BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 03:36 GMT 08:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد: اصل بحران تو جاری ہے

پاکستانی فوج
فوجی کارروائی سے بحران ختم نہیں ہوا ہے
لال مسجد آپریشن کے خاتمے کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا ہے۔ فوج نے لال مسجد اور متعلقہ عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم یہ محض عسکری اور انتظامی مرحلے کا خاتمہ ہے۔ اصل بحران نہ صرف موجود ہے بلکہ اس کی پرتیں کھلنا بھی باقی ہیں۔

باخبر حلقوں کے مطابق یہ ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ تھا جو بظاہر ریاستی قوت کے ہاتھ رہا۔ لیکن اس سے متعدد پریشان کُن سوال پیدا ہوئے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ لال مسجد کے اس قضیے سے کون کیا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ واقعات سے واضح ہے کہ یہ بحران حکومت نے شروع نہیں کیا تھا اگرچہ فطری طور پر حکومت متعدد مواقعوں پر اس سے سیاسی فوائد اٹھانے کی کوشش کرتی رہی۔

دنیا کی کوئی حکومت عین اپنی ناک کے نیچے ریاست دشمن عناصر کی اتنی بڑی نفری کو اس مقدار میں اسلحے کے ساتھ ایسی مضبوط پناہ گاہ فراہم کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتی۔

لاال مسجد پاکستان کے طاقتور ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر سے چند سو گز کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مفروضہ درست جان نہیں پڑتا کہ یہ بحران جنوری 2007 میں مسجدوں کے انہدام یا بچوں کی لائبریری پر قبضے سے شروع ہوا۔

2004 میں صدرِ پاکستان پر مبینہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے دوران عبدالرشید غازی کوگرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو برقعہ پوش نسوانی جتھوں کے علاوہ ذرائع ابلاغ اور دیگر حساس حلقوں میں ہل چل سے بالکل واضح تھا کہ ریاست کے اقتدارِ اعلٰی کو چیلنج کرنے والوں کی نظر میں لال مسجد کی اہمیت محض ایک مدرسے سے زیادہ ہے۔

 یہ قیاس زیادہ قرینِ حقیقت ہے کہ ان کی ڈوریاں ہلانے والے لال مسجد کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ریاست کے عزم اور عوام میں اپنی حمایت کا اندازہ کرنا چاہتے تھے۔

2003 میں رشید غازی نے وزیرستان آپریشن کے دوران جان دینے والے فوجی جوانوں کے بارے میں فتوٰی دے کر خاصی گرد اڑائی تھی۔

اگلا سوال یہ ہے کہ لال مسجد کے مولوی یا ان کے پشتی بان اس کھیل سے کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کی جنگی تربیت، منصوبہ بندی، اسلحے کی فراہمی اور ذرائع ابلاغ سمیت مقتدر حلقوں تک رسائی کی صلاحیت سے واضح تھا کہ غازی برادران ایسے احمق نہیں تھے کہ دارالحکومت کے شہری علاقے میں ایک عمارت پر قبضے کی مدد سے ریاست کو مفلوج کرنے کا غیر حقیقت پسندانہ ارادہ باندھیں۔

یہ قیاس زیادہ قرینِ حقیقت ہے کہ ان کی ڈوریاں ہلانے والے لال مسجد کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ریاست کے عزم اور عوام میں اپنی حمایت کا اندازہ کرنا چاہتے تھے۔ اس دوران میں لطیفۂ غیبی سے کوئی کامیابی نصیب ہوجاتی تو ہم خرما و ہم ثواب۔

نظریاتی آڑ میں سیاسی کھیل کھیلنے والے عناصر کی بنیادی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ دیر تک خاموش یا ذرائع ابلاغ سے دور نہیں رہ سکتے اور یہ کہ انہیں ہر مرحلے پر اپنے کارکردگی کا گراف ایک درجہ اوپر لے جانا ہوتا ہے۔ ان کے لیے حقیقی سیاسی عمل کو بے دست و پا کر کے خود کو سیاسی نقشے پر جگہ دینے کا واحد طریقہ عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھنا ہوتا ہے۔

حکومت معصوم خواتین اور سرکاری اہلکاروں کے اغوا یا سرکاری عمارتوں پر قبضے کی حد تک لال مسجد کے لاڈلوں کو برداشت کرتی رہی۔ لیکن اس بحران کو منطقی انجام تک لے جانے والے نکات چار تھے۔

مولانا عبدالرشید غازی
غازی برادران اس کھیل سے کیا حاصل کرنا چاہتے تھے؟

مفروضہ فحاشی کے خبط میں مبتلا مولوی پاکستانی بچیوں کے وقار سے کھیلتے رہے اور حکومت نے چشم پوشی کی۔ لیکن چینی خواتین کا اغواء پہلا موڑ تھا جس کے بعد حکومت کے پاس حتمی اقدام کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔

کارروائی کے تیسرے روز صدرِ پاکستان کے جہاز پر فائرنگ کا کھلا مطلب یہ تھا کہ لال مسجد کے نادیدہ حلیف حکومت کے ساتھ لڑائی میں آخری حد تک جانا چاہتے ہیں۔ تیسرا فیصلہ کُن مرحلہ مولوی عزیز کی برقعہ پوش گرفتاری تھی۔

مولانا ایسے معصوم نہیں کہ برقعہ پہن کر سبزی خریدنے نکلیں۔ ان کا ارادہ فرار ہو کر لال مسجد کے باہر افراتفری پیدا کرنا تھا۔ ان کی گرفتاری سے سازش کے تانے بانے حکومت کے ہاتھ آ گئے ۔ اسی مرحلے پر واضح طور پر رشید غازی حالات و واقعات پر اختیار کھو بیٹھے اور سینکڑوں بچوں اور عورتوں کی طرح خود بھی جنگجو ٹولے کے یرغمالی بن گئے۔

آخری فیصلہ کُن موڑ چھ جولائی کی رات لیفٹنٹ کرنل ہارون الاسلام کی موت تھی۔ اس کے بعد پیشہ وارانہ طور پر ایس ایس جی سے تعلق رکھنے والے صدرِ پاکستان کے لیے لال مسجد ٹولے کو مزید رعایت دینا ممکن نہ رہا۔

مذہبی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے اس دوران عجیب مخمصے میں رہا۔ لال مسجد قضیے کی صورت میں ریاست اور مذہبی عناصر کے کھلے تصادم سے مفادات کی فصل کاٹنے کا خیال بھی للچاتا رہا لیکن مذہبی اور سیاسی اعتبار سے مختلف گروہوں پر مشتمل اتحاد تصادم کی قیمت ادا کرنے سے بھی گریزاں رہا۔

بے نظیر بھٹو کے ایک سادہ بیان پر آل پارٹیز کانفرنس کا مقاطعہ کرنے والے فضل الرحمٰن کو شاید یاد نہیں کہ جب وہ اے پی سی کو اپنے خیالاتِ زریں سےنوازنے لندن تشریف لے جا رہے تھے، لال مسجد میں مقید سینکڑوں بچوں اور عورتوں کو قید ہوئے چار روز گزر چکے تھے۔

لندن میں ملٹی پارٹی کانفرنس
لال مسجد معاملے کی مخالفت یا حمایت پر مذہبی جماعتیں تذبذب کا شکار رہیں

اب تین روزہ سوگ ہو یا ڈرائے دھمکائے تاجروں کے چھوٹے موٹے جلوس، لال مسجد کے واقعات سے مذہبی سیاست کو فی الحال دھچکا لگا ہے خاص طور پر مقتدر حلقوں کے ثواب پسند عناصر شاید کچھ عرصے کے لیے مذہبی سیاستدانوں کی کھلی حمایت سے گریز کریں۔

لال مسجد بحران کے دوران رونما واقعات کو مبہم طور پر لال مسجد کا ردِعمل ہی گنا جائے گا۔ سوات میں فوجی جوانوں پر حملہ، پشاور میں تین چینی شہریوں کا قتل، وزیرستان میں مبینہ امن معاہدے کی تنسیخ کی دھمکیاں، جنوبی اضلاع میں غیر سرکاری تنظیموں پر حملے اور سوات میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو پر اشتعال انگیز پروپیگنڈہ۔

پرویز مشرف کے سامنے سوال یہ ہے کہ جو مختصر مہلت انہیں ملی ہے اس میں حسبِ روایت مذہبی سیاستدانوں کے مفروضہ زخموں پر مرہم پٹی کرنا ہے یا فساد کے ممکنہ مراکز کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔

حکومت ہو یا ذرائع ابلاغ ، اموات کے اعداد و شمار کی نشاندہی سے گریز کر رہے ہیں مگر یہ امر واضح ہے کہ لال مسجد میں سینکڑوں افراد کے خون سے کھیلی گئی ہولی محض دو پیش اماموں کا پیدا کردہ فساد نہیں تھا بلکہ اس کی منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی میں طاقتور عناصر شریک تھے۔

چونکہ لال مسجد کے حالیہ مرحلے میں بظاہر حکومت کو کامیابی حاصل ہوئی ہے لہذٰا یہ زخم خوردہ عناصر زخمی درندے کی طرح پلٹیں گے ۔ غالب امکان یہ ہے کہ ان کا ردِعمل محض چھوٹے موٹے واقعات کی صورت میں نہیں ہو گا بلکہ اس تجربے کی روشنی میں شاید وہ زیادہ منظم کارروائی کریں۔

لال مسجد میں کارروائی سے دو مزید سوال سامنے آئے ہیں ۔ کیا حکومت نے پیشہ وارانہ اور سیاسی سطح پر اس کارروائی میں کچھ غلطیاں کیں؟ دوسرا یہ کہ مرنے والوں کی اصل تعداد کیا ہے؟ ملک بھر کے تجزیہ نگاروں میں قریب قریب اتفاق پایا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس انتہائی فوجی اقدام کے سِوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔

 فوجی کمانڈروں کی بنیادی تربیت جانی نقصان کی پروا کیے بغیر مطلوبہ ہدف کے حصول کی ہوتی ہے۔ لیکن لال مسجد جیسے نیم فوجی مقابلے میں خالص عسکری طریقۂ کار میں سیاسی تناظر بھی شامل ہوتا ہے۔

نامعلوم تعداد میں بچے اور عورتیں ہفتے بھر سے ناقابلِ بیان اذیت میں مُبتلا تھے۔ جھڑپوں کے ابتدائی مرحلے میں صرف اتنی تعداد میں عورتوں اور بچوں کو باہر آنے دیا گیا جنہیں دہشت گرد اپنی محدود تعداد کے باعث قابو نہیں کر سکتے تھے۔

اندر موجود باقی لوگ نہ صرف ان کے شکنجےمیں تھے بلکہ تربیت یافتہ دہشت گرد ہونے کے ناطے یہ لوگ اپنی حتمی لڑائی میں یرغمالیوں کے ضمن میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔ یہ امر بھی واضح ہے کہ فوجی کارروائی کے آخری مراحل میں بھی حکومت نے پوری فوجی طاقت کے استعمال سے گریز کیا۔

گھمسان کی کارروائی میں کچھ انفرادی واقعات رونما ہونا ناگزیر تھے لیکن فوجی اقدام میں ٹینکوں سے کام لیا گیا اور نہ ہوائی فوج استعمال کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ سیکورٹی اہل کاروں کو افسروں سمیت خاصا جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

فوجی کمانڈروں کی بنیادی تربیت جانی نقصان کی پروا کیے بغیر مطلوبہ ہدف کے حصول کی ہوتی ہے۔ لیکن لال مسجد جیسے نیم فوجی مقابلے میں خالص عسکری طریقۂ کار میں سیاسی تناظر بھی شامل ہوتا ہے۔

ایسے میں فوجی کارروائی میں شریک جوانوں اور افسروں کی ذہنی کیفیت سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے کہ فوجی اقدام کے ہر نتیجے کو سیاسی اخلاق اور انسانی اقدار سے عاری مذہبی جنونی اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کریں گے۔

جہاں تک کارروائی میں مرنے والوں کی تعداد کا تعلق ہے، ابھی تک وثوق سے اعداددوشمار پیش نہیں کیے جا سکتے۔ سرکاری بیان میں دو نکات بہر صورت محلِ نظر ہیں۔

پہلا یہ کہ ذرائع ابلاغ کو لال مسجد کے قریب جانے ہی سے نہیں روکا گیا بلکہ ہسپتالوں میں بھی ان کے داخلے پر کڑی پابندی لگائی گئی۔ دوسرا یہ کہ حفصہ مدرسے کے 75 تہہ خانوں میں ہر جگہ عورتوں اور وبچوں کو یرغمالی رکھا گیا تھا۔ فوجی ترجمان کے اس بیان کو کون تسلیم کرے گا کہ مرنے والی واحد خاتون رشید غازی کی والدہ تھی۔

لال مسجد کی کارروائی کا دھواں دھار مرحلہ ختم ہو چکا لیکن اس کے سیاسی اور سیاسی عواقب لازمی طور پر سامنے آئیں گے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست نے مذہبی انتہا پسندی سے قرار واقعی نمٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے یا آگ اور خون کے اس رقص میں ایک قدم آگے لینے کے بعد اب دو قدم پیچھے ہٹنے کا ارادہ ہے؟

احتجاجی مظاہرہایک نئی جنگ؟
لال مسجد آپریشن کے بعد کی صورتحال
عاصمہ جہانگیر’لال مسجد آپریشن‘
تاخیری حربوں، ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
آپریشن سائلنس
سکیورٹی فورسز کی کارروائی لمحہ بہ لمحہ
آپریشن سائلنسڈیل کیوں نہ ہوئی؟
لال مسجد ڈیل کیسے اور کیوں ناکام ہوئی؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد