BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 July, 2007, 23:03 GMT 04:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی

مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر فرار ہوتے وقت پکڑے گئے تھے
لال مسجد کے گرفتار خطیب مولانا عبدالعزیز کے زیرنگرانی چلنے والے جامعہ فریدیہ سے طلباء نے گھروں کو جانا شروع کر دیا ہے، طلباء کی ایک اچھی خاصی تعداد جمعرات کو دو دو اور چار چار کی ٹولیوں میں ای۔سیون میں واقع مدرسہ سے جاتے ہوئے دیکھی گئی۔ پولیس کی بھاری نفری مدرسہ فریدیہ کو جانے والی مختلف سڑکوں پر تعینات تھی۔

فیصل مسجد سے کچھ ہی فاصلے پر واقع جامعہ فریدیہ میں روزانہ کے مقابلے میں جمعرات کو قدرے غیرمعمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، تمام دن طلباء چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں مدرسہ سے جاتے ہوئے دیکھے گئے۔

کچھ اپنا بستر اور لوہے کی چادر سے بنے صندوق اٹھائے منزل کی جانب رواں تھے تو کچھ کو اُن کے عزیز ذاتی اور کرائے کی گاڑیوں میں لینے آئے ہوئے تھے۔

فیصل مسجد کی طرف سے جامعہ فریدیہ کو جانے والی سڑک پر تعینات پولیس کے اِنچارج اے ایس آئی محمد ارشاد نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی پر کوئی پابندی نہیں، نہ ہی مدرسہ جانے والوں پر پابندی اور نہ ہی مدرسہ سے باہر جانے والوں پر کوئی قدغن۔

کئی طلباء کے چلے جانے کے باوجود صوبہ سرحد، پنجاب، کشمیر اور قبائلی علاقوں سے آئے ہوئے زیرتعلیم کئی طلباء مدرسہ میں موجود ہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد پولیس کی ایک جماعت نے جامعہ فریدیہ کا دورہ کیا تھا لیکن فی الحال انتظامیہ کونہ تو مدرسہ کو بند کرنے یا اس پر چھاپہ مارنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ اس بارے میں جب اے ایس آئی محمد ارشاد سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔

مدرسہ فریدیہ اُنیس سو اکہتر میں مولانا عبدالعزیز کے والد مولانا عبداللہ کی سرکردگی میں بنایا گیا تھا۔ بُدھ کو جب لال مسجد کے باہر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور لال مسجد کے مسلح افراد کے درمیان تصادم شروع ہوا تومدرسہ فریدیہ سے سینکڑوں کی تعداد میں طلباء نے لال مسجد کا رُخ کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اِن میں سے کئی ایک لال مسجد سے ملحقہ وزارتِ ماحولیات کی عمارت کو نظرِ آتش کرنے میں پیش پیش تھے اور بیشتر واپس مدرسہ فریدیہ نہیں پہنچ پائے۔ اس بارے میں جب مدرسہ میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے زیرِ تعلیم ایک طالبعلم سے پُوچھا تو نام نہ بتانے کی شرط پر اُن کا کہنا تھا کہ مدرسہ میں ایسا کوئی نظام نہیں جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کتنے طلباء گھروں کو جا چُکے ہیں اور کتنے پولیس کی تحویل میں ہیں۔

مولانا عبدالغفار جو کہ طلباء سے پوچھنے پر مدرسہ کے نائب مہتمم بتائے گئے، نے بی بی سی سے بات کرنے سے انکار کیا۔ اسی طرح صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے بھی کئی طلباء نے بات کرنے سے انکار کیا۔

انتظامیہ کی جانب سے مدرسہ فریدیہ سے آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد سے ملحقہ مدرسوں کے وفود جمعرات کو مدرسہ فریدیہ کی انتظامیہ سے ملاقات کے لیے وقتا فوقتا آتے رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد