 | | | مسجد کے اندر موجود لوگ زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکیں گے: مولانا عبدالعزیز |
برقع اوڑھ کر فرار ہونے کی کوشش میں پولیس کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے اسلام آباد کی لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ مسجد کے اندر موجود تقریباً ایک ہزار افراد کو چاہئیے کہ وہ وہاں سے فرار ہو جائیں یا خود کو سرکاری اہلکاروں کے حوالے کر دیں۔ ملک کے سرکاری ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسجد کے اندر موجود لوگ زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکیں گے اور ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ جلد ختم ہو جائے اور مزید خون خرابہ نہ ہو۔ واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کو بدھ کی شام اس وقت پکڑ لیا گیا تھا جب مسجد سے نکلنے والی خواتین کی تلاشی کے دوران زنانہ پولیس کی ایک اہلکار نے انہیں برقعے سے برآمد کیا تھا۔ انٹرویو میں مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ کم و بیش سات سو خواتین اور ڈھائی سو مرد مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے کے احاطے میں موجود ہیں اور ان میں کچھ کے پاس درجن بھر کلاشنکوفیں بھی ہیں جو بقول ان کے ’دوستوں‘ کی دی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ ان لوگوں کو چاہئیے کہ اگر ممکن ہو تو وہاں سے خاموشی سے نکل جائیں اور اگر وہ چاہتے ہیں تو انہیں ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔ ہمارے ساتھی زیادہ دیر تر مزاحمت نہیں کر سکیں گے۔‘ انٹرویو دیتے وقت بھی مولانا عبدالعزیز برقعے میں ملبوس تھے اور بظاہر پرسکون نظر آ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مسجد ’ اور جہادی تنظیموں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا رشتہ ہے‘ تاہم ان تنظیموں کے ساتھ ان کا کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں ہے۔ ’ہمارے ہاں کوئی دہشتگرد نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں صرف طالبعلم ہیں۔ اگر اس تنازعے کے دوران کوئی شخص باہر سے مسجد میں گیا ہو تو مجھے اس کا علم نہیں۔‘ اپنے ماضی کے موقف کے برعکس مولانا عبدالعزیز نے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی کہ مسجد پر حکومتی آپریشن کے جواب میں خود کش حملے کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز اور ان کے چھوٹے بھائی عبدالرشید غازی کو دہشگردی اور انصاف سے فرار کے الزامات سمیت بیس مختلف مقدمات میں بطور ملزم نامزد کیا جا چکا ہے۔
|