مولانا غازی سے مذاکرات نہیں: حکومت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی سے مذاکرات نہیں کرے گی اور انہیں غیرمشروط طور پر خود کو حکام کے حوالے کرنا ہوگا۔ اس بارے میں وزارت داخلہ نے بدھ کی شب ایک بیان جاری کرکے واضح کیا کہ لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ دریں اثناء لال مسجد کے ارد گرد حالات کشیدہ ہیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کے واقعات جاری ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس سے پہلے قبل مولانا عبدالرشید غازی سے بات چیت کرنے والے علماء کے ایک تین رکنی وفد کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا گیا تھا کہ مولانا عبدالرشید غازی حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دینگے۔ لیکن اس بارے میں اب ابہام پیدا ہوگیا ہے کیونکہ مولانا عبدالرشید غازی کیطرف سے بظاہر کچھ شرائط رکھی گئی ہیں۔ اسی دوران لال مسجد کے گرد و نواح میں وقفے وقفے سے فائرنگ جاری ہے اور سیز فائر کے دوران بہت سے طلباء کی طرف سے مسجد سے باہر آنے اور اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے کا سلسلے بھی جاری ہے۔ ان میں سے جو بھی مرد طلباء مسجد سے باہر نکلتے ہیں انہیں سیکورٹی کے پیش نظر اپنی قمیض اتار کر اور ہاتھ اوپر اٹھا کر باہر نکلنے کے لئے کہا جاتا ہے۔
لال مسجد کے حوالے سے جاری کشیدگی میں اہم پیش رفت مسجد کے خطیب اور غازی عبدالرشید کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کی اُس وقت گرفتاری کے بعد ہوا جب وہ ایک برقعہ پہن کر مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسن کو بھی گرفتار کر لیا۔ اس کے فوراً بعد کئی طالبعلم مسجد سے نکلنا شروع ہوگئے اور ایک تین رکنی علماء کا وفد مسجد کے اندر موجود مولانا غازی عبدالرشید سے مذاکرات کی غرض سے وہاں گیا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ علماء کے اس وفد کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اپنے طور پر مسئلے کے پرامن حل کے لئے یہ مذاکرات کرنے گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کی لائن میں کھڑے ہو گئے جنہوں نے حکومت کی طرف سے عام معافی کے اعلان کے بعد خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل نے جب بظاہر ایک خاتون کا برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیزبرآمد ہوئے جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عبدالعزیز کو پہلے تھانہ آبپارہ لے جایا گیا جہاں سے انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تفتیش کے سلسلے میں نامعلوم مقام پر لے گئے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق بدھ رات تک لال مسجد سے ملحقہ مدرسوں کے بارہ سو زائد طلبا و طالبات نے خود کو سرکاری اہلکاروں کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ گرفتار شدہ بارہ سو افراد میں سے ایک سو پچاس کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے، دو سو کو اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی جبکہ باقی افراد سے ابھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ اس دوران مذہبی امور کے وفاقی وزیر اعجازالحق نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زیر حراست مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو بھی خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے کہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو یہ مشورہ دیں گے۔ اعجاز الحق کے مطابق مولانا عبدالعزیز کی عبدالرشید سے بات کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ چھ ما کے عرصے میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف دہشت گردی کے سات مقدمات درج ہیں اور انہیں عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہوا ہے۔ اس سے قبل بدھ کی شام لال مسجد کے باہر ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تاہم مسجد کے قرب و جوار کے علاقے میں تاحال کرفیو نافذ رہا۔ مسجد میں مورچے خالی پڑے ہوئے تھے اور اکا دُکا طلبا اور طالبات لال مسجد چھوڑ کر باہر آ رہے تھے۔ مسجد کے سامنے سرکاری کواٹرز تقریباً خالی ہو گئے۔ مسجد کے سامنے کواٹرز میں رہنے والے ایک رہائشی یاسین نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ صبح سے فائر بندی تھی اور مذاکرات جاری تھے لیکن بعد میں ایک ایک کرکے طلبہ و طالبات مسجد اور مدرسے سے نکلنا شروع ہوگئے۔ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ سہ پہر تک سات سو طلبہ اور طالبات جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے باہر آئے۔ چوہدری محمد علی کا کہنا تھا کہ ان سات سو میں سے دو سو بیس طالبات جبکہ باقی طالبعلم ہیں۔ باہر آنے والے طلبا سے حکام نے کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے اور یہ اعلانات کیے جاتے رہے کہ باہر آنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔تاہم بعد دوپہر حکام نے والدین کی رجسٹریشن اور انہیں اندر بھجوانے کا سلسلہ بند کردیا اور انہیں کہا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔
مدرسے سے باہر آنے والی کچھ طالبات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے باہر آئی ہیں اور اندر بہت برے حالات تھے۔ فوٹوگرافرز نے جب ان طالبات کی تصاویر بنانے کی کوشش کی تو طالبات کے لواحقین نے ایک فوٹو گرافر کو مارا پیٹا۔ لال مسجد اور رینجرز اور پولیس میں منگل کو وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں بارہ افراد ہلاک جبکہ تقریباً ایک سو چودہ زخمی ہوئے۔ اس سے قبل لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالرشید غازی نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر مختصر بات چیت میں اس بات سے انکار کیا کہ باہر نکلنے کے خواہشمند طلبا اور طالبات کو روکا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ علماء اس معاملے میں پڑ گئے ہیں اور اس کا حل نکل سکتا ہے۔ حکومت نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات لال مسجد کے علاقے میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مسجد کے طلبہ کو پرامن طریقے سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تھا۔ ہتھیار ڈالنے کے لیے کوئی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی گئی تاہم کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے ہر شخص کوگولی مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔ آبپارہ تھانے میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز، ان کے بھائی اور ترجمان مولانا عبدالرشید غازی سمیت چار سو افراد کے خلاف قتل، اقدام قتل، دہشتگردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
اس سے قبل لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے الزام لگایا تھا کہ منگل کی صبح فائرنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شروع کی اور مدرسے کے طلباء نے صرف جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے مسجد کا محاصرہ نہ کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے اطراف میں تعینات رینجرز اور مسجد کے احاطے اور اس سے ملحقہ سڑک پر مورچہ بند طلباء کے درمیان منگل کو کشیدگی شروع اس وقت شروع ہوئی تھی جب مسجدِ حفصہ کی درجنوں طالبات نے مسجد سے نکل کر سڑک پر مارچ شروع کر دیا۔ مشتعل طلباء و طالبات ’الجہاد الجہاد‘ اور ’اللہ اکبر اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ اس سے پہلے بھی لال مسجد انتظامیہ حکومتی کارروائی کی صورت میں خودکش حملوں کی دھمکی دیتی رہی ہے۔
اسلام آباد کی لال مسجد سےملحقہ مدرسے حفصہ کی طالبات کی طرف سے اس سال جنوری میں قریبی لائبریری پر قبضے کے بعد سے دارالحکومت کی یہ قدیم ترین مسجد ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔اس واقعے کے بعد مسجد کے طلباء نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر تین خواتین کو اغواء کر لیا تھا۔ گزشتہ مہینے طلباء نے ایک مساج پارلر سے چھ غیر ملکیوں سمیت نو افراد کو اغواء کر لیا تھا جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ (ہارون رشید، مظہر زیدی، انتخاب امیر، آصف فاروقی، نیئر شہزاد، محمد اشتیاق) | اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||