لال مسجد: مغوی رہا کر دیے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد کہ شہر میں مخلوط مساج سینٹر بند کیے جائیں گے نو افراد کو جن میں چھ چینی عورتیں شامل ہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ لال مسجد اور اس سے منسلک مدرسوں کے طلبہ اور طالبات نے سنیچر کی رات گئے اسلام آباد میں ایک چینی بیوٹی اور مساج سینٹر پر چھاپہ مار کر وہاں موجود چھ غیرملکی لڑکیوں سمیت نو افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس کارروائی کے سولہ گھنٹے بعد لال مسجد کے نائب مہتتم عبدالرشید غازی نے ایک اخباری کانفرنس میں ان نو افراد کی رہائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس موقع پر چینی حکومت سے معذرت بھی کی لیکن واضح کیا کہ چینی عوام کو پاکستانی حالات کو مدنظر رکھ کر یہ صورتحال سمجھنی چاہیے۔ انہوں نے چینی سفیر کو مسجد کے دورے کی دعوت بھی دی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس دورے میں ان سے احتجاج کریں گے کہ ان کی ملک کے لوگ پاکستان میں غیراسلامی فعل نہ کریں۔ رہائی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے بتایا کہ اس واقع میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ تاہم اس سے چند گھنٹے قبل ہی تھانہ مارگلہ میں لال مسجد کے مہتتم مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی اور اٹھائیس نامعلوم طلبہ و طالبات کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی کا کہنا تھا کہ یرغمال بنائے جانے کا یہ سلسلہ مزید نہیں چلے گا۔
پاکستان میں چین کے سفیر بھی مغوی اراکین کی رہائی کے لیے سرگرم ہو گئے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد میں حکمراں جماعت کے سربراہ شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتیں کیں اور اس معاملے میں مدد طلب کی تھی۔ اس سے قبل لال مسجد کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جب شہر کی انتظامیہ انہیں یہ یقین دہانی کرا دے گی کہ مساج سینٹروں میں خواتین مردوں کی مالش نہیں کریں گی تو وہ ان چھ چینی لڑکیوں کو رہا کر دیں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مرکز میں صحت سے متعلق خدمات فراہم کی جاتی تھیں لیکن ایک ہزار روپے میں مالش کے علاوہ اضافی پانچ سو روپے میں غیراخلاقی کام بھی ہوتے تھے۔ ’شراب نوشی کی الگ رقم لی جاتی تھی۔‘ انہوں نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ کلینک پر چھاپے کے دوران چینی لڑکیوں نے ان کی طالبات کے خلاف جوڈو کراٹے کا استعمال بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی جھڑپ کے بعد سے ان لڑکیوں کو بہت آرام سے مدرسے میں رکھا گیا ہے۔ یرغمال پاکستانی مردوں کے بارے میں مزید شناخت تو نہیں کرائی تاہم انہوں نے ان کا موقف بتاتے ہوئے کہا وہ علاج کی غرض سے آئے تھے۔ تاہم ان کا سوال تھا کہ آدھی رات کو کون علاج کراتا ہے۔ عبدالرشید غازی کا کہنا تھا کہ انہیں اس واقع کی اطلاع کل رات ساڑھے تین بجے ہوئی اور وہ اپنے موقف کی وضاحت سنیچر کی سہہ پہر ایک اخباری کانفرنس میں کریں گے۔ اس سے قبل مسجد و مدرسے کے طلبہ اور طالبات کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا تھا کہ نو افراد کو اغواء نہیں کیا گیا بلکہ وہ مساج سینٹر میں موجود چھ غیرملکی لڑکیوں اور تین مردوں کو سمجھانے کے لیے لے کر آئے ہیں۔
طلبہ کے چار سطور کے اس بیان میں الزام لگایا گیا کہ اس سینٹر میں غیرملکی لڑکیاں نامحرم مردوں کو مساج کی آڑ میں گناہ کراتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل فحاشی و عریانی کے خلاف ان کا فطری ردعمل ہے۔ پولیس کے مطابق چینی خواتین نے ایف ایٹ کے اس مکان میں آکوپنکچر اینڈ ہیلتھ سینٹر کھول رکھا تھا۔ اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں بیوٹی سینٹر کے خلاف یہ کارروائی عینی شاہدین کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کے بعد ہوئی۔ لاٹھیوں سے مسلح تیس طلبہ اور طالبات تین گاڑیوں میں وہاں پہنچے اور اس سینٹر میں گھس کر انہوں نے ان افراد کو یرغمال بنا لیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق طلبہ نے ان افراد کو مارا پیٹا بھی۔ طلبہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں دلچسپ بات یہ تھی کہ جامعہ فریدیہ، مدرسہ حفصہ کے علاوہ اس کارروائی میں ایک معروف پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکول بیکن ہاؤس کے طلباء بھی شریک تھے۔ حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان اس سال کے آغاز سے کشیدگی چل رہی ہیں۔ اس کشیدگی کا آغاز مسجد کے طلبہ کی جانب سے چند مساجد کو گرائے جانے کے سرکاری اقدام کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: طلباء نے چینی اغوا کر لیے23 June, 2007 | پاکستان لال مسجد کشیدگی کا ایک دور21 May, 2007 | پاکستان ’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘27 May, 2007 | پاکستان ’لال مسجد پر حملہ ہوا تو اعلانِ جنگ‘02 June, 2007 | پاکستان لال مسجد: دو پولیس اہلکار رہا19 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: پولیس اہلکار یرغمال18 May, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||