’برقعےمیں گرفتاری باعثِ شرم ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کی برقعہ میں گرفتاری تمام دینی علماء کے لیے ایک باعث شرم عمل ہے۔ بی بی سی بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز کے برقعہ میں گرفتاری پر پاکستان کے تمام علماء اور ان سے ہمدردی رکھنے والے افراد انتہائی برہم ہیں اور وہ انکے اس عمل پر شرمندہ ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے تمام علماء نے مولانا عبدالعزیز اور انکے بھائی عبدالرشید غازی کو قائل کرنے کو شش کی تھی کہ وہ ہتھیار پھینک کر باعزت طریقے سے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کردیں۔انکے مطابق اسلام آباد کے تمام علماء نے ایک اجلاس کے دوران تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ حکومت آپریشن کا حتمی فیصلہ کرچکی ہے اور اس سلسلے میں سکیورٹی فورسز نے لال مسجد کا مکمل محاصرہ کرلیا ہے لہذا بڑے پیمانے پر پہنچنے والےنقصانات سے بچنے کے لیے واحد راستہ دونوں بھائیوں کو اس بات پر راضی کرنا ہے کہ وہ گرفتاری پیش کردیں۔
مولانا کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ گرفتاری کے بعد دونوں بھائیوں کو باعزت طریقے سے رکھا جائے گا۔انکے بقول مذاکرات کے دوران علماء نے مولانا عبد العزیز اور عبدالرشید غازی کے سامنے تجاویز رکھی کہ یا تو وہ گرفتاری پیش کریں یا پھر لال مسجد اور ملحقہ مدرسہ خالی کر کے اسےعلماء کے حوالے کر دیا جائے جو بعد میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد انہیں واپس کر دیا جائے گا۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ انکے مدرسے پر اسلام آباد کا کوئی اور دینی عالم قبضہ نہیں کرے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ دونوں بھائیوں نے بعض معاملات پر لچک پیدا کرنے کا عندیہ تو دیا تاہم گرفتاری پیش کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔انکے مطابق مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی نے ان تجاویز پر غور کرنے کے لیے کچھ دیر تک کے لیے مہلت مانگی اور ہم اب جواب کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ بیس منٹ کے بعد یہ خبر آئی کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا جس پر بقول انکے تمام علماء شرمندہ ہوگئے۔ قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ لال مسجد کی صورتحال سے یہ بات بھی سامنےآئی ہے کہ متحدہ مجلس عمل کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ کا طریقہ کار بالکل درست ہے جبکہ آئین سے ماوراء طاقت کے ذریعے شرعی نظام کے نفاذ کا طریقہ اپنانے کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ |
اسی بارے میں مولانا عبدالعزیز برقعے میں فرار ہوتے ہوئے گرفتار04 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: گن شپ ہیلی کاپٹروں نے کارروائی شروع کر دی05 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: طاقتور دھماکوں، فائرنگ کی آوازیں04 July, 2007 | پاکستان ’زیادہ مزاحمت نہیں کر سکیں گے‘05 July, 2007 | پاکستان تشدد نہ کرنے والوں کیلیے عام معافی04 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||