’جان سے بہتر کوئی سٹوری نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیکن ایک طبقہ ایسا بھی دکھائی دیا جس کو اس قسم کی صورتحال میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی زندگی کا تحفظ کرنے کے لیے بلکل تیار نہیں پایا۔ شاید اسی لیے اتنے زیادہ صحافی زخمی ہوئے بلکہ ایک تو جان کی قربانی بھی دے گیا۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند برسوں میں جو وسعت آئی ہے اس کا جہاں نوجوانوں کی بے روزگار فوج کو فائدہ ہوا ہے تو وہیں انہوں نے ’کٹ تھروٹ‘ مقابلے کی وجہ سے اپنی زندگیاں خطرے میں بھی ڈالنا پڑ رہی ہیں۔ ملک میں انتہا پسندی کی وجہ سے پیدا غیریقینی صورتحال نے صحافیوں کے لیے فرائض کی ادائیگی کافی مشکل اور خطرناک بنا دی ہے۔ وزیرستان ہو، باجوڑ ہو یا اب اسلام آباد صحافت کوئی آسان پیشہ نہیں رہا۔ کیمرہ مین کا کام ہمیشہ مشکل رہا ہے کیونکہ وہ ایک آنکھ بند اور دوسری سے کمیرے کے لینز کے ذریعے ایک محدود علاقے کو دیکھ سکتا ہے۔ اس کے اطراف میں کیا قیامت ٹوٹتی ہے اسے کوئی علم نہیں ہوتا۔ وہ مکمل بےخبر ہوتا ہے۔ نئے نئے نوجوان صحافی کیمرے اٹھائے مسجد کے طلبہ سے آگے آگے اپنی حفاظت کی پرواہ کیے بغیر صرف اور صرف اچھی تصاویر کی فکر میں اندھوں کی طرح بھاگم بھاگ کرتے دکھائی دیے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا چند بچے کسی کھیل میں پورے انہماک کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں کہ گولیاں کہاں سے آ رہی ہیں، کون سی جگہ ان کے لیے محفوظ اور کون سا مقام خطرناک۔
منگل کے تشدد میں ہلاک ہونے والے نوجوان صحافی فوٹوگرافر جاوید خان کی لاش مجھ سے چند فٹ آگے گری۔ صرف ایک منٹ کے لیے فائرنگ اور دھماکوں کا ایسا شور پیدا ہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔ عام شہری اور مجھ جیسے صحافی پناہ کی خاطر ادھر ادھر بھاگ پڑے۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ گولیاں کہاں سے چلیں صرف چند لمحوں بعد اتنا معلوم ہوا کہ چند ساتھی جاوید کو اٹھا کر قریب سے گزر رہی ایک ایمبولینس میں ڈال رہے تھے۔ ایک تصویر کو ذہن میں شاید ساری عمر کے لیے محفوظ کر لیا اور وہ تھا جاوید کا خون آلود چہرہ۔ اسے محض چند سیکنڈز دیکھنے سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کا بچنا مشکل ہے۔ تاہم پیشے سے محبت کا یہ صحافیوں کا عالم تھا کہ اس کی گرتی ہوئی لاش کی تصویر اور بعد میں خون کے تالاب میں پڑی تصاویر بھی کیمروں میں محفوظ ہوئیں۔ صحافیوں نے اس مقام سے ہٹ کر تصاویر دیکھیں تو معلوم ہوا کہ گرنے والا جوان کون تھا۔ اس کا ایک اور ساتھی سی این بی سی چینل کا اسرار احمد بھی گولیاں لگنے سے زخمی ہوا اور اب الشفاء ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اسے کمر میں گولی لگی ہے جو اسے مار تو شاید نہ سکے تاہم خطرہ ہے کہ تمام زندگی کے لیے اپاہج ضرور بنادے۔ اخبار دی پوسٹ کا ایک اور فوٹو جرنلسٹ وہاب سلیم بھی انگلی پر گولی لگنے سے معمولی زخمی ہوا جبکہ آج ٹی وی کے اظہر بن کریم بھگدڑ میں زخمی ہوئے۔ صحافیوں کے زخمی ہونے کی فہرست یہاں تک محدود نہیں، جیو چینل کے ابصار عالم نے بھی سر پر پتھر لگنے سے ہسپتال کا رخ کیا۔ گولیاں اور آنسو گیس کھانے کے علاوہ صحافیوں کو پولیس اور مسجد طلبہ کی بدتمیزیوں کا بھی سامنا رہا۔ یہ رویہ تو شاید قابل قبول ہو، لیکن صحافیوں کا بغیر کسی تربیت کے ایسے واقعات کی کوریج کے لیے بھیجا جانا ایک جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کے نمائندوں کو ایسے خطرناک حالات میں کام کرنے کی مناسب تربیت دی جاتی ہے جوکہ ان کے لیے لازمی ہے۔ تاہم پاکستان میں جہاں صحافیوں کو تنخواہ تک تو وقت پر ملتی نہیں ایسی تربیت شاید مالکان کے لیے قبل از وقت سوچ ہوسکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں صحافیوں کو خود بھی کچھ سوچنا ہوگا۔ کہتے ہیں اپنی جان سے بہتر دنیا کی کوئی تصویر یا سٹوری نہیں۔ |
اسی بارے میں لال مسجد کی تازہ ترین ویڈیو03 July, 2007 | صفحۂ اول لال مسجد: ایک صحافی ہلاک03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک اور مہلت03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد فائرنگ اڑسٹھ زخمی03 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||