لال مسجد: ایک صحافی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد سے منسلک مدرسوں جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کے طلبہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان منگل کو فائرنگ کے نتیجے میں ایک اخبار نویس ہلاک اور کم از کم دو زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے صحافی جاوید خان کا تعلق برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں قائم ٹی وی چینل ڈی ایم ڈیجیٹل سے بتایا جاتا ہے۔ وہ مقامی اخبار ’مرکز‘ کے لیے بھی کام کرتے تھے۔ وہ دیگر کیمرہ مینوں کی طرح لال مسجد کے باہر فائرنگ کے تبادلے کی رپورٹنگ میں مصروف تھے جب گولی کا نشانہ بنے۔ انہیں پمز ہسپتال لایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس سے قبل مقامی اردو چینل ’جیو‘ کے بیورو چیف ابصار عالم بھی سر میں پتھر لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں مقامی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ابصار عالم کا کہنا تھا کہ وہ لال مسجد کے سامنے واقعے ایک سکول کی دیوار کے ساتھ کھڑے تھے کہ اچانک اُن کے سر پر کوئی بھاری چیز لگی جس کے بعد وہ گر گئے اور تھوڑی دیر میں اُن کے ایک ساتھی نے اُن کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔ ٹی وی چینل ’سی این بی سی‘ کے کیمرہ مین اسرار بھی بازو میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں بھی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ کراچی سے شائع ہونے والے اخبار ’اسلام‘ سے منسلک باریش صحافی عقیل الرحمٰن کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ان افراد میں شامل ہیں جنہیں لال مسجد کے سامنے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتیں دس ہوگئیں03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد فائرنگ اڑسٹھ زخمی03 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||