BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 July, 2007, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد نہ کرنے والوں کیلیے عام معافی

طارق عظیم (فائل فوٹو)
’حکومت اب بھی چاہتی ہے کہ مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے‘
حکومت نے کہا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلبا و طالبات میں سے تشدد کی کارروائیوں میں حصہ نہ لینے والوں کو عام معافی دی جائے گی۔

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات طارق عظیم نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کے چھوٹے بھائی عبدالرشید غازی سمیت تمام ایسے افراد جو کے تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اُن کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ دو سو پچاس کے قریب طلبا اور تقریباً سو بچیوں نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا ہے جن میں سے اکثر کو اُن کے خاندان والوں کے حوالے کرنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق لال مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسہ جامعہ حفصہ میں ’دو سے پانچ ہزار تک مرد و خواتین کے موجود ہونے کی اطلاعات ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب بھی چاہتی ہے کہ مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ رضا کارانہ طور پر خود کو حکام کے حوالے کرنے والوں کو حکومت کی جانب سے پانچ پانچ ہزار روپے دیے جا رہے ہیں تا کہ وہ اپنے گھروں کو جا سکیں۔

News image
ایسے تمام افراد جنہوں نے سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے ان کے لیے نہ تو عام معافی ہے اور نہ ہی اُن سے کوئی رعایت برتی جائے گی
وزیرِ مملکت، طارق عظیم

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ایسے تمام افراد جنہوں نے سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے ان کے لیے نہ تو عام معافی ہے اور نہ ہی اُن سے کوئی رعایت برتی جائے گی۔

لال مسجد کے رہنماؤں کے حوالے سے انہوں نے کہا: ’مولانا برادران سمیت ایسے تمام افراد کو جو تشدد بھڑکانے اور سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں، ان کو قانون کے مطابق مقدموں کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ لال مسجد تصادم میں کُل دس افراد ہلاک جبکہ چورانوے زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر لال مسجد کے قابضین نے غیر قانونی طور پر قبضہ کی ہوئی سرکاری عمارتوں کو خالی نہ کیا تو حکومت کارروائی ضرور کرے گی البتہ فی الحال حکومت مہلت یا ڈیڈ لائن متعین نہیں کر رہی تاکہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کی جا سکیں۔

اسلام آباد میں فوجاسلام آباد میں فوج
دارالحکومت میں فوج نے پوزیشنیں سنبھال لیں
کیمرہ مین ’کٹ تھروٹ‘ مقابلہ
’جان سے بہتر کوئی سٹوری نہیں‘
تصاویر میںتصاویر میں
لال مسجد: دن بھر کیا کیا ہوا؟
زخمیوں کا تانتا
لال مسجد کے گرد واقعات کا آنکھوں دیکھا حال
اسی بارے میں
لال مسجد کے حق میں مظاہرے
03 July, 2007 | پاکستان
لال مسجد: ایک صحافی ہلاک
03 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد