’نہ مہلت کا علم ہے نہ کسی کو روکا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالرشید غازی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ مسجد میں موجود طلبا کو باہر نہیں جانے دیا جارہا۔ اب سے کچھ دیر قبل مسجد کے اندر سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’ہم نے اس سلسلے میں جو اعلان کیا ہے وہ صرف اس لئے ہے تا کہ باہر جانے والے طلبا کو خبردار کیا جا سکے کہ انہیں باہر جاتے ہی گرفتار کیا جارہا ہے‘۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم کی طرف سے کچھ ہی دیر پہلے کی گئی پریس کانفرنس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک وہ علمائے کرام جو مسئلے کا پر امن حل نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، کچھ نہیں بتاتے وہ کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ حکومت کی جانب سے مسجد سے باہر آنے والے طلبا کو پانچ ہزار روپے کی ابتدائی امداد دینے کے بارے میں عبدالرشید غازی نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہاں کے طلبا پانچ ہزار روپے کے لیے نہیں بیٹھے ہوئے۔ اس سے پہلے عبدالرشید غازی نے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی مہلت کا انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلی فون پر مختصر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ علماء ان سے رابطے میں ہیں۔ مولانا عبدالرشید غازی نے کہا کہ اب جب علماء درمیان میں آ گئے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اس مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے۔ جب ان سے گزشتہ روز جدید اسلحہ سے لیس طلبا کی طرف سے فائرنگ کی جانے پر تبصرے کے لیے کہاگیا تو مولانا عبدالرشید غازی کا کہنا تھا کہ وہ لوگ گارڈز تھے۔ بار بار سوال پر بھی بظاہر وہ اس موضوع پر گفتگو سے گریزاں رہے اور کہا کہ اب ’فوکس دوسری طرف ہے کہ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے۔‘ حکومت کی جانب سے گزشتہ رات سے مسلسل طلبا اور طالبات کو ہتھیار ڈالنے کی مہلت دی جا رہی ہے اور انہیں یقین دلایا جا رہا ہے کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ | اسی بارے میں لال مسجد فائرنگ اڑسٹھ زخمی03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ایک صحافی ہلاک03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک اور مہلت03 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||