رفیعہ ریاض بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | بڑی استانی طالبات کو گراؤنڈ میں جمع کر کے ڈنڈے چلانے اور کراٹے کی تربیت بھی دیتی تھیں: طالبہ |
’بندوق سے میرا رشتہ کوئی نیا نہیں ہے، میرا تعلق باجوڑ سے ہے اور میں بندوقوں کے سائے میں پل بڑھ کر جوان ہوئی ہوں‘۔ یہ الفاظ تھے اٹھارہ سالہ نازیہ کہ (ان کے کہنے پر ان کا فرضی نام استعمال کیا جا رہا ہے) جنہوں نے چھ ماہ پہلے ہی لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ حفصہ میں داخلہ لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’جیسے میں کلاشنکوف چلاتی ہوں ویسے تو بڑے بڑے ماہر بھی نہیں چلا سکتے، ہمارے ہاں خاندانی دشمنیاں سال ہا سال چلتی رہتی ہیں اور خواتین بندوق چلانے میں اتنی ہی طاق ہوتی ہیں جتنےمرد‘ ۔ جامعہ حفصہ میں طالبات کو عسکری تربیت دیئے جانے کا ذکر بھی اکثر ہوتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے نازیہ نے بتایا کہ بالکل کمانڈوز کی طرز پر تربیت دی جاتی  | کندھے پر بندوق  وہ ہر وقت بندوق یا مشین گن کندھے پر لٹکا کر رکھتی ہیں۔ وہ ہمیں مشین گن استعمال کرنا سکھاتی رہی ہیں  |
رہی ہے اور بڑی استانی ابی جان طالبات کو گراؤنڈ میں جمع کر کے ڈنڈے چلانے اور کراٹے کی تربیت بھی دیتی تھیں۔ ’اگر پولیس ہم پر آنسو گیس نہ پھینکتی تو ہم ان کا حشر کر دیتے‘۔یہ پوچھنے پر کہ کیا ڈنڈے سے اسلحہ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ نازیہ نے کچھ پس و پیش کے بعد کہا ’ہمیں بندوق چلانےکی تربیت بھی ملتی ہے۔ ہماری استانی کی بیٹی خولہ باجی عربوں کی طرح کے کپڑے پہنتی ہیں اور ہر وقت بندوق یا مشین گن کندھے پر لٹکا کر رکھتی ہیں۔ وہ ہمیں مشین گن استعمال کرنا سکھاتی رہی ہیں‘۔ اس الزام کے حوالے سے کہ مدرسے میں بڑی تعداد میں اسلحہ موجود ہے، نازیہ کا کہنا تھا کہ بعض لڑکیاں اپنے گھروں سے بھی اسلحہ لے کر آئی تھیں جو ’مجاہد بھائیوں‘ کو دے دیا گیا۔ ’ہمیں معلوم تھا کہ ہمارا دشمن کسی بھی وقت ہمیں  | اسلحہ مردوں کے پاس  اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا۔ کیونکہ ہم نے زیادہ تر اسلحہ تو مردوں کے حوالے کر دیا تھا  |
نقصان پہنچا سکتا ہے، اسی لحاظ سے ہم نے بھی اپنی حفاظت کے لیے پوری تیاری کی ہوئی تھی‘۔لیکن جب پوچھا گیا کہ اسلحہ اور تربیت کا کیا فائدہ ہوا؟ تو نازیہ نے کہا ’شروع میں آنسو گیس پھینکی گئی تو میں بے ہوش ہو گئی۔ مگر ہوش میں آ تے ہی میں نے مجاہد بھائیوں کو پتھر اور مرچ ملا پانی دینا شروع کر دیا تاکہ دشمنوں کی آنکھوں میں ڈالا جا سکے ۔مجھے اس وقت اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا۔ کیونکہ ہم نے زیادہ تر اسلحہ تو مردوں کے حوالے کر دیا تھا‘۔ |