آپریشن جاری، لاشوں کیلیےسو سے زائد کفن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد میں حتمی فوجی کارروائی اٹھائیس گھٹنے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جاری ہے اور عبدالرشید غازی کے ہلاکت کے باوجود تاحال ’ آپریشن سائلنس‘ کے خاتمے کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منگل کی صبح چار بجے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں موجود افراد کے خلاف شروع ہونے والا آپریشن منگل کی شام سات بجے کے قریب مکمل کر لیا گیا تھا اور اب پاکستانی فوج کے کمانڈوز مسجد اور جامعہ حفصہ کے احاطے کو ’محفوظ‘ کرنے میں مصروف ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق اس آپریشن میں ایک کپتان اور آٹھ فوجی جوانوں سمیت پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اکیاون شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ لال مسجد کے احاطے سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب مزید چار دھماکے سنے گئے اور وہاں سے آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق منگل کی شب نو بجے حکام نے ایدھی فاؤنڈیشن سے 100 سے زائد کفن حاصل کیے ہیں جن میں لاشوں کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔ ادھر فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ آپریشن ابھی جاری ہے اور عبدالرشید غازی کے مکان اور چند کواٹرز میں مزاحمت کار اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی شاید بدھ صبح تک مکمل ہو جائے جس کے بعد ہی مکمل اعداوشمار سامنے آسکیں گے۔ منگل کی صبح چار بجے شروع کیے جانے والے اس آپریشن کے دوران 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے سویلین اس کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں اگرچہ ان کی تعداد پچاس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈیئر چیمہ نے بتایا کہ جب فوجی جوان لال مسجد میں واقع تہہ خانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں تھے تو ایک مقام سے ان پر فائرنگ کی گئی۔ بریگیڈیر چیمہ کے مطابق فوج نے جوابی کارروائی کی جس میں عبدالرشید غازی ہلاک ہوگئے۔ فوجی ذرائع کے مطابق کہ جامعہ حفصہ میں آپریشن کے دوران عبدالرشید غازی کی والدہ بھی دم گھنٹے کے باعث ہلاک ہو گئیں۔ اس سے قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ لال مسجد میں کتنے غیر ملکی شدت پسند تھے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے یہ آپریشن پاکستان سے باہر کسی کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا۔
اپنی پہلی بریفنگ میں انہوں نے بتایا تھا کہ آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے ستائیس بچے باہر آ چکے ہیں۔ جامعہ حفصہ سے باہر آنے والی ستائیس خواتین جنہوں نے خود کو حُکام کے حوالے کیا ہے اُن میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی سربراہ اُم حسان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ابھی مزید بچے اور خواتین تہہ خانوں میں موجود ہیں جس کی بنا پر سکیورٹی فورسز کو انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھنے کو کہا گیا ہے۔آپریشن شروع ہونے کے بعد مسجد اور مدرسے کے احاطے سے بیس کے قریب بچے نکل کر بھاگے تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔ مسجداور مدرسے کے خلاف آپریشن کو سرکاری طور پر ’آپریشن سائلنس‘ کا نام دیا گیا تھا جس کے دوران وفاقی دارالحکومت شدید فائرنگ اوردھماکوں کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ اس فوجی آپریشن کے دوران لال مسجد اور چار منزلوں پر مشتمل جامعہ حفصہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ عبدالرشید غازی کا رابطہ آخری مرتبہ ایک پرائیویٹ چینل سےہوا تھا جس میں انہوں نے اپنی معصومیت کا دعویٰ کیا تھا۔ادھر حکام نے صحافیوں کے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تاہم بڑی تعداد میں ایمبولینسوں کے ذریعے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دونوں شہروں کے تمام ہپستالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسلام آباد کے ہپستالوں میں عام مریضوں کو بھی آنےنہیں دیا جا رہا۔ ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر میڈیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے علاقے میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور منگل کی صبح کرفیو میں نرمی کے وقفے کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔
لال مسجد اور حکومت کے درمیان گزشتہ رات اس وقت مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکلنے کی امید پیدا ہو گئی تھی جب سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں ایک وفد نے علماء کے ذریعے مسجد اور مدرسے کے مہتمم عبدالرشید غازی سے بات چیت شروع کی تھی۔ سوموار کو رات گئے حکومتی وفد نے عبدالرشید غازی سے بات چیت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم رات کسی وقت مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد منگل کی صبح چار بجے کے قریب فوجی آپریشن کا فیصلہ کن دور شروع ہوگیا تھا۔ |
اسی بارے میں علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||