BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 July, 2007, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد فائرنگ اڑسٹھ زخمی

 اسلام آباد
ایک نوجوان اسلام آباد میں ایک سرکاری عمارت کو آگ لگانے کے بعد بھاگ رہا ہے
لال مسجد کے باہر رینجرز اور مسلح طالب علموں کے درمیان فائرنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی قریب ہی واقعہ پولی کلینک ہسپتال میں زخمیوں تانتا بندھ گیا۔

کچھ زخمیوں کو پمز اور سی ڈی اے ہسپتالوں میں بھی لایا گیا۔


پولی کلینک ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر شریف استوری کے مطابق ہسپتال میں اڑسٹھ لوگ لائے گئے ہیں۔ جن میں رینجر کے لانس نائیک مبارک حسین گولی لگنے کے باعث ہلاک ہو گئے۔ جبکہ دو طالبات اور تین طالبعلم گولی لگنے کے باعث زخمی ہیں۔

ڈاکٹر شریف استوری کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کی طالبات میں سے اکثریت آنسوگیس سے متاثر ہوئی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں لائی جانے والی تمام طالبات کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اُن کو شام تک ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔

’جب میں ہسپتال لائی جانی والی طالبات، طالبلعموں اور دیگر زخمیوں کے بارے میں جاننے کے لیے ہسپتال پہنچا تو ہسپتال کے باہر پولیس کی ایک بھاری تعداد موجود تھی اور سوائے میڈیا کے لوگوں کے کسی کو ہسپتال کی چار دیواری کے اندار داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ لیکن ہسپتال کے اندر داخل ہونے والے دروازے پر قبضہ پولیس کا نہیں بلکہ لال مسجد سے تعلق رکھنے والے طالبعملوں کا تھا جو زخمی طالبات اور طالبلعموں کے ساتھ ہسپتال آئے تھے اور وہ کسی کو بھی ہسپتال کے اندر داخل ہونے نہیں دے رہے تھے۔

لال مسجد
لال مسجد کے اندر موجود ایک نوجوان اشک آور گیس سے بچاؤ کا ماسک پہنے ہوئے ہے

لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد رینجنر سے تعلق رکھنے والے ایک میجر اور اُن کے ساتھ رینجرز اور پولیس کی ایک بڑی تعداد ہسپتال کے اندر داخل ہو گئی اور وہاں موجود لال مسجد سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ اس موقع پر کسی قسم کی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔

طالبعلموں کی گرفتاری کے بعد میڈیا کے لوگ بھی ہسپتال میں داخل ہو گئے۔

لال مسجد کے طالبعلم اور طالبات جو گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوئے اُن سے تو میڈیا کے لوگوں کو نہیں ملنے دیا گیا البتہ نجی ٹیلی وژن چینل سے تعلق رکھنے والے صحافی ابصار عالم اور پولیس کے زخمی ہونے والے حوالدار رب نواز اور جامعہ حفصہ کی ایک طالبہ سے ملنے کے لیے آنے والے آفتاب احمد جن کو کمر اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ وہ لال مسجد کے سامنے واقعے ایک سکول کی دیوار کے ساتھ کھڑے تھے کہ اچانک اُن کے سر پر کوئی بھاری چیز لگی جس کے بعد وہ گر گئے اور تھوڑی دیر میں اُن کے ایک ساتھی نے اُن کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔

اسلام آباد پولیس کے حوالدار ربنواز کا کہنا تھا کہ وہ بکتر بند گاڑی میں تھے اور وہ لال مسجد کے طالب علموں پر آنسو گیس پھینک رہے تھے کہ اچانک ایک گولی ان کے بازو پر لگ گئی۔ اُس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا، میرے ساتھی مجھے یہاں لے کر آئے۔

ہسپتال میں موجود ایک اور زخمی آفتاب احمد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ماموں کی بیٹی سے جو جامعہ حفصہ میں پڑھتی ہیں ملنے آئے تھے، آفتاب کا کہنا تھا کہ وہ جامعہ حفصہ کے باہر پہنچے ہی تھے کے جھگڑا شروع ہو گیا اور دو گولیاں اُنہیں لگیں۔ آفتاب کا کہنا تھا کہ لال مسجد والے اور پولیس والے ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے۔

ایک گولی میرے بازو پر لگی
 اسلام آباد پولیس کے حوالدار رب نواز کا کہنا تھا کہ وہ بکتر بند گاڑی میں تھے اور وہ لال مسجد کے طالب علموں پر آنسو گیس پھینک رہے تھے کہ اچانک ایک گولی ان کے بازو پر لگ گئی
حوالدار رب نواز

لال مسجدکے خادم منظور حسین کا کہنا تھا اس ساری صورت حال کے بارے میں کہنا تھا کہ آج صبح سویرے رینجرز کے جوان لال مسجد کے قریب آگئے اور لال مسجد کے گرد گشت شروع کردیا ان کو دیکھ کر مدرسے کے طلبا بھی باہر آگئے۔ کچھ دیر بعد پولیس بھی وہاں پہنچ گئی۔ مدرسے کی بچیاں باہر نکل آئیں۔ پولیس والے وہاں فائرنگ کی نیت سے آئے تھے اور انہوں نے وہاں شیلنگ شروع کردی اور لڑائی شروع ہوگئی۔اس کے بعد وہاں یہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اب تک دو سو کے لگ بھگ زخمی طالبات کو ہسپتال پہنچ چکی ہیں جبکہ ہسپتال کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے پاس مزید گنجائش نہیں ہے۔ ان کے بقول پولیس بکتر بند گاڑی سے فائرنگ کررہی تھی جس سے ایک لڑکی گولی لگنے سے زخمی ہوگئی۔مدرسے کی اندرونی جانب بھی فائرنگ کی گئی۔ میں نے سن پینسٹھ اور اکہتر کی جنگیں دیکھی اور لڑی ہیں۔پاکستان بنتے دیکھا ہے تاہم ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں دیکھا جو آج دیکھا ہے۔ کیایہ مسلمان ملک ہے اور کیا یہ حکمران مسلمان ہیں۔

پولی کلینک کے ترجمان ڈاکٹر شریف استوری کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کہ پاس اب بھی کافی جگہ موجود ہے اور اگر مزید زخمی آتے ہیں تو اُن کا کے لیے تمام انتظام موجود ہیں۔ ڈاکٹر شریف کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ ہے اور تمام عملہ موجود ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد