لال مسجد: طاقتور دھماکوں، فائرنگ کی آوازیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی لال مسجد کے اطراف بدھ اور جمعرات کی رات ساڑھے تین بجے کم سے کم ایک درجن زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جو تین چار کلومیٹر دور تک سنیں گئیں اور اس کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ سیکیورٹی فورسز نے لال مسجد کے اندر شدید شیلنگ بھی کی ہے جس کے بعد علاقے میں سیاہ دھویں کے بادل چھاگئے ہیں۔ لال مسجد کی قریبی مسجد سے ہی اعلان کیا گیا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے، لہذا اندر موجود افراد ہتھیار ڈال دیں اور خود کو قانون کے حوالے کردیں ورنہ نتائج کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔ لال مسجد کے علاقے کو سیل کردیا گیا ہے اور وہاں سکیورٹی فورسز بڑی تعداد میں بکتر بند گاڑیوں میں موجود ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ لال مسجد کے علاقے میں دھویں کے بادل آسمان میں اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے دیکھا کہ مساجد سے فجر کی آذان کے وقت فائرنگ رک گئی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسے لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ جمعرات کی صبح پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا ہے کہ فوج اب تک لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں داخل نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ پولیس اور رینجرز کی مدد کے لئے علاقے میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لال مسجد کے اندر آپریشن کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ لال مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید غازی نے بظاہر اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ہے کہ ہتھیار ڈالیں۔‘ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ مسجد کے اندر سے فائرنگ کی گئی ہے اور کہا کہ انہوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر رکھی ہے۔ جمعرات کی صبح عبدالرشید نے دعویٰ کیا کہ مسجد پر ٹینکوں سے گولے پھینکے گئے ہیں جس سے مسجد کے گیٹ اور دیوار کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر اس وقت بھی طلبہ کے علاوہ ایک ہزار طالبات موجود ہیں تاہم ان کی طرف سے اجازت ہے جو جانا چاہے جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس خوراک کی کمی نہیں ہے بلکہ انہیں اس بات کی تشویش ہے کہ حکومت مسجد میں خونریزی کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسجد کے اندر ایک بزرگ شخص کی میت موجود ہے اور حکام سے کہا ہے کہ وہ اس میت کو باہر نکالیں اور اس کے ورثاء تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرانا چاہتے ہیں اور ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ چوہدری شجاعت سے اس سلسلے میں دوبارہ رابطہ کریں گے۔ حکومت کی جانب سے عام معافی کی پیشکش کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’کس بات کی معافی، ہم نے کوئی زنا یا قتل کیا ہے یا کوئی بڑا گناہ کیا ہے، کیا کیا ہے ہم نے، کس بات کی معافی مانگیں۔‘ بدھ کی شام سے لال مسجد کے قریب سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا اور بدھ کی شب وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ حکومتِ پاکستان لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی سے مذاکرات نہیں کرے گی اور انہیں غیرمشروط طور پر خود کو حکام کے حوالے کرنا ہوگا۔
بدھ کی شام تک حکومت یہ تاثر دے رہی تھی کہ یہ سارا معاملہ اب اپنے اختتام کی طرف جارہا ہے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات عظیم طارق نے کہا تھا کہ اب یہ سارا معاملہ اپنے اختتام کی طرف جارہا ہے۔ لیکن بدھ کی شب کرائسس مینجیمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈئیر جاوید اقبال چیمہ نے ایک پریس بریفینگ میں بتایا کہ غازی عبدالرشید کے پاس مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔اسی دوران لال مسجد کے گرد فورسز کی تعداد میں اضافہ بھی کیا گیا۔ لال مسجد کے حوالے سے جاری کشیدگی میں اہم پیش رفت مسجد کے خطیب اور غازی عبدالرشید کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کی اُس وقت گرفتاری کے بعد ہوا جب وہ ایک برقعہ پہن کر مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسن کو بھی گرفتار کر لیا۔ اس کے فوراً بعد کئی طالبعلم مسجد سے نکلنا شروع ہوگئے اور ایک تین رکنی علماء کا وفد مسجد کے اندر موجود مولانا غازی عبدالرشید سے مذاکرات کی غرض سے وہاں گیا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ علماء کے اس وفد کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اپنے طور پر مسئلے کے پرامن حل کے لئے یہ مذاکرات کرنے گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کی لائن میں کھڑے ہوگئے تھے جنہوں نے حکومت کی طرف سے عام معافی کے اعلان کے بعد خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل نے جب بظاہر ایک خاتون کا برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیزبرآمد ہوئے جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عبدالعزیز کو پہلے تھانہ آبپارہ لے جایا گیا جہاں سے انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تفتیش کے سلسلے میں نامعلوم مقام پر لے گئے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ گرفتار شدہ بارہ سو افراد میں سے ایک سو پچاس کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے، دو سو کو اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی جبکہ باقی افراد سے ابھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ بدھ کو مذہبی امور کے وفاقی وزیر اعجازالحق نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زیرحراست مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو بھی خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے کہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو یہ مشورہ دیں گے۔ اعجاز الحق کے مطابق مولانا عبدالعزیز کی عبدالرشید سے بات کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ چھ ما کے عرصے میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف دہشت گردی کے سات مقدمات درج ہیں اور انہیں عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہوا ہے۔ اس سے قبل بدھ کی شام لال مسجد کے باہر ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تاہم مسجد کے قرب و جوار کے علاقے میں تاحال کرفیو نافذ رہا۔ مسجد میں مورچے خالی پڑے ہوئے تھے اور اکا دُکا طلبا اور طالبات لال مسجد چھوڑ کر باہر آ رہے تھے۔ مسجد کے سامنے سرکاری کواٹرز تقریباً خالی ہوگئے۔ مسجد کے سامنے کواٹرز میں رہنے والے ایک رہائشی یاسین نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ صبح سے فائر بندی تھی اور مذاکرات جاری تھے لیکن بعد میں ایک ایک کرکے طلبہ و طالبات مسجد اور مدرسے سے نکلنا شروع ہوگئے۔ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ سہ پہر تک سات سو طلبہ اور طالبات جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے باہر آئے۔ چوہدری محمد علی کا کہنا تھا کہ ان سات سو میں سے دو سو بیس طالبات جبکہ باقی طالبعلم ہیں۔ باہر آنے والے طلبا سے حکام نے کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے اور یہ اعلانات کیے جاتے رہے کہ باہر آنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔تاہم بعد دوپہر حکام نے والدین کی رجسٹریشن اور انہیں اندر بھجوانے کا سلسلہ بند کردیا اور انہیں کہا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔ (بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید، مظہر زیدی اور احمد رضا کی رپورٹوں پر مبنی) |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||