عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | صوبہ سرحد میں مظاہرے سوات اور نوشہرہ میں ہوئے |
لال مسجد کی انتظامیہ کے حق میں حق میں اور حکومت کے خلاف صوبہ سرحد اور بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں یہ مظاہرے سوات اور نوشہرہ میں اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کیے گئے۔ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے ایک رہنما مولانا فضل اللہ کی جانب سے لال مسجد کی انتظامیہ کے حق میں ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جس میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر لال مسجد کے خلاف مبینہ حکومتی آپریشن بند نہیں ہوا تو جہاد کا اعلان کیا جائے گا۔ منگل کو اسلام آباد میں حکومتی فورسز اور لال مسجد کے طالبان کے درمیان تصادم کے تھوڑی ہی دیر بعد مو لانا فضل اللہ کی جانب سے مساجد کے لاوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو ڈیرئی گراونڈ میں جمع ہونے کے اعلانات کیے گیے۔ مینگورہ کے ایک مقامی صحافی نیاز احمد کا کہنا ہے کہ اعلانات سننے کے تھوڑی ہی دیر بعد پانچ ہزار سے زیادہ افراد مینگورہ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور امام ڈیرئی میں واقع گراونڈ میں جمع ہوگئے جن سے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے ایک سربراہ مولانا صوفی محمد کے داماد اور غیر قانونی ایف چلانے والے دینی عالم مولانا فضل اللہ نے خطاب کیا۔ خطاب کے دوران مولانا فضل اللہ نے کہا کہ جامعہ حفصہ پر حکومت کی جانب سے ہونے والےمبینہ حملے کے بعد مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت فی الفور حملہ بند کردے ورنہ اس کے خلاف جہاد کااعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پر تقریباً سینکڑوں افراد نے مولانا فضل اللہ کی جانب سے جہاد کے اعلان کرنے پر لبیک کہا۔شرکاء ’الجہاد الجہاد، لال مسجد کے خلاف آپریشن بند کرو، مشرف کا جو یار ہے غدارہے غدار ہے‘ کے نعرے لگاتے رہے۔
 | | | لال مسجد کا ایک طالبِ علم جھڑپوں کے دوران |
مقامی صحافی نیاز احمد کا کہنا ہے کہ مولانا فضل اللہ نے غیر قانونی ایف ایم چینل پر ان لوگوں کے لیے نشریات شروع کردی ہیں جو ’جہاد‘ کے لیے تیار ہیں اور بقول انکےاب تک سوات کے مختلف علاقوں سے تیس کے قریب افراد نے فون پر ’جہاد ،کرنے کے لیے اپنے نام لکھوائے ہیں۔دوسری طرف ضلع نو شہرہ میں بھی مساجد پر اعلانات کے بعد درجنوں افراد نے لال مسجد کی انتظامیہ کے حق میں مظاہرہ کیا ہے اور انہوں نے احتجاج کے طور پر اسلام آباد اور پشاور کے درمیان شاہراہ کو کچھ دیر کے لیے بند کردیا۔’ کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ نے جامعہ حفضہ اور لال مسجد کے واقعے کے حوالے سے حکومتی اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور فوجی حکام کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔اس موقع پر میزان چوک پر ٹائر جلائے گئے اور نعرہ بازی کی گئی ہے۔
 | | | لال مسجد کے طلباء اور رینجرز کے درمیان جھڑپوں میں خواتین بھی انتہائی سرگرم رہیں |
رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد اور جے یو آئی کے کوئٹہ کے امیر مولانا فضل محمد بڑیچ کی قیادت میں ایک ریلی نکالی گئی جس میں دینی مدارس کے طلباء کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ احتجاجی مظاہرہ کے دوران سخت نعرہ بازی کی گئی۔مولوی نور محمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ فوجی حکمرانوں نے اپنے مظلوم اور بے گناہ لوگوں پر بمباری کی ہے۔ جمعیت کے قائدین نے اپنی تقریروں میں کہا ہے کہ جمعیت کی مرکزی قیادت اس بارے میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کر رہے ہیں اور جو بھی فیصلہ کیا جا ئے گا چاہے وہ احتجاجی مظاہروں کا ہو اور یا توڑ پھوڑ کا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ |