برقعہ میں فرار: حمایت میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرار ہونے کے لیے مولانا عبدالعزیز کی برقعہ اوڑھ کر جانے کی کوشش نے ان کے حامیوں کے عزم کو متزلزل کردیا ہے۔ حکومتی آپریشن کے بعد پاکستان کے کئی علاقوں میں لال مسجد کے حق میں مختلف مدارس کے علماء اور طالبان کی جانب سے مظاہرے کیے گئے تھے۔ لال مسجد کے حق میں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے صوبہ سرحد میں ہوئے تھے۔ ضلع سوات میں کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے آپریشن بند نہ ہونے کی صورت میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور گزشتہ روز ان کے درجنوں مسلح افراد سڑکوں پر گشت کرتے رہے لیکن جمعرات کو زیادہ تر لوگ گھروں کو لوٹ گئے۔ مولانا فضل اللہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئےان کے برقعہ میں فرار ہونےکی کوشش کوتنقید کا نشانہ بنایا۔ انکا کہنا تھا کہنا ’مولانا عبدالعزیز کا یہ طریقہ کار مجھے بالکل پسند نہیں آیا بلکہ میں تو چاہ رہا تھا کہ وہ آخری سانس تک مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے۔اگر وہ شہید ہوتے تو اس کا کافی زیادہ اثر ہوتا‘۔ تاہم مولانا فضل اللہ کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی مولانا عبدالعزیز کی حمایت کرتے ہیں لیکن انکی اس طرح کی گرفتاری کے بعد نیا لائحہ عمل اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔
سکیورٹی فورسز اور لال مسجد کے طلباء کے تصادم میں ہلاک ہونے والوں میں سے دو طالب علموں کا تعلق صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ سے بتایا جاتا ہے۔اٹھارہ سالہ ذاکراللہ کو ان کے چچا مراد خان نے دو سال پہلے خود جامعہ حفصہ میں داخل کروایا تھا لیکن آج وہ ان کی لاش کو چارسدہ واپس لائے ہیں۔ مراد خان سے پوچھا گیا کہ انہیں مولانا عبدالعزیز کا گرفتار ہونا کیسا لگا؟ ’میں نے جب اخبار میں مولانا عبدلعزیز کی برقعے میں گرفتاری کی خبر دیکھی تو مجھے بہت برا لگا کیونکہ انہوں نے پرائے بچوں کو تو میدان جنگ میں چھوڑدیا اور خود بھاگ گئے۔ جب انکا مشن پورا نہیں ہوا تھا تو وہ بھاگ کیوں رہے تھے‘۔ چارسدہ ہی میں بدھ کو جامعہ رشیدیہ کے مہتمم مولانا تحمیداللہ کی سربراہی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا تھا اور انکا دعوی ہے کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے لال مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔
انکا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کی برقعہ میں گرفتاری نے انہیں مایوس کردیا ہے ۔انکے بقول’ ایسا کرنا انکے کے لیے مناسب نہیں تھا کیونکہ میں گزشتہ چھ ماہ سے ان کے ساتھ رابطے میں ہوں اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم شریعت نافذ کرنے کے لیے یہ کریں گے وہ کریں گے لیکن جب مقابلے کا وقت آیا تو وہ بھاگ گئے‘۔ انکا مزید کہنا تھا کہ’ مذہبی لباس پہننے والا اگر زنانہ لباس میں فرار ہونے کی کوشش کرے تو یہ مسلمانوں کی توہین کرنے کے مترادف ہے‘۔ تاہم مولانا عبدالعزیز نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر ہونے والے کشت خون سے بچنے کے لیے برقعہ اوڑھ کر فرار ہونے کا راستہ اختیار کیا۔ | اسی بارے میں ’برقعےمیں گرفتاری باعثِ شرم ہے‘05 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ایک صحافی ہلاک03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد فائرنگ اڑسٹھ زخمی03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: طلباء نے چینی اغوا کر لیے23 June, 2007 | پاکستان لال مسجد: مغوی رہا کر دیے گئے23 June, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: کارروائی کا امکان بڑھ گیا20 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||