لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں لال مسجد میں جمعرات۔جمعہ کی رات فائرنگ کا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری تھا جس میں شب کو لگ بھگ تین بجے ایک مرتبہ پھر شدت دیکھی گئی۔ مسجد کا علاقہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ بدھ-جمعرات کی رات بھی تقریبا اسی طرح کی ایک شدید جھڑپ اسی وقت ہوئی تھی۔ تازہ تصادم اسلام آباد میں تیز بارش اور طوفان کے تھمنے کے ساتھی ہی شروع ہوا تھا اور علاقے میں زوردار دھماکے سنے گئے۔ لیکن لگ بھگ آدھے گھنٹے کی فائرنگ اور دھماکوں کے بعد خاموشی چھاگئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق عموما ایسی فائرنگ محصور افراد کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لئے بھی کی جاتی ہے۔ تاہم تازہ فائرنگ سے محسوس ہوتا ہے کہ مسجد میں محصور افراد کے پاس اب بھی اسلحہ کارتوس بڑی مقدار میں موجود ہے۔ رات گئے فوج اور رینجرز کی مزید نفری علاقے میں تعینات کی گئی تھی جس سے کسی حتمی کارروائی کے خدشات پیدا ہوئے تھے تاہم سیکورٹی فورسز نے آخری اطلاع ملنے تک کوئی پیش قدمی نہیں کی تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق مسجد اور اس سے ملحق مدرسے کی دیوراوں میں تین اطراف سے شگاف ڈالے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد نہ صرف وہاں سے بھاگنے والوں کو نکلنے میں مدد دینا بلکہ کسی کارروائی کی صورت میں اپنا راستہ بھی تیار کرنا تھا۔
صدر مشرف نے کارروائی میں مختصر مدت کے لئے تاخیر کی ہدایت دی ہے تاکہ والدین اپنی بچیاں وہاں سے نکال سکیں۔ انہوں نے یہ حکم جامعہ حفصہ کی طالبات کے والدین کی جانب سے انہیں مزید وقت دینے کی اپیل پر جاری کیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کارروائی کب تک معطل رہے گی۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ سے مذاکرات کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں مورچہ بند ہتھیاربندوں کے خلاف تین روز سے جاری آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں اب تک انیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی مسجد کے تہہ خانہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیس کے قریب طلبا و طالبات کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ نے صحافیوں کو بتایا کہ تین روز کے دوران جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے تعلق رکھنے والے چھ سو طلبا اور تین سو طالبات باہر آچکے ہیں۔ دریں اثناء اطلاعات کے مطابق عبدالرشید غازی اور ان کے محافظوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ انہیں اور ان کی بیمار والدہ کو اس وقت تک مسجد میں رہنے کی اجازت دی جائے جب تک رہائش کے لیے کسی متبادل جگہ کا انتظام نہیں ہو جاتا۔
اس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مدرسے سے نکلنے والے تمام طلبا و طالبات کی مکمل ڈی بریفنگ کی جائے گی اور پوری تسلی کے بعد ہی انہیں چھوڑا جائےگا۔ بریگیڈئر چیمہ کا کہنا تھا کہ مدرسے کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی کے خلاف بے شمار مقدمات ہیں جن کا انہیں سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی آبادی کے مسائل کے پیش نظر کرفیو میں دو گھنٹے کی نرمی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے اقدامات کر لیے گئے ہیں اور شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ ادھر اطلاعات کے مطابق لال مسجد کے اوپر تقریباً تین گن شپ ہیلی کاپٹر اڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، جن میں سے مسجد پر بظاہر گیس کے گولے پھینکے گئے ہیں۔ اس دوران مسجد سے ملحقہ مدرسہ حفصہ کی چند طالبات کے والدین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسجد کے اندر مزید دس بارہ لاشیں موجود ہیں تاہم لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے اس کی تردید کی اور کہا کہ مذکورہ افراد زخمی ہیں۔ جمعرات کو رضاکارانہ طور پر باہر آنے والے افراد اپنے ساتھ ایک عمر رسیدہ شخص کی میت بھی لائے تھے۔
مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ وہ خود کو پولیس کے حوالے نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ وہاں سے نکل جانا چاہتے تھے، لیکن وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ اس سے قبل جمعرات علی الصبح لال مسجد کی اطراف میں کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جو تین چار کلومیٹر دور تک سنیں گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی منٹ کے وقفوں سے تقریباً آٹھ دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، تاہم تقریباً بیس منٹ بعد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں بند ہوگئیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سرکاری اہلکار نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ’ یہ دھماکے محض وارننگ تھے اور ہم ابھی تک مسجد میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔‘ اسلام آباد کے ایک ہسپتال کے ذرائع کا کہنا تھا کہ جمعرات علی الصبح کی فائرنگ میں مزید افراد زخمی ہوئے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بتائی جانے والی ہلاکتوں کی تعداد (سولہ) میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے لال مسجد کے اندر شدید شیلنگ بھی کی ہے جس کے بعد علاقے میں سیاہ دھویں کے بادل چھاگئے ہیں۔ آپریشن کے بعد لال مسجد کی قریبی مسجد سے اعلان کیا گیا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے، لہذا اندر موجود افراد ہتھیار ڈال دیں اور خود کو قانون کے حوالے کردیں ورنہ نتائج کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔
مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید غازی نے بظاہر اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ہے کہ ہتھیار ڈالیں۔‘ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ مسجد کے اندر سے فائرنگ کی گئی ہے اور کہا کہ انہوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر رکھی ہے۔ جمعرات کی صبح عبدالرشید غازی نے دعویٰ کیا کہ مسجد پر ٹینکوں سے گولے پھینکے گئے ہیں جس سے مسجد کے گیٹ اور دیوار کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر اس وقت بھی طلبہ کے علاوہ ایک ہزار طالبات موجود ہیں تاہم ان کی طرف سے اجازت ہے جو جانا چاہے جاسکتا ہے۔ لال مسجد کے خطیب اور غازی عبدالرشید کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کو بدھ کی رات اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ برقعہ پہنے مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ (ہارون رشید، مظہر زیدی، احمد رضا اور نیئر شہزاد کی رپورٹوں پر مبنی) |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||