لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں لال مسجد کے باہر رینجرز اور طلباء کے درمیان فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک اور راہگیر کی ہلاکت کے ساتھ ہی منگل کے صبح سے جاری جھڑپوں میں ہلاک ہونے افراد کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ ادھر حکومت کی جانب سے ممکنہ آپریشن کی تیاریوں کے حوالے سے مسجد کے اردگرد سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کر دی گئی ہے اور علاقے کی بجلی منقطع کی جا چکی ہے۔ لال مسجد اور اس کے گردنواح میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں پانچ طلبہ، ایک صحافی، دو رینجرز اہلکار اور ایک راہگیر شامل ہیں جبکہ سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ تمام ہلاکتیں گولی لگنے سے واقع ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے ہسپتال پولی کلینک میں اٹھاون زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ لال مسجد کے علاقے میں اب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔مسجد اور اس سے ملحق مدرسہ حفصہ اس وقت مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔بجلی بند ہوگئی ہے اور اس کے علاوہ سٹریٹ لائٹس بھی بند کر دی گئی ہیں۔مسجد کے گرد سڑکوں کو مزید خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ ادھر سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ بھی اپنا بھارت کا دورہ منسوخ کرکے واہگہ سے سڑک کے راستے واپس اسلام آباد لوٹ رہے ہیں۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ظفر اقبال وڑائچ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے چار طلبہ، رینجرز کے ایک اہلکار اور ایک صحافی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے دیگر چار افراد عام شہری ہیں فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔ اسلام آباد موجود بی بی سی کے نامہ نگار رفاقت علی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں صحافی جاوید خان، رینجرز کے لانس نائیک مبارک حسین اور آبپارہ کے تاجر امریز شامل ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں محمد اعجاز بھی شامل ہیں جو فائیو سٹار ہوٹل سیرینا کی چھت پر کام کر رہے تھے۔ ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے کرامت اللہ، عام شہری فیاض ملک اور بائیس سالہ طالب علم محمد رفیع شامل ہیں۔ لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے الزام لگایا ہے کہ منگل کی صبح فائرنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شروع کی اور مدرسے کے طلباء نے صرف جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے مسجد کا محاصرہ نہ کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
مولانا عبدالرشید غازی نے کہا کہ حکومتی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے والے صرف مدرسے کے طلباء نہیں ہیں بلکہ تاجر اور شہر کے دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے اطراف میں تعینات رینجرز اور مسجد کے احاطے اور اس سے ملحقہ سڑک پر مورچہ بند طلباء کے درمیان منگل کو کشیدگی شروع اس وقت شروع ہوئی تھی جب مسجدِ حفصہ کی درجنوں طالبات نے مسجد سے نکل کر سڑک پر مارچ شروع کر دیا۔ مشتعل طلباء و طالبات ’الجہاد الجہاد‘ اور ’اللہ اکبر اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ طالبات کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ کی پہل کس جانب سے ہوئی اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم اس فائرنگ میں رینجرز کا ایک اہلکار سینے میں گولی لگنے سے زخمی ہو گیا جو بعد میں فیڈرل گورنمنٹ سروسز ہسپتال پمز میں زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔ مسجد کے باہر موجود بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے ہارون رشید کے مطابق مسجد کے طلباء کے ہاتھوں میں ڈنڈے، پیٹرول بم اور مسجد کی چھت پر موجود طلباء کے پاس کلاشنکوف بھی تھیں۔ بیشتر طلباء نے منہ پر ڈھاٹے پہنے ہوئے تھے۔اس سے قبل اسلام آباد میں جامعہ فریدیہ سے ایک سو کے قریب ڈنڈا بردار طالب علموں کو لال مسجد پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔ فائرنگ سے وفاقی دارالحکومت کے وسط میں واقع مسجد کے اطراف میں سراسیمگی پھیل گئی اور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق لال مسجد سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے کورڈ مارکیٹ کے قریب واقع ایک سرکاری سکول پر قبضہ کر لیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ مشتعل طلبہ نے جامعہ حفصہ کے سامنے واقع سٹیٹ آفس اور اس سے متصل وزارتِ ماحولیات کی عمارت اور اس کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ اس سے پہلے بھی لال مسجد انتظامیہ حکومتی کارروائی کی صورت میں خودکش حملوں کی دھمکی دیتی رہی ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد سےملحقہ مدرسے حفصہ کی طالبات کی طرف سے اس سال جنوری میں قریبی لائبریری پر قبضے کے بعد سے دارالحکومت کی یہ قدیم ترین مسجد ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔اس واقعے کے بعد مسجد کے طلباء نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر تین خواتین کو اغواء کر لیا تھا۔ گزشتہ مہینے طلباء نے ایک مساج پارلر سے چھ غیر ملکیوں سمیت نو افراد کو اغواء کر لیا تھا جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان جامعہ حفصہ مدارس بورڈ سے خارج09 April, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||