوں نے کہا کہ جہاں ہم حکومت کی مذمت کرتے ہیں وہاں ہمیں بجلی کے کمھبے اڑانے والوں کی بھی مذمت کرنی چاہئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ شمالی وزیرستان معاہدہ ٹوٹنے کی خوشی سب سے زیادہ مغرب کو ہوئی ہے۔ ’ہم قبائلیوں کو بھی سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ پرامن رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک ہم سے رابطہ نہیں کیا۔ ’ہم خود یہ چاہتے ہیں کہ شمالی وزیرستان امن معاہدہ برقرار رہے کیونکہ اس معاہدے کی مجھ سمیت تمام عوامی نمائندوں نے حمایت کی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات نہ کرے جس سے فوج کا عوام کے ساتھ ٹکراؤ ہو ۔ قاضی حسین احمد کی جانب سے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بارے میں ایم ایم اے کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی سطح پر فیصلہ ہوچکا تھا کہ اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیں گے، قاضی حسین احمد کا استعفیٰ ایک مسئلہ ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت پروفیسر غفور احمد اور ڈاکٹر منور حسن اور نعمت اللہ خان سے ملاقات کر کے ان سے وضاحت طلب کی ہے کہ ہمارا اتحاد قاضی حسین احمد کے ساتھ ہے یا جماعت اسلامی؟ انہوں نے کہا کہ ہم مشاورت کر کے وضاحت دیں گے اور ہم نے اپنا احتجاج نوٹ کروا لیا۔ | اسی بارے میں اے پی سی: مشترکہ تحریک کا فیصلہ 14 January, 2007 | پاکستان جمہوریت کے لیے مشترکہ جدوجہد16 March, 2007 | پاکستان اے پی سی کے موقف پر فیصلہ آج07 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: اصل بحران تو جاری ہے12 July, 2007 | پاکستان ’فوج کو سیاست چھوڑنا ہوگی‘14 July, 2007 | پاکستان سیاسی اتحادوں میں نئی صف بندی کے اشارے26 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||