BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 July, 2007, 19:22 GMT 00:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپریشن جاری، لاشوں کیلیےسو سے زائد کفن

 عبدالرشید غازی

لال مسجد میں حتمی فوجی کارروائی اٹھائیس گھٹنے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جاری ہے اور عبدالرشید غازی کے ہلاکت کے باوجود تاحال ’ آپریشن سائلنس‘ کے خاتمے کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منگل کی صبح چار بجے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں موجود افراد کے خلاف شروع ہونے والا آپریشن منگل کی شام سات بجے کے قریب مکمل کر لیا گیا تھا اور اب پاکستانی فوج کے کمانڈوز مسجد اور جامعہ حفصہ کے احاطے کو ’محفوظ‘ کرنے میں مصروف ہیں۔

بچی کو کیا جواب دوں؟
 میرے بچے مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ ابو یہ اتنی فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں اور یہ مرنے والے کون ہیں۔ اب میں انہیں کیا بتاؤں کہ مرنے والوں نے کیا مطالبات کیے ہیں اور مارنے والوں نے بش بھائی کی خدمت کا بیڑا کیوں اٹھایا ہوا ہے۔ فی الحال میں جمعہ سے دفتر نہیں جا سکا ہوں اور اس وقت میرے اپنے گھر میں کھانے کی چیزیں بالکل ختم ہونے کے قریب ہیں۔
مظفر حسین، اسلام آباد

وزارتِ داخلہ کے مطابق اس آپریشن میں ایک کپتان اور آٹھ فوجی جوانوں سمیت پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اکیاون شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

لال مسجد کے احاطے سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب مزید چار دھماکے سنے گئے اور وہاں سے آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق منگل کی شب نو بجے حکام نے ایدھی فاؤنڈیشن سے 100 سے زائد کفن حاصل کیے ہیں جن میں لاشوں کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

ادھر فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ آپریشن ابھی جاری ہے اور عبدالرشید غازی کے مکان اور چند کواٹرز میں مزاحمت کار اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی شاید بدھ صبح تک مکمل ہو جائے جس کے بعد ہی مکمل اعداوشمار سامنے آسکیں گے۔

منگل کی صبح چار بجے شروع کیے جانے والے اس آپریشن کے دوران 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے سویلین اس کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں اگرچہ ان کی تعداد پچاس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈیئر چیمہ نے بتایا کہ جب فوجی جوان لال مسجد میں واقع تہہ خانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں تھے تو ایک مقام سے ان پر فائرنگ کی گئی۔ بریگیڈیر چیمہ کے مطابق فوج نے جوابی کارروائی کی جس میں عبدالرشید غازی ہلاک ہوگئے۔ فوجی ذرائع کے مطابق کہ جامعہ حفصہ میں آپریشن کے دوران عبدالرشید غازی کی والدہ بھی دم گھنٹے کے باعث ہلاک ہو گئیں۔

اس سے قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ لال مسجد میں کتنے غیر ملکی شدت پسند تھے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے یہ آپریشن پاکستان سے باہر کسی کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا۔

آپریشن کے دوران کمک بھی طلب کی گئی

اپنی پہلی بریفنگ میں انہوں نے بتایا تھا کہ آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے ستائیس بچے باہر آ چکے ہیں۔ جامعہ حفصہ سے باہر آنے والی ستائیس خواتین جنہوں نے خود کو حُکام کے حوالے کیا ہے اُن میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی سربراہ اُم حسان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ابھی مزید بچے اور خواتین تہہ خانوں میں موجود ہیں جس کی بنا پر سکیورٹی فورسز کو انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھنے کو کہا گیا ہے۔آپریشن شروع ہونے کے بعد مسجد اور مدرسے کے احاطے سے بیس کے قریب بچے نکل کر بھاگے تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔

مسجداور مدرسے کے خلاف آپریشن کو سرکاری طور پر ’آپریشن سائلنس‘ کا نام دیا گیا تھا جس کے دوران وفاقی دارالحکومت شدید فائرنگ اوردھماکوں کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ اس فوجی آپریشن کے دوران لال مسجد اور چار منزلوں پر مشتمل جامعہ حفصہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔

عبدالرشید غازی کا رابطہ آخری مرتبہ ایک پرائیویٹ چینل سےہوا تھا جس میں انہوں نے اپنی معصومیت کا دعویٰ کیا تھا۔ادھر حکام نے صحافیوں کے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تاہم بڑی تعداد میں ایمبولینسوں کے ذریعے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دونوں شہروں کے تمام ہپستالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسلام آباد کے ہپستالوں میں عام مریضوں کو بھی آنےنہیں دیا جا رہا۔

ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر میڈیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے علاقے میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور منگل کی صبح کرفیو میں نرمی کے وقفے کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔

ہر کوئی جلدی میں ہے۔۔۔۔
 آوازيں گوليوں کی آ رھی ھيں۔ بعض اوقات زور دار دھماکوں کی آوازيں آتی ھيں۔ ايمبولينسوں کی آوازيں آرھی ھيں۔ پوليس کی گاڑياں، آرمی کی گاڑياں فراٹے مارتی گزر رھي ھيں۔ ھر جوان لگتا ھے جلدی ميں ھے۔ اسلام آباد کا امن سکون ختم ھو گيا ھے۔
راجہ صبور، اسلام آباد

لال مسجد اور حکومت کے درمیان گزشتہ رات اس وقت مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکلنے کی امید پیدا ہو گئی تھی جب سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں ایک وفد نے علماء کے ذریعے مسجد اور مدرسے کے مہتمم عبدالرشید غازی سے بات چیت شروع کی تھی۔

سوموار کو رات گئے حکومتی وفد نے عبدالرشید غازی سے بات چیت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم رات کسی وقت مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد منگل کی صبح چار بجے کے قریب فوجی آپریشن کا فیصلہ کن دور شروع ہوگیا تھا۔

چودھری شجاعتآخری بات
گزشتہ رات مذاکرات ختم ہو گئے تھے
’گولی ماردیں‘
ہسپتالوں میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی
آپریشن سائلنس
سکیورٹی فورسز کی کارروائی لمحہ بہ لمحہ
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
لال مسجد آپریشن کے زخمیزخمیوں میں اضافہ
لال مسجد آپریشن کے زخمی: تصاویر میں
لال مسجد طالب(فائل فوٹو)’وہ تو صحافی تھا‘
’میرا بیٹا نہ دہشتگرد تھا نہ سپریم کمانڈر‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد