BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 July, 2007, 21:22 GMT 02:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد: ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک اور مہلت

پاک فوج کے جوانوں نے لال مسجد کے اردگرد خاردار تار بچھانے شروع کردیے ہیں

اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور لال مسجد کے طلباء کے مابین فائرنگ کا سلسلہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب وقفے وقفے سے جاری رہا ہے جبکہ بدھ کی صبح تک ہلاک ہونے والےافراد کی تعداد بارہ ہوگئی ہے۔

فائرنگ کے تبادلے میں مزید افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ڈی ایس پی سٹی سرکل ملک ممتاز نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں وہ افراد شامل ہیں جوگزشتہ روز ہونے والی فائرنگ میں زخمی ہوئے تھے اور رات کو زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

حکومت نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات لال مسجد کے علاقے میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مسجد کے طلبہ کو پرامن طریقے سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا ہے۔ ہتھیار ڈالنے کے لیے کوئی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی گئی تاہم کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے ہر شخص کوگولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔

آبپارہ تھانے میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز، ان کے بھائی اور ترجمان مولانا عبدالرشید غازی سمیت چار سو افراد کے خلاف قتل، اقدام قتل، دہشتگردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے فوج تعینات کر دی گئی ہے اور بکتر بندگاڑیاں لال مسجد کے نزدیکی علاقے میں موجود ہیں۔ لال مسجد کے علاقے میں لاؤڈ سپیکروں پر ہونے والے اعلانات میں مقامی آبادی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں۔

ہتھیار ڈالنے کے حکم اور کرفیو کے نفاذ کا اعلان وزیرِ مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے اسلام آباد میں آدھی رات کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات محمد علی درانی بھی موجود تھے۔

ظفر اقبال وڑائچ نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے پہلے ہی رینجرز اور فوج کی مدد کے لیے درخواست دے دی ہے۔ ظفر اقبال وڑائچ نے کہا کہ لاؤڈ سپیکروں اور میڈیا کے ذریعے اعلانات کیے جائیں گے تاکہ جو ہتھیار ڈالنا چاہے ڈال دے۔

وزیر مملکت کے مطابق کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا۔ ظفر اقبال وڑائچ کا کہنا تھا کہ مسجد کے خلاف اس ایکشن کا فیصلہ پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

شہر میں فوجی دستے پوزیشنیں سنبھال رہے ہیں

انہوں نے علاقے میں پھنسے ہوئے عام شہریوں کی سہولت کے لیے سرکاری ٹیلیفون نمبرز بھی جاری کیے جن پر ان کو مدد فراہم کی جا سکے گی۔

ادھر مسجد کے اردگرد کے علاقے میں رینجرز کی تعیناتی کا سلسلہ جاری ہے۔مسجد کو جانے والے تمام راستے پولیس نے پہلے ہی بند کر دیے تھے۔ مسجد کے گرد سڑکوں کو مزید خاردار تاریں لگا کر بند کیا گیا ہے۔ علاقے میں کشیدگی جاری ہے اور وقفے وقفے سے گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں۔

اسلام آباد میں لال مسجد کے باہر رینجرز اور طلباء کے درمیان فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک اور راہگیر کی ہلاکت کے ساتھ ہی منگل کو ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے افراد کی تعداد نو ہوگئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ طلبہ، ایک صحافی، دو رینجرز اہلکار اور ایک راہگیر شامل ہیں جبکہ ایک سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

 ہلاک ہونے والوں میں صحافی جاوید خان، رینجرز کے لانس نائیک مبارک حسین اور آبپارہ کے تاجر امریز، ایک مزدور محمد اعجاز، باجوڑ سے تعلق رکھنے والے کرامت اللہ، عام شہری فیاض ملک، بائیس سالہ طالب علم محمد رفیع اور دو نامعلوم افراد شامل ہیں

وزیرِ مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ ظفر اقبال وڑائچ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے چار طلبہ، رینجرز کے ایک اہلکار اور ایک صحافی بھی شامل ہیں۔پولیس نے بتایا ہے کہ یہ تمام ہلاکتیں گولی لگنے سے واقع ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے ہسپتال پولی کلینک میں اٹھاون زخمیوں کو لایا گیا۔

اسلام آباد موجود بی بی سی کے نامہ نگار رفاقت علی کے مطابق منگل کو ہلاک ہونے والوں میں صحافی جاوید خان، رینجرز کے لانس نائیک مبارک حسین اور آبپارہ کے تاجر امریز شامل ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں محمد اعجاز بھی شامل ہیں جو فائیو سٹار ہوٹل سیرینا کی چھت پر کام کر رہے تھے۔ ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے کرامت اللہ، عام شہری فیاض ملک اور بائیس سالہ طالب علم محمد رفیع شامل ہیں۔

لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے الزام لگایا ہے کہ منگل کی صبح فائرنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شروع کی اور مدرسے کے طلباء نے صرف جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے مسجد کا محاصرہ نہ کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

طلباء کے پاس کلاشنکوف بھی تھیں جبکہ بیشتر طلباء نے منہ پر ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے

مولانا عبدالرشید غازی نے کہا کہ حکومتی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے والے صرف مدرسے کے طلباء نہیں ہیں بلکہ تاجر اور شہر کے دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے اطراف میں تعینات رینجرز اور مسجد کے احاطے اور اس سے ملحقہ سڑک پر مورچہ بند طلباء کے درمیان منگل کو کشیدگی شروع اس وقت شروع ہوئی تھی جب مسجدِ حفصہ کی درجنوں طالبات نے مسجد سے نکل کر سڑک پر مارچ شروع کر دیا۔ مشتعل طلباء و طالبات ’الجہاد الجہاد‘ اور ’اللہ اکبر اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔

طالبات کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ کی پہل کس جانب سے ہوئی اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم اس فائرنگ میں رینجرز کا ایک اہلکار سینے میں گولی لگنے سے زخمی ہو گیا جو بعد میں فیڈرل گورنمنٹ سروسز ہسپتال پمز میں زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔

مسجد کے باہر موجود بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے ہارون رشید کے مطابق مسجد کے طلباء کے ہاتھوں میں ڈنڈے، پیٹرول بم اور مسجد کی چھت پر موجود طلباء کے پاس کلاشنکوف بھی تھیں۔ بیشتر طلباء نے منہ پر ڈھاٹے پہنے ہوئے تھے۔اس سے قبل اسلام آباد میں جامعہ فریدیہ سے ایک سو کے قریب ڈنڈا بردار طالب علموں کو لال مسجد پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔

فائرنگ سے وفاقی دارالحکومت کے وسط میں واقع مسجد کے اطراف میں سراسیمگی پھیل گئی اور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی۔

وزارتِ ماحولیات کی عمارت اور اس کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی

عینی شاہدین کے مطابق لال مسجد سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے کورڈ مارکیٹ کے قریب واقع ایک سرکاری سکول پر قبضہ کر لیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ مشتعل طلبہ نے جامعہ حفصہ کے سامنے واقع سٹیٹ آفس اور اس سے متصل وزارتِ ماحولیات کی عمارت اور اس کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔

اس سے پہلے بھی لال مسجد انتظامیہ حکومتی کارروائی کی صورت میں خودکش حملوں کی دھمکی دیتی رہی ہے۔

اسلام آباد کی لال مسجد سےملحقہ مدرسے حفصہ کی طالبات کی طرف سے اس سال جنوری میں قریبی لائبریری پر قبضے کے بعد سے دارالحکومت کی یہ قدیم ترین مسجد ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔اس واقعے کے بعد مسجد کے طلباء نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر تین خواتین کو اغواء کر لیا تھا۔ گزشتہ مہینے طلباء نے ایک مساج پارلر سے چھ غیر ملکیوں سمیت نو افراد کو اغواء کر لیا تھا جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
لال مسجد کے حق میں مظاہرے
03 July, 2007 | پاکستان
خودکش حملوں کی دھمکی
06 April, 2007 | پاکستان
لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد